گوگل نے مصنوعی ذہانت کا نیا ماڈل جیمینائی 3.8 لائیو متعارف کرا دیا ہے، جس میں لائیو اواتار کی سہولت شامل کی گئی ہے، یہ ٹیکنالوجی صارفین کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ حقیقی وقت میں زیادہ جاندار اور بصری انداز میں گفتگو کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
گوگل نے 24 ستمبر کو جیمینائی 3.8 لائیو جاری کیا، جس میں قریباً حقیقی وقت میں ویڈیو تیار کرنے اور آواز کو یکجا کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل جیمینائی کی سروسز میں تکنیکی خرابی، دنیا بھر میں ہزاروں صارفین متاثر
نئے لائیو اواتار فیچر کے ذریعے مصنوعی ذہانت سننے، دیکھنے اور متحرک بصری کردار کے ذریعے جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس میں ہونٹوں کی گفتگو کے ساتھ درست ہم آہنگی، قدرتی چہرے کے تاثرات اور گفتگو کے دوران زیادہ ہموار انداز میں باری لینے کی صلاحیت شامل ہے۔
گوگل کے مطابق یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر کاروباری اداروں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اپنی ورچوئل خدمات کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔ اس کے ممکنہ استعمال میں صارفین کی خدمت، انٹرایکٹو مظاہرے اور ڈیجیٹل رہنمائی شامل ہیں۔
View this post on Instagram
گوگل کے مطابق گفتگو پر مبنی مصنوعی ذہانت کو بصری اواتار کے ساتھ جوڑنے سے ڈیجیٹل رابطے زیادہ جاندار اور قابل رسائی ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل جیمینائی میں ’پرسنل انٹیلیجنس‘ فیچر متعارف، ایپل کے لیے نیا چیلنج
گوگل کی مصنوعی ذہانت کی نئی پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کمپنی نے آواز سے متعلق 2 دیگر مصنوعی ذہانت کے ماڈلز بھی متعارف کرائے ہیں۔ بدھ کو گوگل نے جیمینائی 3.8 فلیش ٹی ٹی ایس اور جیمینائی 3.8 فلیش لائٹ ٹی ٹی ایس متعارف کرائے، جنہیں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ آواز کو بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
گوگل ڈیپ مائنڈ کے سربراہ کورے کاوکوچوگلو نے بھی بتایا ہے کہ کمپنی اپنے اگلے فلیگ شپ ماڈل جیمینائی 4 کی ریلیز کے قریب پہنچ رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مسابقت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے اور اوپن اے آئی اور اینتھروپک سمیت کئی کمپنیاں جدید ماڈلز متعارف کراکے مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں اور گفتگو کے تجربے کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپس میں جیمینائی اے آئی نے اسسٹنٹ کی جگہ لے لی
جیمینائی 3.8 لائیو ماڈل فی الحال جیمینائی انٹرپرائز کے ذریعے دستیاب ہے۔














