خواتین دل کی بیماریوں سے کیسے محفوظ رہیں؟ ماہرین نے زندگی کے مختلف مراحل کی اہمیت بتادی

بدھ 4 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دل کی بیماریوں کو عموماً مردوں سے زیادہ منسلک سمجھا جاتا ہے جبکہ خواتین میں بھی یہ امراض صحت کے سنگین مسائل اور اموات کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ تاہم خواتین میں دل کی بیماریوں کے خطرات صرف عمر، وزن یا بلڈ پریشر تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ماہواری، حمل، ہارمونز میں تبدیلی اور سنِ یاس )مینوپاز) جیسے مراحل بھی مستقبل میں دل کی صحت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شدید گرمی حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کے لیے بڑا خطرہ بن گئی

طبی ماہرین نے اب خواتین کی دل کی صحت کو زندگی کے تمام مراحل میں سمجھنے اور اس کے تحفظ کے لیے ایک جامع رہنما فریم ورک پیش کیا ہے۔ اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ لڑکیوں اور خواتین کی تولیدی صحت اور ہارمونز سے متعلق تبدیلیوں کو دل کی بیماریوں کے خطرات کا جائزہ لیتے وقت بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔

یہ رہنما اصول امریکا کی 4 بڑی طبی تنظیموں، امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن، امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس، امریکن کالج آف آبسٹیٹریشینز اینڈ گائناکالوجسٹس اور سوسائٹی فار میٹرنل فیٹل میڈیسن نے 26 اکتوبر 2026 کو مشترکہ طور پر جاری کیے۔ ان کی تفصیلات طبی جریدے ’سرکولیشن‘ میں شائع ہونے والی 3 تحقیقی و رہنما دستاویزات میں پیش کی گئی ہیں۔

خواتین کی زندگی کے مختلف مراحل اور دل کی صحت

نئے فریم ورک کو ’فی میل لائف اسٹیج فریم ورک‘ کا نام دیا گیا ہے، جس میں خواتین کی زندگی کو ہارمونز اور تولیدی نظام میں تبدیلیوں کے لحاظ سے مختلف مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔

ان میں پہلی ماہواری سے پہلے اور اس کے آغاز کا دور، باقاعدہ ماہواری اور تولیدی عمر، حمل، سنِ یاس سے پہلے کی عبوری مدت اور سن یاس کے بعد کا زمانہ شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ تمام مراحل خواتین کے جسم میں ہارمونز کی تبدیلیوں کے باعث دل اور خون کی نالیوں کی صحت پر مختلف انداز سے اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے خواتین کی طبی تاریخ میں ماہواری کے معمولات، حمل کی تفصیلات اور سنِ یاس سے متعلق تبدیلیوں کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیے: کیا ماں بننے کے لیے عمر کی کوئی حد باقی رہ گئی ہے؟ یہ خوشی پانے والی معمر خواتین کی امید افزا کہانیاں

ماہر امراض قلب ڈاکٹر انورادھا لالا ٹرینڈاڈ کے مطابق خواتین کی دل کی صحت پوری زندگی کے دوران تشکیل پاتی ہے اور جسم میں آنے والی ہر بڑی حیاتیاتی تبدیلی بیماریوں سے بچاؤ اور صحت بہتر بنانے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ماہواری، حمل اور سن یاس کی تاریخ خواتین کی صحت کے ایسے اہم پہلو ہیں جنہیں طبی معائنے کے دوران نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

ہارمونز کی تبدیلیوں کو نظرانداز نہ کریں

نئے رہنما اصولوں میں بتایا گیا ہے کہ ماہواری کے دوران غیرمعمولی تبدیلیاں، مثلاً بہت زیادہ خون آنا یا ماہواری کا بے قاعدہ ہونا، بعض ایسے مسائل کی ابتدائی علامت ہوسکتا ہے جو مستقبل میں دل کی بیماریوں کے خطرات سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔

ان میں پولی سسٹک اووری سنڈروم (پی سی او ایس) جیسے ہارمونز اور میٹابولزم سے متعلق مسائل بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: جنرل اینستھیزیا دماغ کو بے ہوش کیسے کرتا ہے؟ شعور کا ایک بڑا راز اب بھی حل طلب

اسی طرح سنِ یاس سے پہلے کی عبوری مدت، جسے پیری مینوپاز کہا جاتا ہے میں کولیسٹرول اور جسم کے میٹابولزم سے متعلق دیگر عوامل میں تبدیلی آسکتی ہے۔ یہ تبدیلیاں بھی دل کی صحت کو متاثر کرسکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس مرحلے میں دل کی بیماریوں کے ابتدائی خطرات کی نشاندہی اہم ہے تاکہ بروقت احتیاط اور علاج کے ذریعے مستقبل میں پیچیدگیوں کے امکانات کم کیے جاسکیں۔

سن یاس کے بعد دل کی بیماریوں کا خطرہ کیوں بڑھ سکتا ہے؟

سنِ یاس سے پہلے اور اس کے دوران خواتین کو مختلف جسمانی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں اچانک گرمی محسوس ہونا، رات کو پسینہ آنا اور نیند متاثر ہونا عام علامات ہیں۔

نئے رہنما اصولوں کے مطابق سنِ یاس سے پہلے کی عبوری مدت میں تقریباً 50 سے 80 فیصد خواتین کو گرمی کی لہروں اور اس نوعیت کی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔ ان میں سے تقریباً ایک تہائی خواتین کو یہ علامات بار بار، شدید یا طویل عرصے تک محسوس ہوتی ہیں جن کا تعلق دل کی بیماریوں کے زیادہ خطرے سے بھی دیکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: غروب آفتاب کے بعد خواتین کے لیے گھر سے باہر چہل قدمی مشکل، مسئلے کے حل کے لیے مرد کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟

سن یاس کے بعد دل کے دورے، دل کی کمزوری اور فالج کے واقعات میں اضافے کا امکان بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ اسی لیے ماہرین اس عمر میں بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور دیگر قلبی خطرات کا جائزہ لینے اور بروقت احتیاطی اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔

امریکا کے ماؤنٹ سائی نائی فوسٹر ہارٹ اسپتال سے وابستہ ماہر امراض قلب ڈاکٹر انورادھا لالا ٹرینڈاڈ کے مطابق سن یاس سے پہلے کا دور خواتین کے لیے اپنی دل کی صحت کا دوبارہ جائزہ لینے اور مستقبل کے خطرات کم کرنے کا اہم موقع ہے۔

حمل کے دوران بھی دل کی صحت پر توجہ ضروری

ماہرین کے مطابق حمل خواتین کی دل کی صحت کے حوالے سے بھی ایک اہم مرحلہ ہے کیونکہ بعض اوقات حمل کے دوران ایسے طبی مسائل سامنے آتے ہیں جن سے پہلے دل کی بیماری یا اس کے خطرات کا اندازہ نہیں ہو پاتا۔

اسی لیے نئے رہنما اصولوں میں حمل سے پہلے، حمل کے دوران اور بچے کی پیدائش کے بعد بھی خواتین کی قلبی صحت کا جائزہ لینے کی سفارش کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: مردوں کے مقابلے میں خواتین درد زیادہ کیوں محسوس کرتی ہیں؟ جانیے 118 ممالک کے لاکھوں افراد پر کی گئی تحقیق کے انکشافات

ماہرین کا کہنا ہے کہ حمل کے دوران سامنے آنے والی طبی تبدیلیوں کو زچگی کے بعد بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر حمل کے دوران پری ایکلیمپسیا (بلڈ پریشر کی خطرناک پیچیدگی) کی تاریخ مستقبل میں بھی دل کی صحت کے جائزے کے لیے اہم رہتی ہے۔

ڈاکٹر لالا ٹرینڈاڈ کے مطابق خواتین کی صحت سے متعلق معلومات مختلف طبی شعبوں کے درمیان منتقل ہونی چاہییں تاکہ ماہرین کو مریضہ کی مکمل طبی تاریخ معلوم ہو اور علاج کے دوران کوئی اہم بات نظرانداز نہ ہو۔

ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور نیند بھی دل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں

نئے رہنما اصولوں میں دل کی صحت اور ذہنی و جذباتی کیفیت کے باہمی تعلق کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق بے چینی، ڈپریشن اور کھانے پینے سے متعلق نفسیاتی مسائل بھی دل کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ نیند کی کمی، جذباتی دباؤ اور ہارمونز کی تبدیلیاں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی ہیں، اس لیے خواتین کی صحت کا جائزہ لیتے وقت ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کو صرف اس وقت طبی توجہ نہیں ملنی چاہیے جب انہیں دل کی بیماری کی علامات ظاہر ہوں، بلکہ ان کی ماہواری، حمل، ذہنی صحت اور ہارمونز سے متعلق تبدیلیوں کو بھی مجموعی طبی معائنے کا حصہ بنانا چاہیے۔

خواتین کی صحت کے لیے مربوط طبی نظام کی ضرورت

ماہرین کے مطابق ماضی میں خواتین کی تولیدی صحت، ہارمونز اور دل کی صحت کو اکثر الگ الگ شعبوں کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ اس وجہ سے خواتین کی مکمل طبی تاریخ کو ایک جگہ جمع کرکے ان کے مستقبل کے خطرات کا جائزہ لینا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا تھا۔

مزید پڑھیے: کیا آپ بھی بہت غصہ کرتی ہیں؟ یہ کمزوری نہیں تبدیلی کی طاقت ہے، بس درست سمت درکار

نئے فریم ورک میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بچوں کے معالج، ماہرینِ امراضِ نسواں، عمومی معالجین اور ماہرینِ امراضِ قلب کے درمیان بہتر رابطہ ہونا چاہیے تاکہ لڑکیوں اور خواتین کی صحت سے متعلق معلومات زندگی کے ہر مرحلے میں دستیاب رہیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان رہنما اصولوں کو روزمرہ طبی عمل کا حصہ بنانا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ اس کے لیے ڈاکٹروں کی تربیت، بہتر اسکریننگ سہولیات، تحقیق اور مختلف طبی شعبوں کے درمیان رابطے کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق اس کوشش کی کامیابی کا اندازہ صرف دل کے دورے یا فالج کے واقعات میں کمی سے نہیں بلکہ خواتین کی مجموعی صحت، روزمرہ جسمانی صلاحیت، علامات میں بہتری اور معیاری طبی سہولیات تک رسائی سے بھی لگایا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین میں اے ڈی ایچ ڈی کی تشخیص میں برسوں کیوں لگ جاتے ہیں؟

ماہرین کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ خواتین کی دل کی صحت کا خیال کسی خاص عمر یا زندگی کے ایک مرحلے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ بچپن سے لے کر نوجوانی، حمل، سنِ یاس اور اس کے بعد تک طبی تاریخ اور جسمانی تبدیلیوں پر توجہ دے کر مستقبل میں دل کی بیماریوں کے خطرات کی بروقت نشاندہی اور ان سے بچاؤ میں مدد مل سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp