کوئٹہ کے نواحی علاقے کچلاک میں کم سن بچی کے ضعیف العمر شخص سے نکاح کے معاملے پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوٹس لے لیا۔
ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی کے مطابق کم سن بچی ببو کے والد عبدالباری کو چمن سے گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ ایف آئی آر کے اندراج اور گرفتار ملزم کی حوالگی کے لیے کوئٹہ پولیس سے رابطہ کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 13 سالہ کمسن بچی کی زبردستی شادی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، فوری بازیابی کا مطالبہ
ڈپٹی کمشنر چمن نے بتایا کہ واقعے کی کڑیاں کچلاک میں 15 سالہ بچی کے قتل کے واقعے سے ملتی ہیں۔
معاون وزیراعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند کے مطابق مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم سن بچی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے میں ملوث کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
شاہد رند نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ بچی کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کو مؤثر اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے گی اور کم سن بچی سے متعلق معاملے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان میں جبری شادی کا منصوبہ ناکام، 2 کم سن بچیاں بازیاب
معاون اطلاعات بلوچستان کے مطابق پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو مرکزی ملزم سمیت دیگر ممکنہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ تحقیقات میں سامنے آنے والے تمام حقائق کو قانون کے مطابق دیکھا جائے گا۔
شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان حکومت بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے اور کم سن بچوں کے حقوق اور تحفظ کے معاملے پر حکومت بلوچستان کی واضح اور دوٹوک پالیسی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں انسداد کم عمری کی شادی کا قانون موجود ہے۔













