پولیس خدمت مراکز پنجاب پولیس کا شہری سہولت پر مبنی فلیگ شپ منصوبہ ہے جس کا مقصد پولیس اسٹیشن سے متعلق خدمات ایک ہی چھت کے نیچے شفاف، تیز رفتار اور باعزت انداز میں فراہم کرنا ہے۔ یہ مراکز شہریوں کو روایتی تھانہ کلچر کی الجھن، تاخیر اور بار بار چکر لگانے کی زحمت سے بچانے کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز پنجاب کے لیے بہترین منصوبے دیتی ہیں تو بہترین جہاز کیوں نہ خریدیں؟ خواجہ عمران نذیر
ان مراکز کا بنیادی تصور یہ تھا کہ کریکٹر سرٹیفیکیٹ، پولیس ویریفیکیشن، کرایہ داری کا اندراج، ایف آئی آر کی نقل، گمشدہ دستاویزات کا اندراج، گاڑیوں کی تصدیق اور دیگر پولیس سروسز کے حصول کے لیے عام شہری کو تھانے جانے کے بجائے مخصوص مراکز پر سہولت فراہم کی جائے۔
صوبائی سطح پر اس منصوبے کو وسعت دینے کا فیصلہ سنہ 2017 میں کیا گیا جب اس وقت کے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے پنجاب کے 36 اضلاع میں خدمت مراکز قائم کرنے کی منظوری دی۔ اس وقت چند اضلاع میں یہ سہولت پہلے ہی فراہم کی جا رہی تھی جبکہ ملتان میں اپنی نوعیت کا پہلا منظم پولیس خدمت مرکز بھی اسی دور میں فعال ہوا۔ عوام کی جانب سے اس سہولت کی پذیرائی کے بعد اسے دیگر اضلاع تک پھیلانے کا عمل تیز کر دیا گیا۔
اس منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ شہری اپنے گھر کے قریب ون ونڈو نظام کے تحت پولیس سے متعلق کام کروا سکیں اور مقررہ وقت میں مطلوبہ دستاویز حاصل کر سکیں۔ بعد ازاں ان مراکز کو باہم مربوط کر دیا گیا تاکہ شہریوں کو صرف اپنے آبائی ضلع جانے کی مجبوری نہ رہے اور پولیس کی خدمات زیادہ وسیع پیمانے پر دستیاب ہوں۔
وقت کے ساتھ ساتھ ان مراکز میں ڈیجیٹل نظام، آن لائن ٹریکنگ، کمزور طبقات کے تحفظ اور 24 گھنٹے سہولت جیسی توسیعات بھی شامل کی گئیں۔
مزید پڑھیے: پنجاب کے 52 شہروں میں ترقیاتی منصوبے تیزی سے جاری، عظمیٰ بخاری
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق اب یہی منصوبہ صوبے بھر میں جدید اور ڈیجیٹل پولیس سروسز کی فراہمی کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ رواں سال اب تک 37 لاکھ 59 ہزار سے زائد شہری خدمت مراکز سے مختلف خدمات حاصل کر چکے ہیں۔
ان میں 13 لاکھ 29 ہزار سے زائد شہریوں نے جنرل پولیس ویریفیکیشن کروائی جبکہ 7 لاکھ سے زائد افراد کو پولیس کریکٹر سرٹیفیکیٹ جاری کیے گئے۔ اسی طرح 10 لاکھ 45 ہزار سے زائد شہریوں نے کرایہ داری کا اندراج کروایا جبکہ ایک لاکھ 47 ہزار سے زائد افراد نے میڈیکو لیگل سرٹیفیکیٹس حاصل کیے۔
کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے جاری اقدامات کے تحت 84 ہزار سے زائد افراد کو قانونی اور سماجی تحفظ فراہم کیا گیا۔ گاڑیوں کی تصدیق کے لیے 26 ہزار سے زائد شہریوں نے وہیکل ویریفیکیشن کروائی جبکہ 74 ہزار سے زائد افراد نے گمشدہ دستاویزات کا اندراج کرایا اور 2 ہزار 565 شہریوں نے جرائم رپورٹ رجسٹر کروائی۔
ایف آئی آر کی نقول کے حصول کے لیے 2 لاکھ 33 ہزار سے زائد شہری خدمت مراکز آئے جبکہ خواتین کے خلاف تشدد کی 60 رپورٹس بھی درج کی گئیں۔
ملازمین کے اندراج کے نظام آر او پی ای کے تحت ایک لاکھ 5 ہزار سے زائد شہریوں نے رجسٹریشن کروائی جبکہ 3 ہزار 53 افراد نے نجی ملازمت کے لیے پولیس ویریفیکیشن حاصل کی۔
آئی جی پنجاب عبدالکریم کے مطابق پولیس خدمت مراکز پبلک سروس ڈلیوری کا شاندار فلیگ شپ منصوبہ ہیں جہاں شہریوں کو چوبیس گھنٹے سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: ہر گاؤں مثالی گاؤں: پنجاب کے مزید 7500 دیہات میں معیار زندگی بہتر بنانے کے منصوبے کی منظوری
انہوں نے ہدایت کی کہ خدمت مراکز، تھانوں اور عوامی مقامات پر شہریوں کے ساتھ شائستہ اور مہذب رویہ اختیار کیا جائے اور بروقت خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کا پولیس پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔













