خلا کو بھی زخم لگتے ہیں، بلیک ہول نے کس ان دیکھی چیز کو روند ڈالا؟

بدھ 14 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خلا میں ایک ایسا زخم جس کی لمبائی تقریباً 700 نوری سال ہے کسی نامعلوم چیز سے ٹکرانے سے آسمان پر بن گیا ہے۔ ناسا کی چندرا ایکس رے آبزرویٹری نے یہ نشان دریافت کیا ہے جہاں ایک دیوہیکل بلیک ہول کے طاقتور جیٹ نے اپنے راستے میں آنے والی ایک نامعلوم چیز کو ٹکر ماری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مریخ پر زندگی کا اسکاٹ لینڈ سے کیا واسطہ؟ ناسا نے اہل زمین کو حیران کردیا

یہ بلیک ہول جیٹ تھا جو روشنی کی رفتار کے قریب حرکت کر رہا تھا اور نامعلوم چیز سے ٹکرا گیا۔

واضح رہے کہ بلیک ہول جیٹ سے مراد توانائی سے بھرپور ذرات کا وہ طاقتور دھارا ہے جو سپر میسیو بلیک ہول کے گرد سے خارج ہوتا ہے۔ بلیک ہول کے ارد گرد گھومنے والی گیس اور مادہ شدید رگڑ سے گرم ہو کر مقناطیسی میدانوں کی طاقت سے 2 مخالف سمتوں میں روشنی کی رفتار کے قریب باہر پھینک دیا جاتا ہے۔ یہ جیٹس ہزاروں نوری سال تک خلا میں سفر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو متاثر کرتے ہیں۔ ناسا کی حالیہ دریافت میں بھی ایسا ہی ایک جیٹ کسی نامعلوم ستارے یا شے سے ٹکرایا جس کے باعث خلا میں 700 نوری سالہ انگریزی حرف ’وی‘ کی شکل کا پراسرار نشان بن گیا۔

سینٹورس اے وہ کہکشاں ہے جو زمین سے 12 ملین نوری سال دور ہے۔ یہ اپنے اندر موجود سپر میسیو بلیک ہول کی وجہ سے طویل عرصے سے سائنسدانوں کے لیے دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے۔

مزید پڑھیے: مریخ پر پراسرار گڑھوں کی دریافت، 14 سال بعد بھی ناسا کا  ’کیوریوسٹی روور‘ سرخ سیارے سے حیران

یہ بلیک ہول اپنے گرد موجود مضبوط مقناطیسی میدانوں اور کشش ثقل کی بدولت توانائی سے بھرپور ذرات کا ایک سلسلہ بناتا ہے۔ سائنسدانوں نے اس جیٹ کا پہلے بھی تجزیہ کیا ہے۔

اس ذریعے کو سی فور کا نام دیا گیا تھا اور یہ جیٹ کے قریب ظاہر ہوتا ہے۔ سی 4 چندرا کی جانب سے کہکشاں کی حاصل کردہ گہری ترین ایکس رے تصویر کے دوران دریافت ہوا تھا۔

یونیورسٹی آف مشی گن سے تعلق رکھنے والے ڈیوڈ بوگنزبرگر نے اس دریافت کرنے والی ٹیم کی قیادت کی جس میں یونیورسٹی آف میری لینڈ، پین اسٹیٹ، یونیورسٹی آف ٹولوز اور اسرائیل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدان شامل تھے۔ ان کی تحقیق دی ایسٹرو فزیکل جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

بلیک ہول جیٹ کس چیز سے ٹکرایا؟

بہترین اندازے ایک بڑے ستارے یا 2 ستاروں کے جوڑے کے ہیں۔ ایکس رے جیٹ کے ذرات کے ستارے سے نکلنے والی ہوا میں موجود گیس سے ٹکرانے سے آ سکتے ہیں۔ وہ ہوا خلا میں بہنے والے ذرات کا ایک سلسلہ ہے۔

مزید پڑھیں: ناسا کی نئی دوربین تاریک توانائی، مادے اور دوسرے سیاروں کے راز کھولے گی

ایک کروڑ 20 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر چندرا ایکس رے آبزرویٹری بھی یہ نہیں بتا سکتی کہ وہ چیز واقعی کیا ہے۔

جیٹ کے راستے میں موجود دیگر رکاوٹیں ایکس رے کے بیضوی دھبے پیدا کرتی ہیں لیکن سی 4 ایک ’وی‘ شکل دکھاتا ہے۔ اس کے بازو کم از کم 700 نوری سال لمبے ہیں۔ نچلا بازو تقریباً جیٹ کے متوازی ہے۔ دوسرا اس سے ہٹ کر مڑا ہوا ہے اور کسی کے پاس اس کی وضاحت نہیں ہے۔

فرق کا انحصار ٹکرانے والی چیز کی قسم پر یا جیٹ کے اس سے ٹکرانے کے انداز پر ہو سکتا ہے۔ چندرا واحد ایکس رے آبزرویٹری ہے جو اس فیچر کو دیکھنے کے قابل ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پراسرار فضائی اجسام کی تصاویر موجود ہیں لیکن حقیقت اب بھی معمہ ہے، سربراہ ناسا جیرڈ آئزک مین

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وہ ٹکرانے کا عمل سائنسدانوں کے مطابق اب بھی جاری ہے اور کوئی ایک لمحاتی دھماکہ نہیں بلکہ بلیک ہول کے جیٹ کا کسی نامعلوم ستارے سے مسلسل ٹکرانا ہے اور چونکہ سینٹورس اے کہکشاں 12 ملین نوری سال دور ہے تو جو منظر آج دیکھا گیا ہے وہ 12 ملین سال پرانا ہے اس لیے خلائی پیمانے پر یہ عمل اب بھی فعال سمجھا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp