پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا فیکٹری متحرک، ایک دن میں 5 مبینہ جھوٹ بے نقاب

بدھ 14 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے تناظر میں سیاسی کشیدگی کے دوران تحریک انصاف کی سوشل میڈیا مہم بھی سوالات کی زد میں آگئی، جہاں ایڈوائزری کونسل کے خلاف مبینہ منفی مہم کے ساتھ مختلف سرکاری اعلامیوں اور ویڈیوز کو لے کر جھوٹا پروپیگنڈا کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ناقدین کے مطابق قیادت کی جانب سے سڑکوں پر نکلنے کے واضح سیاسی ردعمل کی عدم موجودگی اور عوامی احتجاج کی محدود سرگرمی کے بعد سوشل میڈیا پر بیانیے کی جنگ تیز ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر پشاور کے شہریوں اور تاجروں کا دو ٹوک ردعمل

سیاسی حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے دن بھر ایسے نوٹیفکیشنز اور ویڈیوز شیئر کیں جن کی صداقت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ محکموں کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے، تاہم اگر یہ دستاویزات جعلی ثابت ہوتی ہیں تو یہ سیاسی پروپیگنڈے کے لیے سرکاری اداروں کے نام استعمال کرنے کا سنگین معاملہ ہوگا۔

5 دعوے، 5 سوالات

سوشل میڈیا پر زیرِ گردش مواد کے حوالے سے 5 اہم دعوے سامنے آئے ہیں۔

1-ایک مبینہ جعلی اعلامیے کے ذریعے دعویٰ کیا گیا کہ محکمہ صحت نے عمران خان کے کزن ڈاکٹر نوشیروان برکی کو میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئی) سے ہٹا دیا ہے۔

2- ایک دوسرے مبینہ اعلامیے کو محکمہ داخلہ سے منسوب کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ پولیس کو تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا حکم دیا گیا ہے۔ اس دستاویز کی ظاہری شکل پر سوال اٹھاتے ہوئے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پر حکومتِ پاکستان کی سرخی اور مونوگرام موجود ہے، جبکہ صوبائی محکمہ داخلہ کے اعلامیے میں حکومتِ خیبرپختونخوا کی شناخت متوقع ہوتی ہے۔

3- ایک اور مبینہ اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا کہ صوبائی کابینہ کے فیصلے کے تحت انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ ختم کردیا گیا۔ اس دعوے پر سوال اٹھایا گیا کہ جب صوبائی حکومت اور کابینہ کی موجودہ آئینی و انتظامی حیثیت ہی متنازع صورتحال سے دوچار ہو تو کابینہ کے فیصلے سے متعلق ایسے اعلامیے کی حقیقت کیا ہے؟

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے بعد عباس احسن ایڈیشنل آئی جی قبائلی اضلاع تعینات

4- سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی گردش کرتا رہا کہ محکمہ صحت نے صحت انصاف کارڈ کے تحت علاج معالجے کی سہولت بند کردی ہے۔ اس دعوے کی تصدیق کے لیے متعلقہ محکمے کی باضابطہ وضاحت اہم ہے، کیونکہ ایسی اطلاعات براہِ راست عوامی صحت اور شہریوں کے خدشات سے جڑی ہیں۔

5- بی آر ٹی کے لیے مزید بسیں منگوانے سے متعلق پرانی ویڈیوز شیئر کرکے یہ تاثر دینے کا الزام بھی سامنے آیا کہ بسیں پنجاب منتقل کی جارہی ہیں۔ اگر ویڈیوز واقعی پرانی ہیں اور انہیں نئے واقعے کے طور پر پیش کیا گیا تو یہ سیاق و سباق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی مثال ہوگی۔

عوام سڑکوں پر نہ نکلے تو سوشل میڈیا پر بیانیے کی جنگ؟

اس تمام صورتِ حال میں بنیادی سیاسی سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف کی سوشل میڈیا مہم زمینی سیاسی ردعمل کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش ہے؟

ناقدین کا مؤقف ہے کہ پارٹی قیادت سے بڑے عوامی احتجاج کی توقع کی جارہی تھی، تاہم ابتدائی 3 دنوں میں وہ عوامی منظرنامہ دکھائی نہیں دیا جس کی توقع سیاسی حلقوں میں کی جارہی تھی۔ ان کے مطابق جب سڑکوں پر بڑے پیمانے پر احتجاج سامنے نہ آیا تو سوشل میڈیا پر مختلف دعوؤں اور متنازع مواد کے ذریعے سیاسی فضا کو گرم رکھنے کی کوشش کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کردی، قرارداد کثرت رائے سے منظور

تاہم احتجاج کی شدت، عوامی حمایت اور سوشل میڈیا مہم کے درمیان براہِ راست تعلق قائم کرنے کے لیے زمینی شواہد اور آزادانہ تجزیہ ضروری ہے۔

اب اگلا بیانیہ ترقیاتی منصوبوں پر؟

سیاسی مبصرین کے نزدیک آنے والے دنوں میں ترقیاتی منصوبوں کی بندش، سرکاری سہولتوں کے خاتمے اور انتظامی فیصلوں سے متعلق دعوے بھی سیاسی بحث کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ایسے میں ہر وائرل پوسٹ کو حقیقت تسلیم کرنے کے بجائے سرکاری ریکارڈ، متعلقہ محکموں اور مستند ذرائع سے اس کی تصدیق ضروری ہوگی۔

سیاسی سبکی یا پروپیگنڈے کی نئی جنگ؟

تحریک انصاف کے لیے اصل چیلنج محض سوشل میڈیا پر اپنا مؤقف پیش کرنا نہیں، بلکہ اپنے دعوؤں کو مستند شواہد کے ساتھ ثابت کرنا ہے۔ اگر جعلی اعلامیے اور پرانی ویڈیوز نئے واقعات کے طور پر پھیلانے کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پارٹی کے سیاسی بیانیے اور اس کی سوشل میڈیا ٹیم کی ساکھ کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔

کیونکہ سیاسی میدان میں مخالفین پر تنقید اپنی جگہ، لیکن عوامی اعتماد جھوٹے دعوؤں سے نہیں بلکہ قابلِ تصدیق حقائق سے حاصل کیا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp