پاکستان کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کا کہنا ہے کہ ان کے کرکٹ کیریئر کا بہترین دور ابھی آنا باقی ہے، جبکہ وہ تجربے، پختگی اور انجریز سے بچاؤ کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔
24ویں سالگرہ سے 3 ماہ قبل نسیم شاہ اب تک 93 بین الاقوامی میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 155 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو انٹرویو دیتے ہوئے نسیم شاہ نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ انسان اور کرکٹر دونوں میں تبدیلی آتی ہے، جبکہ پختگی اور تجربہ کھیل کو سمجھنے کا انداز بہتر بناتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ زندگی میں اتار چڑھاؤ سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ نوجوانی میں تیز رفتار بولنگ پر زیادہ توجہ ہوتی ہے، لیکن اب وہ سمجھتے ہیں کہ بولر کو یہ شعور بھی ہونا چاہیے کہ وہ کیا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
“My peak is yet to come” 💬
Naseem Shah on the demands of fast bowling, the mental battle with batters and journey back from injury as he looks ahead to the ODI tri-series 🏏☄️
#PAKvSL | #PAKvENG | #CricketKaJashan | #BackTheBoysInGreen https://t.co/S6UkbO48ft
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) October 15, 2026
نسیم شاہ کے 7 سالہ بین الاقوامی کیریئر میں انجریز نے کئی مرتبہ ان کی پیشرفت متاثر کی۔ ان کی اہم غیر حاضریوں میں 2023 کے آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ کے دوران ٹیم سے باہر ہونا بھی شامل ہے، جبکہ تازہ انجری پاکستان سپر لیگ 2026 کے دوران کمر کی تکلیف کی صورت میں سامنے آئی، جس کے باعث وہ ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی ون ڈے رینکنگ : ابرار احمد بولنگ میں نمبر ون کے قریب، نسیم شاہ بھی اوپر آگئے، بابر اعظم کی تنزلی
انجری سے واپسی کے تجربے پر بات کرتے ہوئے نسیم شاہ نے کہا کہ زخمی ہونے کے بعد کھلاڑی کو دوبارہ صفر سے آغاز کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات دوڑنا بھی ممکن نہیں رہتا، کھیل کی مشق تو دور کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں بحالی کا پروگرام انتہائی اہم ہوتا ہے۔ کھلاڑی کے لیے اپنے جسم کو سمجھنا اور اچھی طبی ٹیم کی معاونت حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔
نسیم شاہ نے سری لنکا کے خلاف پہلے ٹی20 میچ میں شاندار واپسی کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 136.9 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرتے ہوئے سری لنکن کپتان کوسل مینڈس کو غلط شاٹ کھیلنے پر مجبور کیا اور تھرڈ پر کیچ آؤٹ کرایا۔
اننگز کے آخری 10 گیندوں کے دوران سری لنکا کی جانب سے رنز بنانے کی رفتار بڑھانے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے نسیم شاہ نے 141.9 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے فل گیند پر دنتھ ویلالاگے کی وکٹیں اڑا دیں۔
یہ بھی پڑھیں: فاسٹ بولر نسیم شاہ غیرمعینہ مدت کے لیے پی ایس ایل سے باہر
اس کے 2 گیندوں بعد انہوں نے لہرو اودارا کو بھی آؤٹ کر دیا، جو 91 رنز بنا چکے تھے۔ بلے باز نے یارکر پر لانگ آن کی جانب شاٹ کھیلنے کی کوشش کی، لیکن گیند فیلڈر کے ہاتھوں میں چلی گئی۔
دوسرے ٹی 20 میچ میں نسیم شاہ کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے، تاہم انہوں نے پاور پلے میں عمدہ بولنگ کی اور اپنے 2 اوورز میں صرف 9 رنز دیے۔ ان کی اس کارکردگی نے ہدف کے تعاقب میں سری لنکا کی بیٹنگ لائن کے جلد لڑکھڑانے کے لیے بنیاد فراہم کی۔
جدید دور کی وائٹ بال کرکٹ کے تقاضوں پر بات کرتے ہوئے نسیم شاہ نے کہا کہ دنیا بھر میں مختلف پچز اور زیادہ رنز والے مقابلوں کے باعث فاسٹ بولرز کو اپنی مہارت میں مسلسل اضافہ کرنا ہوگا اور بلے بازوں کی سوچ کو سمجھ کر انہیں دباؤ میں لانے کی کوشش کرنا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں بولر کے لیے زیادہ ہنرمند اور بہتر صلاحیتوں کا حامل ہونا ضروری ہے۔













