افغانستان میں نامعلوم مسلح افراد نے محکمہ سرحدات، اقوام اور قبائل کے اہلکار رحمت اللہ کو گولیوں سے بھون ڈالا ہے، قتل کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔
افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے پکتیا میں نامعلوم مسلح افراد نے طالبان رجیم کے محکمہ سرحدات، اقوام اور قبائل کے ایک اہلکار کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق واقعہ پیر کے روز ضلع احمد آباد میں پیش آیا، جبکہ مقتول کی شناخت رحمت اللہ کے نام سے ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان کے 12 صوبوں میں طالبان کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں تیز، 38 اہلکار ہلاک ہونے کا دعویٰ
افغان خبر رساں ادارے ہشتِ صبح ڈیلی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ رحمت اللہ کئی برس سے طالبان رجیم کے متعلقہ محکمے میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ حملہ آور فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کی مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ طالبان حکام کی جانب سے بھی تاحال اس قتل پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ حملہ آوروں کی شناخت اور قتل کے محرکات بھی معلوم نہیں ہوسکے۔
یہ بھی پڑھیے افغان طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں اضافہ، عام معافی کی خلاف ورزی نے صورتحال تبدیل کردی
یہ واقعہ افغانستان میں طالبان رجیم کے دور میں سیکیورٹی سے متعلق مسلسل سامنے آنے والے خدشات کے تناظر میں پیش آیا ہے، جہاں ہدف بنا کر کیے جانے والے حملوں اور مسلح تشدد کے واقعات تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ تاہم، دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ رحمت اللہ کو ان کے سرکاری عہدے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا یا قتل کا تعلق کسی ذاتی یا دوسرے تنازع سے تھا۔











