حکومتِ آزاد جموں کشمیر نے پنشنرز کو تصدیق کے روایتی اور مشکل مراحل سے بچانے کے لیے نادرا کے اشتراک سے پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل ’پروف آف لائف‘ سرٹیفکیٹ کی مفت سہولت متعارف کروا دی ہے۔
وزیرِ اعظم آزاد جموں کشمیر افتخار گیلانی کی عوامی سہولت اور اصلاحاتی پالیسی کے تحت اس جدید نظام پر عملدرآمد کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پنشنرز کی بائیومیٹرک تصدیق اب نادرا کرے گا، نیا طریقہ کار نافذ ؟
اس اقدام کا بنیادی مقصد حکومتی امور میں شفافیت لانا اور عام شہریوں کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔ وزیرِ اعظم نے حال ہی میں تمام سرکاری محکموں کو اصلاحاتی ایجنڈے پر تیزی سے کام کرنے کا ٹاسک دیا تھا۔
بائیومیٹرک تصدیق سے زندگی کا ثبوت
نئے طریقہ کار کے تحت نادرا نے اپنی پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے پنشنرز کے لیے یہ شاندار ڈیجیٹل سہولت پیش کی ہے۔ اب بزرگ شہری گھر بیٹھے انتہائی محفوظ بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے اپنی زندگی کی تصدیق کروا سکیں گے، جس کے لیے ان سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
محکموں کو ڈیٹا فراہمی کی ہدایات
اس جدید نظام کو فوری فعال بنانے کے لیے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے آزاد کشمیر کے تمام سرکاری، نیم سرکاری اور خود مختار اداروں کو ہدایات نامہ جاری کر دیا ہے۔ مراسلے میں تمام محکموں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے پنشنرز کو ’نیشنل پنشن رجسٹر‘ میں فوری طور پر درج کریں۔
نادرا کے ساتھ اشتراک اور فوکل پرسنز کی تعیناتی
نئے نظام پر عمل درآمد کے لیے محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نادرا کے ساتھ کوائف کے تبادلے کے لیے اپنا اپنا فوکل پرسن مقرر کریں۔ پنشنرز کے شناختی کارڈ نمبرز نادرا کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ انہیں اس نئے ڈیجیٹل نیٹ ورک کا باقاعدہ حصہ بنایا جا سکے۔
ڈیجیٹلائزیشن کے ثمرات
حکومت کے اس بروقت اور اہم اقدام سے نہ صرف بزرگ شہریوں کو تصدیق کے مشکل اور تھکا دینے والے روایتی مراحل سے نجات ملے گی بلکہ سرکاری سطح پر پنشنرز کے ریکارڈ کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
مزید پڑھیں:حکومت کا پنشن نظام ڈیجیٹل بنانے کا فیصلہ، اب پنشنرز کو رقم وصول کرنے سے پہلے کیا کرنا ہوگا؟
نیشنل پنشنرز ویریفکیشن سسٹم کے مؤثر نفاذ سے ڈیٹا محفوظ ہو گا اور مستقبل میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگیوں کا راستہ مکمل طور پر روکا جا سکے گا۔












