کراچی کے علاقے اسٹیل ٹاؤن سے 23 سالہ نوجوان زین العابدین کو اغوا کر کے قتل کردیا گیا جبکہ ملزمان نے خوف و ہراس پھیلانے کے لیے پہلے مبینہ طور پر کٹا ہوا ہاتھ اہلخانہ کو بھیجا۔
پولیس اور درج مقدمے کی تفصیلات کے مطابق 23 سالہ زین العابدین 14 اکتوبر کو اپنے گھر سے موٹر سائیکل پر نکلنے کے بعد پراسرار طور پر لاپتا ہو گیا تھا۔ بعد ازاں نامعلوم اغواکاروں نے مغوی کی زیرِ استعمال سم کو ایک موبائل فون میں ڈال کر اہلخانہ کو کال کی اور نوجوان کی رہائی کے عوض 7 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: بلال کالونی میں ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتل، ورثا کا قاتلوں کی گرفتاری تک تدفین نہ کرنے کا اعلان
واقعے کے دوران ملزمان مغوی کی موٹر سائیکل کے دستاویزات اور دیگر سامان اس کے گھر کے مرکزی گیٹ پر پھینک کر فرار ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی ملزمان نے ایک کٹا ہوا انسانی ہاتھ بھی اہلخانہ کو بھیجا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ملزمان نے اہلخانہ کو شدید بلیک میل اور خوف زدہ کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔ پولیس نے کٹے ہوئے ہاتھ کو تحویل میں لے کر ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کے لیے سیمپل لیبارٹری ارسال کر دیے ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہ ہاتھ مغوی کا ہے یا کسی اور کا۔
اسٹیل ٹاؤن تھانے میں واقعے کا مقدمہ اغوا برائے تاوان کی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں دو ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا، زیر حراست ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں مغوی نوجوان کو قتل کرنے کا بیان دیا ہے، ملزمان کے بیان کی مختلف ذرائع سے تصدیق کی جارہی ہے، حراست میں لیا گیا ایک شخص مغوی نوجوان کا قریبی رشتے دار ہے۔

زین العابدین کے والد محمد خان نے بتایا ہے کہ اغوا کاروں نے تاوان کی رقم وصول کرنے کے باوجود میرے بیٹے کو بے رحمی سے قتل کر دیا۔ مقتول کے والد نے پولیس، خصوصاً مقامی ایس ایچ او پر شدید غفلت، لاپرواہی اور عدم تعاون کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
والد کے مطابق ان کا بیٹا زین العابدین 14 تاریخ کو صبح 9 بجے گھر سے موٹر سائیکل پر کپڑے استری کروانے کے لیے پپری گیا تھا، جہاں سے وہ پراسرار طور پر لاپتا ہو گیا۔ دوپہر سوا چار بجے ہیلمٹ پہنے دو موٹر سائیکل سوار ان کے گھر کی دیوار سے ایک شاپر پھینک کر فرار ہو گئے۔ شاپر میں نوجوان کی چپل، موبائل فون، شناختی کارڈ، بائیک کے کاغذات اور بینک کا اے ٹی ایم کارڈ موجود تھا۔
والد کا کہنا تھا کہ وہ فوری طور پر تمام سامان لے کر تھانہ اسٹیل ٹاؤن پہنچے اور ایس ایچ او جاوید ابڑو کو تمام معاملہ بتایا، لیکن پولیس نے معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا اور محض کاغذی کارروائی (این سی) کرکے واپس بھیج دیا۔ رات 10 بجے اغوا کاروں کی دھمکی آمیز کال موصول ہوئی، جس میں پولیس سے رجوع نہ کرنے اور تعاون کی صورت میں بیٹے کی لاش ملنے کی دھمکی دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: فٹبال ٹورنامنٹ میں نوجوان کو قتل کرنے والا ملزم ڈھائی سال بعد گرفتار
اگلی صبح اغوا کاروں نے 5 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا۔ والد نے دوبارہ پولیس سے رجوع کیا، جس کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔ تاہم، پولیس کی سستی کے باعث اغوا کاروں نے تاوان وصول کرنے کے بعد نوجوان کا کٹا ہوا ہاتھ گھر بھیج دیا اور مزید رقم کا مطالبہ کیا۔ بالآخر ایس ایس پی کی مداخلت اور کارروائی کے نتیجے میں پولیس نے مشتبہ افراد کی نشاندہی پر نوجوان کی لاش برآمد کر لی۔

مقتول کے والد کے مطابق ان کا بیٹا سعودی عرب میں درزی کا کام کرتا تھا اور چند ماہ قبل ہی پاکستان آیا تھا، اور اگلے ماہ دوبارہ سعودی عرب جانے والا تھا۔ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔ متاثرہ والد نے اعلیٰ حکام سے پولیس افسران کے خلاف کارروائی اور ناحق قتل ہونے والے بے گناہ بیٹے کے قاتلوں کے خلاف سخت سے سخت انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔













