آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا معاملہ جلد حل کرلیں گے، اسپیکر طارق فاروق

ہفتہ 3 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسپیکر آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ افتخار گیلانی نوجوان سیاسی رہنما ہیں اور انہوں نے ماضی میں بحیثیت وزیر ڈیلیور کرکے دکھایا، ریاست میں ایکشن کمیٹی کا معاملہ جلد حل کرلیں گے۔

وی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں چوہدری طارق فاروق نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات، حکومت سازی، اپنی بطور اسپیکر نامزدگی، وزیراعظم کے 100 روزہ منصوبے، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات، کشمیر کونسل، بھارت کی پالیسی اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت سمیت مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی۔

مین آف دی میچ‘ کا تاثر درست نہیں

اپنی کامیابی اور حکومت سازی میں کردار کے حوالے سے چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ یہ اللہ کی کرم نوازی ہے اور وہ اپنی پارٹی اور قائد نواز شریف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے پارٹی کو مکمل اونرشپ دی۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کے اعتماد کے نتیجے میں انہیں یہ ذمہ داریاں ملیں اور یہ عہدے عوام کی خدمت کے لیے ہوتے ہیں۔ ان کے بقول قیادت کا اعتماد اور پارٹی کی اونرشپ ہی آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ آزاد کشمیر کی سیاست میں وہ ’مین آف دی میچ‘ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:یومِ دفاع پاکستان پر مظفرآباد میں دفاعی نمائش، قائم مقام صدر طارق فاروق اور وزیراعظم افتخار گیلانی کا مختلف اسٹالز کا معائنہ

چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ ان کا کسی کے ساتھ ایسا کوئی میچ نہیں پڑا۔ راجا فاروق حیدر ان سب میں عمر، عہدے اور مقام کے لحاظ سے سینیئر ہیں اور 2 مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں، جبکہ باقی لوگ ایک ہی سطح پر دوست اور ایک ٹیم کی طرح کام کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ وہ پہلے مسلم کانفرنس میں اکٹھے کام کرتے رہے اور 2010 کے بعد مسلم لیگ (ن) میں بھی ساتھ کام کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض دوستوں کے ساتھ طویل عرصے تک کام کرنے اور تربیتی کورسز میں ایک ساتھ جانے سے قربت پیدا ہوجاتی ہے، دنیا اسے جو نام دینا چاہے دے سکتی ہے۔

پارٹی کے اندر اختلافات اور شاہ غلام قادر کی ناراضی کے حوالے سے سوال پر اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی نے کہا کہ شاہ غلام قادر نے پارٹی کی کامیابی کے لیے محنت اور کوشش کی  اور وہ اب بھی جماعت کے صدر ہیں۔

انہوں نے کہاکہ افتخار گیلانی کی وزیراعظم نامزدگی پر شاہ غلام قادر نے جس جگہ اور جس انداز میں نے اپنی بات رکھی وہ مناسب نہیں تھا۔ ان کے مطابق شاہ غلام قادر اب بھی ان کے دوست ہیں اور وہ انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ ناراضی کے بجائے اپنوں سے گلہ ہوتا ہے اور وہ گلہ اپنی جگہ ہوسکتا ہے، تاہم ملاقاتیں اور مصافحے ہوچکے ہیں اور انہیں نہیں لگتا کہ یہ گلے دلوں میں باقی رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بعض اوقات بڑی ذمہ داری کا آپ پر نہ آنا بھی ایک نعمت ہوتی ہے، کیونکہ آدمی اپنا کام بہتر طریقے سے کرتا رہتا ہے، تاہم اب وزیراعظم، پارٹی صدر اور دیگر سینیئر ساتھی اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

وزیراعظم، صدر اور اسپیکر کی نامزدگی کا فیصلہ قیادت کا تھا

اپنی، وزیراعظم اور صدر آزاد کشمیر کی نامزدگی میں مریم نواز یا نواز شریف کے کردار سے متعلق سوال پر چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ فیصلہ پارٹی قیادت کا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی صدر نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف پارٹی کی قیادت کا حصہ ہیں، جبکہ مریم نواز پارٹی کی چیف آرگنائزر ہیں۔ قیادت جس شخص کو جس ذمہ داری کے لیے موزوں سمجھتی ہے اسے وہ ذمہ داری دی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں:آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہونے والے چوہدری طارق فاروق کون ہیں؟ کیریئر پر ایک نظر

انہوں نے کہاکہ پارٹی کے تمام کارکن قیادت کے لیے یکساں ہوتے ہیں، تاہم قیادت کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ کس کو کس مقام پر ذمہ داری دینی ہے۔ ان کے مطابق حتمی فیصلہ نواز شریف کا تھا۔

7 حلقوں میں انتخابات نہ ہونا آئینی عمل میں رکاوٹ نہیں

آزاد کشمیر کے انتخابات پر اعتراضات اور 7 حلقوں میں پولنگ نہ ہونے سے متعلق سوال پر چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ انتخابات سے قبل آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری آئینی طریقہ کار کے تحت ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ بعض علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں، اس لیے ان علاقوں کو چھوڑ کر باقی علاقوں میں انتخابات کرائے جائیں۔

ان کے مطابق باقی علاقوں میں انتخابات ہوئے اور معمولی نوعیت کی ناراضیاں اور تلخیاں ہر انتخاب میں ہوتی ہیں، تاہم بڑے پیمانے پر ایسی کوئی صورتحال پیدا نہیں ہوئی جس سے انتخابات کی ساکھ متاثر ہو۔

چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ سات حلقوں میں انتخابات نہیں ہوسکے تو وہ بھی ہوجائیں گے اور جلد کرائے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں انتخابات نہیں ہوئے وہاں کسی سیاسی جماعت یا حکومت نے کشمیری عوام کا حقِ نمائندگی سلب نہیں کیا۔ ان کے مطابق بعض علاقوں میں حالات خراب ہونے کی صورت میں دنیا کے مختلف ممالک میں بھی آئینی عمل جاری رہتا ہے اور جنگوں کے دوران بھی انتخابات ہوتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں آئین، قانون اور روایات کے مطابق آگے بڑھا گیا اور کسی جگہ آئین کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مسئلہ جلد حل ہوجائے گا

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور عوامی شکایات کے حل سے متعلق چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ مسئلہ موجود ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا، تاہم اب بحث اس بات پر نہیں ہونی چاہیے کہ مطالبات کا جواز کتنا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اب آزاد کشمیر میں سیاست سے آگے بڑھ کر ریاست اور عوام کی خدمت کا وقت ہے، چوہدری طارق فاروق

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اس معاملے میں موجود ہیں وہ آزاد جموں  کشمیر کے باسی ہیں اور ان میں مختلف خیالات اور نظریات رکھنے والے لوگ شامل ہیں، اس لیے انہیں ایک سطح پر لانا بھی ایک چیلنج ہے۔

چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ حکومت میڈیا میں آئے بغیر اس معاملے پر کام کر رہی ہے اور جلد قوم کو اچھی خبر سننے کو ملے گی۔

ان کے مطابق مسئلہ انسانی اقدار، ملکی آئین اور عوامی توقعات کے مطابق حل ہوجائے گا۔

افتخار گیلانی کی وزیراعظم نامزدگی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ سیاست میں بعض اوقات مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی پر ٹکٹوں کے حوالے سے نوجوانوں کو موقع دینے کا دباؤ تھا اور مسلم لیگ (ن) نے بڑی تعداد میں نوجوانوں کو موقع دیا، جسے ان کے مطابق اس طرح سراہا نہیں گیا جس طرح سراہا جانا چاہیے تھا۔

چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ وہ خود 20 سے 30 سال سے سیاست میں ہیں، اسی طرح شاہ غلام قادر اور ڈاکٹر نجیب نقی سمیت کئی لوگ دہائیوں سے سیاست میں کام کررہے ہیں، تاہم نئے چہروں کو بھی سامنے آنا چاہیے۔

ان کے مطابق پاکستان اور آزاد کشمیر دونوں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد اہم پوزیشن رکھتی ہے اور ان کے مسائل اور صلاحیتوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

ٹیکنوکریٹ وزیراعظم بننا کوئی غیر معمولی بات نہیں

وزیراعظم آزاد کشمیر کے ٹیکنوکریٹ نشست پر آنے کے حوالے سے چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ پاکستان میں بھی ٹیکنوکریٹس وزیراعظم بنتے رہے ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک میں بھی مالی، دفاعی، سیکیورٹی اور گورننس کے معاملات حل کرنے کے لیے ماہرین کو حکومت میں شامل کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مظفرآباد کے رہنے والے، اچھے خاندان سے تعلق رکھنے والے اور پڑھے لکھے شخص ہیں، اس لیے ان کے وزیراعظم بننے پر دل بڑا کرنا چاہیے۔

اپنی وزیراعظم کے ساتھ دوستی کے حوالے سے چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ دونوں کی عمر میں واضح فرق ہے اور ان کی دوستی عمر کی بنیاد پر نہیں بلکہ علمی تعلق کی وجہ سے ہے۔

مزید پڑھیں:پیپلز پارٹی نے مہاجرین کی نشستیں ختم کروانے کے لیے ایکشن کمیٹی کو استعمال کیا، چوہدری طارق فاروق

ان کے مطابق وہ اور وزیراعظم مختلف تربیتی کورسز کے لیے واشنگٹن، برسلز، کیمبرج، آکسفورڈ سمیت مختلف مقامات پر جاتے رہے ہیں۔

100 روزہ منصوبہ: ’دنیا سے کام مخفی نہیں رہ سکتا‘

وزیراعظم آزاد کشمیر کے 100 روزہ منصوبے پر عملدرآمد کے حوالے سے سوال پر اسپیکر نے کہا کہ کوئی کام دنیا سے مخفی نہیں رہ سکتا اور خاص طور پر میڈیا کی موجودگی میں تو ایسا ممکن نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انتخابی مہم کے دوران عوام سے وعدہ کیا گیا تھا کہ پنجاب میں گورننس اور ترقی کا جو ماڈل ہے اسے آزاد کشمیر میں نافذ کیا جائے گا۔

چوہدری طارق فاروق کے مطابق پنجاب ایک بڑا صوبہ ہے جبکہ آزاد کشمیر تقریباً 4 ہزار مربع میل پر مشتمل خطہ ہے اور اس کے 10 اضلاع ہیں، اس لیے پنجاب کے گورننس ماڈل کو آزاد کشمیر میں نافذ کرنے کے لیے کام کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت نے اس ماڈل کی تیاری میں مدد کی جبکہ فنڈز پاکستان کی حکومت فراہم کر رہی ہے۔ان کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے فنڈز کی فراہمی کے لیے فراخدلی کا مظاہرہ کیا۔

چوہدری طارق فاروق نے بتایا کہ ابتدائی طور پر 15 ارب روپے فراہم کیے جاچکے ہیں اور اس منصوبے کے تین مراحل ہیں، جن میں ابتدائی 100 روز، درمیانی مدت اور طویل المدت منصوبہ شامل ہیں۔ ان کے مطابق آئندہ 3 سے 4 برسوں میں تقریباً 80 ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر کی استعداد کار بڑھانے کے لیے بھی کام کیا جارہا ہے اور بیوروکریسی، انجینیئرز اور دیگر متعلقہ افراد کی تربیت کے لیے پنجاب حکومت اور وفاق سے مدد لی جارہی ہے۔

چوہدری طارق فاروق نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف جلد آزاد کشمیر کا دورہ کریں گے اور اس حوالے سے باقاعدہ تقریب بھی ہوسکتی ہے۔

نواز شریف کی نگرانی کو مثبت قرار دے دیا

نواز شریف کی جانب سے ہر تین ماہ بعد آزاد کشمیر آکر کارکردگی رپورٹ لینے کے اعلان کے حوالے سے چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ قیادت کا حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھنا اچھی بات ہے۔

انہوں نے نواز شریف کو موٹرویز کے منصوبوں کے حوالے سے بھی سراہا اور کہا کہ پوری دنیا ایک آدمی کی دور اندیشی کو تسلیم کرتی ہے۔

چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ اگر نواز شریف آزاد کشمیر میں رہنمائی اور نگرانی کررہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ انہوں نے اس کی مثال والدین کی نگرانی سے دیتے ہوئے کہا کہ جن بچوں کے والدین ان پر نظر رکھتے ہیں وہ بہتر طور پر آگے بڑھتے ہیں۔

بھارت کے حوالے سے پاکستان کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے

بھارت کی جانب سے مبینہ فالس فلیگ آپریشن کے خدشات سے متعلق سوال پر چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ پاکستان بننے کے بعد سے بھارت نے پاکستان، آزاد کشمیر یا کشمیری عوام کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے اس نوعیت کی کوششیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں، تاہم بھارت کشمیریوں کے دل نہیں جیت سکا۔

انہوں نے حالیہ جنگ اور ابھی نندن کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت الزامات لگاتا ہے مگر ان کے پاس ثبوت موجود نہیں ہوتے۔

چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کی دفاعی صلاحیت، قیادت اور فیلڈ مارشل کی تعریف کے تناظر میں بھارت کے لیے یہ صورتحال مشکل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور نئی علاقائی شراکت داری کی بنیاد ہے، چوہدری طارق فاروق

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے شرارت کا امکان مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، اس لیے پاکستان کو چوکس رہنا چاہیے۔ تاہم ان کے مطابق موجودہ حالات میں بھارت کے لیے بڑے پیمانے پر کسی کارروائی کی گنجائش نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت پہلے سے زیادہ چوکس اور باخبر ہے اور ملک کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کررہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حقِ خودارادیت ملنا چاہیے

مقبوضہ کشمیر کے عوام کے نام پیغام دیتے ہوئے اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی نے کہا کہ انسانی حقوق اور سیاسی حقوق کے لیے گنجائش ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کا معاملہ سادہ ہے، تاہم دنیا طویل عرصے تک تجارت اور اپنے مفادات کے گرد گھومتی رہی اور مختلف علاقوں میں ہونے والی انسانی زیادتیوں کو اس طرح نہیں دیکھا گیا جس طرح دیکھنا چاہیے تھا۔

چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ انہیں حال ہی میں عمر عبداللہ کی اسمبلی میں کی گئی تقریر سننے کا موقع ملا، جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر اور لداخ کو یونین ٹیریٹریز بنانے اور بھارتی اقدامات پر بات کی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال دنیا کے لیے سوچنے کا مقام ہے۔

چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کے طور پر نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے عوام کے نمائندے کے طور پر بات کررہے ہیں، جنہیں ابھی تک حقِ خودارادیت کا موقع نہیں ملا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حقِ خودارادیت کا موقع ملنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اللہ کے فضل و کرم سے مضبوط ہے اور معاشی طور پر بھی آگے بڑھنے کی کوشش کررہا ہے، جبکہ دنیا پاکستان کی صلاحیتوں کو تسلیم کررہی ہے۔

چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ ان کے اسلاف نے پاکستان کے ساتھ چلنے اور پاکستان کا حصہ بننے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ درست تھا، اس لیے کشمیریوں کو قانونی اور آئینی طریقے سے پاکستان کا حصہ بننے کا موقع ملنا چاہیے اور اس کے لیے حقِ خودارادیت ضروری ہے۔

مزید پڑھیں:مسلم لیگ ن کے چوہدری طارق فاروق آزاد کشمیر اسمبلی کے اسپیکر ، احمد رضا قادری ڈپٹی اسپیکر منتخب

انہوں نے کہاکہ اگر کشمیریوں کو یہ حق نہ دیا گیا تو دنیا میں طاقت کے ذریعے حق لینے کا نظریہ مزید تقویت پکڑ سکتا ہے، جس کی ذمہ داری ان طاقتوں پر ہوگی جو خود کو انصاف اور انسانی حقوق کا علمبردار قرار دیتی ہیں۔

اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کے ساتھ ہونے والے سلوک اور خطے میں اقلیتوں کی صورتحال پر دنیا کو توجہ دینی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے سفیر کے طور پر دنیا کے سامنے ان کا مقدمہ پیش کریں گے اور حق خودارادیت کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ کشمیریوں کے پاس حق خودارادیت کے مطالبے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں اور اگر کوئی دوسرا راستہ ہے تو کشمیریوں سے اس پر بات کی جائے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان معاشی، دفاعی اور ادارہ جاتی طور پر جتنا مضبوط ہوگا، کشمیر کا مسئلہ بھی حل کے قریب آتا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp