ملک پر حملہ آور دہشتگردوں کے لیے پی ٹی آئی حکومت نے خزانے کا منہ کھول رکھا تھا، ایمرجنسی ناگزیر ہو چکی تھی، خواجہ آصف

پیر 12 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کی حکومت نے خیبر پختونخوا کے خزانے کا دہانہ دہشتگردوں کے لیے کھول رکھا تھا، بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے باعث صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ 200 فیصد ناگزیر ہو چکا تھا تاکہ ملک دشمن عناصر اور ان کے سہولتکاروں کا خاتمہ کیا جا سکے۔

نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاکستان تحریک انصاف پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ پاکستان کی وحدانیت پر حملہ آور ہیں اور معصوم لوگوں کا خون بہا رہے ہیں، پی ٹی آئی والوں نے ان کے لیے صوبے کے خزانے کے دہانے کھول رکھے تھے اور ان دہشتگردوں کو اپنا حصہ دار بنا رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں امن کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر ہیں، محسن نقوی

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 13 سال تک پاکستان تحریک انصاف کی حکومت رہی لیکن ان 13 سالوں میں ان لوگوں نے مسلسل ملک دشمن کا کردار ادا کیا اور ان کی زبان پاکستانیوں کی زبان نہیں تھی۔

خواجہ آصف نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کا کوئی ایک بیان بتا دیں جس میں انہوں نے دہشتگردی کی مذمت کی ہو۔

جب سے صوبے میں دہشتگردی نے زور پکڑا، پی ٹی آئی کے کسی رہنما نے نہ تو دہشتگردی کے خلاف بیان دیا، نہ طالبان کی مخالفت کی اور نہ ہی افغانستان کے خلاف کچھ بولے جس نے ہماری سالمیت کو چیلنج کیا۔

ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ اور سیاسی مفاہمت کی ناکامی

وزیر دفاع نے کہا کہ تاریخی طور پر 12 اکتوبر کو ایک ڈکٹیٹر نے ملک کا آئین توڑا تھا اور ملک میں متعدد بار ایمرجنسی لگائی گئی، تاہم موجودہ حکومت نے ہر ممکن کوشش کی کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نہ لگانا پڑے۔

ہم چاہتے تھے کہ یہ لوگ قومی دھارے میں شامل ہوں لیکن کے پی کے حالات بتا رہے تھے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کی 200 فیصد ضرورت تھی اور سیکیورٹی اقدامات اٹھانے کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔

مزید پڑھیں:آزاد کشمیر میں کشیدگی کے خاتمے کے حق میں ہیں، مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کا خیرمقدم کریں گے، خواجہ آصف

وزیر دفاع نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی کوششوں کے دوران پی ٹی آئی کے بیانات سے واضح تھا کہ انہوں نے کوئی بات نہیں ماننی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے آخری حد تک تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن پی ٹی آئی معاملات کو اس نہج پر لے گئی جہاں طوفان کے آگے بندھ باندھنا ناگزیر ہو گیا تھا۔

اگر یہ لوگ فیصلے کے خلاف عدالتوں میں جاتے ہیں تو اچھا ہے، لیکن جب خون بہہ رہا ہو تو اسے روکنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا، یہ عدالتوں میں بھی ناکام ہوں گے۔

افغان سرپرستی، بھارتی گٹھ جوڑ اور مسلح حملے

ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے واضح کیا کہ کسی نئے ملٹری آپریشن کا ہونا ایک اسٹرٹیجک فیصلہ ہے، لیکن یہ بات طے ہے کہ اس وقت ایک ریاست کی سرپرستی میں پاکستان کے خلاف جنگ ہو رہی ہے اور وہ ریاست افغانستان ہے، جس کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے اور یہ ایک خطرناک ٹرائی اینگل بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اب ہم زمین پر لڑیں یا فضاؤں میں، اس جنگ کا خاتمہ ہو کر رہے گا اور اس جنگ کو جیتنے کے لیے پاکستان تمام وسائل بروئے کار لائے گا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کو بچانے کے لیے ان لوگوں نے پہلے 9 مئی کیا اور اس کے بعد 3 بار معصوم لوگوں کا خون بہایا ہے۔ دنیا کی تاریخ میں کسی جماعت نے اپنے ہی ملک کے دارالحکومت پر یوں مسلح حملے نہیں کیے جیسے پی ٹی آئی نے کیے۔

بارڈر، منشیات اور صوبائی امن کی بحالی کا عزم

خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ تیراہ ویلی میں منشیات کی باقاعدہ سیلز اور بازار لگتے ہیں اور وہاں بولی لگائی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بخوبی علم ہے کہ وہ کون لوگ تھے جو انہیں ملک کے اندر سے یا باہر سے ڈکٹیٹ کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ’کام چُک کے رکھو‘۔

ماضی میں بھی ایمرجنسیز لگی ہیں لیکن کسی بھی ایمرجنسی کے لیے اتنی بدترین صورتحال پیدا نہیں ہوئی جتنی پی ٹی آئی کے دور میں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک شخص کی ملاقات، قید یا سزا کو بنیاد بنا کر ملک کے خلاف ہتھیار اٹھانا کسی طور جائز نہیں ہو سکتا۔ خواجہ آصف نے توقع ظاہر کی کہ خیبر پختونخوا میں سیاسی عمل جاری رہے گا اور چند دنوں کے اندر صوبے میں مکمل امن لوٹ آئے گا۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگاڑ، دہشتگردانہ سرگرمیوں میں اضافے اور صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق اور سیکیورٹی اداروں سے عدم تعاون کے بعد مرکزی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر کے گورنر راج قائم کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں:معیشت آئی سی یو سے نکل گئی، اب ملک مالی استحکام کی جانب گامزن ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

ماضی میں وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان پیدا ہونے والی شدید کشیدگی اور 9 مئی کے بعد پیش آنے والے پرتشدد واقعات نے دونوں اطراف کے تعلقات کو انتہائی کشیدہ کر دیا تھا، جس کے بعد ریاستی سلامتی کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یہ انتہائی اقدام اٹھایا گیا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ریاست اب خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال کو صرف داخلی سیاسی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ علاقائی سلامتی کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم، بھارت اور کالعدم تنظیموں کا گٹھ جوڑ آنے والے دنوں میں سرحدی علاقوں اور صوبے کے اندر بدامنی پھیلانے کی کوشش کرے گا لیکن ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp