رانچی میں کھیلے گئے میچ میں بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 249 رنز بنائے۔ سنجو سیمسن نے 41 گیندوں پر 82 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جبکہ ایشان کشن نے 43 رنز بنائے۔ شریاس آئیر نے 40 رنز اسکور کیے، جبکہ تلک ورما کے ساتھ مل کر انہوں نے آخری اوورز میں 32 گیندوں پر 83 رنز کی شراکت قائم کی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو فائدہ پہنچانے پر ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ بولر آئی سی سی پر برس پڑے
250 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم ابتدا میں مشکلات کا شکار ہو گئی اور پہلے ہی اوور میں مایانک یادو نے کمل پورن اور شمرون ہیٹمائر کو مسلسل گیندوں پر آؤٹ کر دیا۔ بعد ازاں روومین پاول بھی 24 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
ابتدائی نقصان کے باوجود کپتان شائی ہوپ اور شیرفین ردرفورڈ نے بھارتی بولرز کے خلاف جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے چوتھی وکٹ کے لیے 120 رنز کی فیصلہ کن شراکت قائم کی۔ ردرفورڈ نے 37 گیندوں پر 84 رنز بنائے، جس میں متعدد بڑے شاٹس شامل تھے۔ وہ کلدیپ یادو کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔
دوسری جانب شائی ہوپ نے ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کا امتزاج پیش کرتے ہوئے صرف 45 گیندوں پر ناقابل شکست 102 رنز بنائے۔ انہوں نے روماریو شیفرڈ کے ساتھ مل کر ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔ ویسٹ انڈیز نے مطلوبہ ہدف 18.3 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب پاکستان کے زخمی کھلاڑیوں نے ویسٹ انڈیز کو ڈھیر کیا
میچ کے بعد شائی ہوپ نے کہا کہ بھارت میں ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ہمیشہ واپسی کا موقع موجود رہتا ہے، تاہم 2 رنز پر 5 وکٹیں گرنے کے بعد مقابلے میں برقرار رہنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ ان کے مطابق ردرفورڈ کی شاندار بیٹنگ نے ٹیم کو وہ رفتار فراہم کی جس کی فتح کے لیے ضرورت تھی۔
اس کامیابی کے ساتھ ویسٹ انڈیز نے ٹی 20 بین الاقوامی کرکٹ میں 250 رنز کا ہدف کامیابی سے حاصل کرتے ہوئے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ہدف عبور کیا۔ مردوں کی ٹی 20 بین الاقوامی کرکٹ میں یہ دوسرا بڑا کامیاب رنز کا تعاقب ہے۔ اس سے قبل جنوبی افریقہ نے 2023 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 259 رنز کا ہدف حاصل کیا تھا۔














