صدر پاکستان آصف علی زرداری نے آج صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ فیصلہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات اور امن و امان کی سنگین صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کے مؤثر تدارک کے لیے مطلوبہ عزم اور اقدامات کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ کن وجوہات کی بنا پر ضروری ہو گیا تھا اور آیا وفاقی حکومت اس کے بعد صورتحال کو کنٹرول کر سکے گی؟
تجزیہ کاروں کے مطابق صوبائی حکومت نے گزشتہ 13 سالوں میں گورننس پر کوئی توجہ نہیں دی اور بنیادی طور پاکستان تحریک انصاف کا بیانیہ دہشتگردوں کے بیانیے کی حمایت کرتا ہے۔ اس لیے ایمرجنسی کا نفاذ ضرور تھا۔ تاہم وفاقی حکومت کو اب ایمرجنسی بنیادوں پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے ثابت ہو سکے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کیا نہیں کر رہی تھی۔ دوسری صورت میں وفاقی حکومت کے لیے سیاسی چیلنجر میں اضافہ ہو جائے گا۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کے ورکنگ ریلیشن ختم ہو چکے تھے، احمد بلال محبوب
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی پلڈاٹ کے صدر اور سینیئر سیاسی تجزیہ نگار احمد بلال محبوب نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی بات یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان ورکنگ ریلیشنز ختم ہو چکے تھے۔ صوبے کا وزیر اعلیٰ چیف منسٹر سے چیف ایجی ٹیٹر بن چکا تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر جلسے جلوس کے معاملات تھے تو وہ پارٹی کے صوبائی صدر کے حوالے کر کے خود گورننس پر توجہ دیتا۔ سب سے اہم بات کہ وفاقی حکومت کو دہشتگردی سے جنگ کے لیے صوبائی حکومت سے تعاون نہیں مل رہا تھا اور دوسری طرف صوبائی وزیر اعلیٰ ریاستی وسائل استعمال کر کے وفاقی دارالحکومت پر حملہ آور ہو رہا تھا۔ اس لیے ضروری ہو گیا تھا کہ صوبائی وزیر اعلیٰ کو تبدیل کیا جائے، جو اس کی پارٹی تو نہ کرتی لیکن وفاقی حکومت کو کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ، سہیل آفریدی اور پارٹی قیادت کہاں ہے؟
کیا ایمرجنسی کے نفاذ سے کوئی فائدہ ہو گا، اس سوال کے جواب میں احمد بلال محبوب نے کہا کہ کسی بھی چیز سے پہلے لاگت اور فائدے کا تخمینہ لگایا جاتا ہے اور اب میرے خیال سے وفاقی حکومت اس بات پر قائل ہو گئی ہے کہ لاگت اتنی نہیں جتنا فائدہ ہو سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ پہلے بھی وہاں کونسا کوئی اچھا کام ہو رہا تھا جس کو روک دینے سے کچھ ابتری ہو جاتی۔ اب وفاقی حکومت وہ کام کر سکے گی جو صوبائی وزیر اعلیٰ مزاحمت کر رہا تھا۔ میرے خیال سے آرٹیکل 232 کی بجائے 234 گورنر راج آپشن کو استعمال کیا جائے گا جس کے تحت انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل ہو جاتے ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی معطل ہو جاتی ہے اور اس کے اختیارات قومی اسمبلی کو منتقل ہو جاتے ہیں۔
اب وفاقی حکومت کو دہشتگردوں سے بھی لڑنا پڑے اور سیاسی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑے گا، فخرکاکاخیل
خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی فخرکاکاخیل نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتظامی معاملہ تھا جس کو سیاسی بنا لیا گیا اور میری رائے میں اس سے معاملات اور خرابی کی طرف جائیں گے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کبھی تحریک سے نکل کر سیاسی جماعت نہیں پائی۔ اس جماعت میں سیاسی کلچر نام کی چیز نہیں۔ یہ جب حکومت میں تھے تب بھی اپوزیشن کرتے تھے اور اپوزیشن میں تو اپوزیشن کرتے ہی ہیں۔ ہر وقت دھرنے، احتجاج، چیخ و پکار۔ دوسرا اس جماعت کا المیہ یہ ہے کہ اس میں دوسرے درجے کی کوئی سیاسی قیادت موجود ہیں نہیں۔ جب میاں نواز شریف باہر تھے تو ان کے پارٹی معاملات دوسری قیادت چلا رہی تھی جبکہ پاکستان تحریک انصاف اور ایم کیو ایم فرد واحد کی سیاسی جماعتیں تھیں اور ان میں سیاسی کلچر نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس میں خیبر پختونخوا کی مخدوش سیکیورٹی پر رپورٹ پیش
خیبرپختونخوا میں انتظامی معاملات میں خرابی کی اس سے بڑی مثال کیا ہو گی کہ بنوں میں ایک کانسٹیبل ڈی آئی جی کو ٹرانسفر کروا رہا تھا۔ صوبے کی پولیس ڈیمورلائزڈ، چیف سیکریٹری معاملات سے لاتعلق اور آئی جی بھی ایک طرف ہو کے بیٹھ گیا۔ خیبرپختونخوا کے حالات تو بلوچستان سے بھی برے ہیں لیکن ایمرجنسی کا نفاذ کو دانشمندانہ فیصلہ نہیں۔ آج تک صرف ایک فوجی آپریشن مکمل کامیاب ہوا اور وہ سوات آپریشن تھا۔ جس کی واحد وجہ یہ تھی کہ اس کو سیاسی اونر شپ حاصل تھی۔ اب ایمرجنسی کے نفاذ سے پی ٹی آئی کو یہ بیانیہ بنانے میں مدد ملے گی کہ جو کچھ ہو رہا ہے اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے ہو رہا ہے جو وہ پہلے ہی سے کہہ رہے ہیں۔ اس لیے اب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو بیک وقت دہشتگردوں سے بھی لڑنا پڑے گا اور سیاسی بیانیے کی لڑائی بھی لڑنا پڑے گی۔
پی ٹی آئی، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا ایک ہی بیانیہ ہے، حسن خان
دہشتگردی کی صورتحال پر نظر رکھنے والے سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار حسن خان نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپشنز دیکھیں تو اس وقت آپ کے پاس آپشنز نہیں ہیں۔ اس وقت صوبے کی جو حالت ہے، پچھلے 13 سال سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے نہ وہاں کی معیشت کی بہتری کے لیے کوئی کام کیا، نہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے اور نہ دہشتگردی کی روک تھام کے لیے بلکہ ان کا بیانیہ وہی ہے جو دہشتگردوں کا یعنی ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا بیانیہ ہے۔ جب دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے کسی جوان کی شہادت ہوتی ہے، اس کی میت اس کے گاؤں پہنچتی ہے تو یہ پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ یہ ڈالری جنگ میں مارا گیا ہے، یہ جرنیلوں کی جنگ میں مارا گیا ہے۔ یہ وہی بیانیہ ہے جو دہشتگردوں کا ہے اور اس لیے انہیں یہ پسند کرتے ہیں۔ اس بیانیہ کی وجہ سے دہشتگردوں کے خلاف لڑنے والے فوجیوں اور پولیس جوانوں کے حوصلے پست ہوتے ہیں۔ اگر ایمرجنسی نہ لگائیں اور 2 سال انتظار کریں کہ یہ حکومت خود غیر مقبول تو اس وقت جو انٹیل جنس بیسڈ آپریشنز ہو رہے ہیں 2 سال بعد میجر آپریشنز کرنا پڑیں گے۔ جب پی ٹی آئی برسر اقتدار آئی تھی اس وقت کوئی ضلع دہشتگردی سے متاثر نہیں تھا، اس وقت 12 اضلاع دہشتگردی سے متاثر ہیں، اور دہشتگردی کا عفریت مرکزی اضلاع جیسا کہ مردان پشاور، نوشہرہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صدر زرداری کا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان، وزیراعلیٰ اور صوبائی وزرا عہدوں پر برقرار نہیں رہیں گے
ایک سوال کے جواب میں کہ آیا ایمرجنسی کے نفاذ سے صورتحال تبدیل ہو گی؟ حسن خان نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت کو بڑے پیمانے پر اصلاحات کرنا پڑیں گی۔ سب سے زیادہ توجہ پولیس پر دینا پڑے گی۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ پولیس کے پاس کنکریٹ کے بنکرز تک نہیں۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پولیس کو بلٹ اور بم پروف گاڑیاں مہیا کرنا پڑیں گی اور صرف فوجی آپریشنز کے ذریعے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ صوبے میں جو کئی سالوں سے انتظامی خلا کی کیفیت ہے اس کو پر کرنا پڑے گا۔ اس وقت پختونخوا میں اسکولوں، اسپتالوں اور یونیورسٹیوں کی کوئی حالت نہیں۔ وفاقی حکومت کو انفراسٹرکچر کے میجر منصوبے شروع کرنا پڑیں گے۔ آج سے پہلے تک حالت یہ تھی صوبائی حکومت کو جو افسران پسند نہیں ہوتے تھے یا جو کم باصلاحیت ہوتے تھے انہیں سزا کے طور پر قبائلی اضلاع بھجوا دیا جاتا تھا۔ اب وفاقی حکومت کو قبائلی اضلاع میں خاص توجہ دینا پڑے گی اور عوامی فلاح و بہبود کے بڑے منصوبے شروع کرنا ہوں گے تاکہ وہاں لوگوں کو اپنی طرف مائل کر کے یہ بتایا جا سکے کہ وہ کہاں غلط تھے اور ہم کہاں ٹھیک ہیں














