فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سوشل میڈیا کریئیٹرز کی آمدنی پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے نیا طریقہ کار متعارف کرادیا جس کے تحت یوٹیوب سے ہر ایک ہزار ویوز سے 195 روپے (0.71 ڈالر) آمدن کو بطور معیار استعمال کیا جائے گا۔
عرب نیوز کے مطابق اس نئے ’بینچ مارک‘ یا طریقہ کار کا مقصد تیزی سے پھیلتی ڈیجیٹل معیشت کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں لانا ہے۔ نئے نظام کے تحت صرف وہ سوشل میڈیا مواد ٹیکس کے دائرے میں آئے گا جس سے آمدن حاصل ہورہی ہو، محض ویوز حاصل کرنے والے غیرمنافع بخش مواد پر یہ طریقہ لاگو نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی اکثریت سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر مجوزہ 5 فیصد ٹیکس کی حامی نکلی
وفاقی ادارہ محصولات کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق سوشل میڈیا سے آمدن کمانے والے افراد اپنی آمدن کا حساب کرتے وقت اخراجات کی مد میں زیادہ سے زیادہ 30 فیصد رقم منہا کرسکیں گے۔
حکام کے مطابق یوٹیوب کے لیے 195 روپے فی 1000 ویوز کا معیار مقرر کیا گیا ہے۔ ٹیکس کے لیے اس رقم کو مجموعی ویوز کو 1000 پر تقسیم کرکے حاصل ہونے والی تعداد سے ضرب دی جائے گی۔ تاہم اگر کسی مواد سے حاصل ہونے والی حقیقی آمدن مقررہ معیار سے کم ہو تو تخلیق کار متعلقہ دستاویزات پیش کرکے حقیقی آمدن ثابت کرسکتا ہے۔
حکام کے مطابق ایسی دستاویزات میں یوٹیوب یا دیگر پلیٹ فارم کی آمدن رپورٹس، بینک میں موصول ہونے والی رقم سے مطابقت رکھنے والے ادائیگی ریکارڈ، ٹیکس کٹوتی کے سرٹیفکیٹ، تشہیری معاہدے اور رسیدیں شامل ہوسکتی ہیں۔ ٹیکس افسر متعلقہ قانونی اختیارات کے تحت تخلیق کار سے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے آمدن سے متعلق ریکارڈ تک رسائی بھی طلب کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا سے آمدنی پر عائد ٹیکس کی شرح کیا ہوگی؟
نئے طریقہ کار کے تحت صرف نقد رقم ہی آمدن تصور نہیں ہوگی بلکہ کسی مواد کے بدلے مفت ملنے والی اشیا اور تحائف بھی آمدن میں شمار ہوں گے۔ حکام نے تخلیق کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ غیر منافع بخش مواد کے ثبوت کے طور پر پلیٹ فارم کی آمدن رپورٹس، ادائیگی ریکارڈ، بینک اسٹیٹمنٹس اور اسپانسرشپ یا تشہیری معاہدے نہ ہونے کا ریکارڈ محفوظ رکھیں۔
وفاقی ادارہ محصولات کے مطابق نئے طریقہ کار میں الگ سے کوئی ٹیکس شرح مقرر نہیں کی گئی، بلکہ پاکستان کے انکم ٹیکس آرڈیننس کی متعلقہ دفعات کے تحت قابل اطلاق ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا سے آمدن کمانے والوں کو ہر سہ ماہی پیشگی انکم ٹیکس بھی ادا کرنا ہوگا، جبکہ آمدن سالانہ انکم ٹیکس گوشوارے کے مخصوص حصے میں ظاہر کرنا ہوگی۔ اگر ظاہر کی گئی آمدن نئے طریقہ کار کے تحت مقررہ رقم سے کم ہوئی تو متعلقہ ٹیکس افسر گوشوارے میں ترمیم کرکے واجب الادا رقم وصول کرسکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’حکومت نے ٹیکس وصولی کا نیا طریقہ متعارف کرایا ہے‘، محسن نقوی کی اپیل سوشل میڈیا پر مذاق کیوں بنی؟
نئے طریقہ کار کا اطلاق پاکستان میں مقیم ان افراد پر ہوگا جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان میں صارفین سے رابطے کی بنیاد پر آمدن حاصل کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق مقیم افراد کے لیے صارفین کی کم از کم تعداد کی کوئی شرط نہیں رکھی گئی، جبکہ غیر مقیم افراد کے لیے الگ حد مقرر ہے۔
غیر مقیم افراد اس نظام کے تحت اس وقت شامل ہوں گے جب کسی ٹیکس سال کے دوران پاکستان میں ان کے صارفین کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ یا کسی سہ ماہی میں 12 ہزار 250 سے زیادہ ہو۔














