ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے فضا امید اور غیر یقینی کے درمیان جھول رہی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ابھی تک پاکستان کے لیے عازم سفر نہیں ہوئے۔ دوسری طرف پاکستان ایران کو مذاکرات کے لیے وفد بھیجنے کے لیے راضی کرنے میں مصروف ہے۔
امریکی نائب صدر ابھی تک پاکستان کے لیے روانہ نہیں ہوئے، ذرائع
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی آج دوپہر 2 بجے امریکا سے روانگی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جو ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کے سلسلے میں کل صبح اسلام آباد پہنچنے کی توقع رکھتے ہیں، ان کی روانگی کے حوالے سے اب تک کوئی مستند اطلاع سامنے نہیں آئی۔
نہ تو کسی امریکی میڈیا ادارے، وائٹ ہاؤس بریفنگ روم اور نہ ہی وائٹ ہاؤس کے ترجمان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی نائب صدر عموماً امریکی ایئر فورس کے خصوصی طیارے میں سفر کرتے ہیں، تاہم اب تک اس طیارے کی روانگی کے بارے میں بھی کسی سرکاری ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
حکام کے مطابق، اس حوالے سے مصدقہ معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی ضمانت کے نام پر جعلی پیغامات ملنے کا انکشاف
سمندری سیکیورٹی اور رسک مینجمنٹ فرم مارِسکس نے خبردار کیا ہے کہ بعض نامعلوم عناصر کی جانب سے شپنگ کمپنیوں کو جعلی پیغامات بھیجے جا رہے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی ضمانت کے بدلے کرپٹو کرنسی میں ادائیگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق یہ پیغامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں سمندری صورتحال غیر یقینی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ جہاز جو اس اہم آبی گزرگاہ کے مغربی حصے میں پھنسے ہوئے ہیں، انہیں مبینہ طور پر ایسے پیغامات موصول ہوئے جن میں کہا گیا کہ ایرانی حکام کے نام پر ٹرانزٹ کلیئرنس کے لیے بٹ کوائن یا ٹیتر جیسی کرپٹو کرنسی میں فیس ادا کی جائے۔
مارِسکس نے واضح کیا ہے کہ یہ پیغامات مکمل طور پر دھوکہ دہی پر مبنی ہیں اور ایرانی حکام کی جانب سے جاری نہیں کیے گئے۔ تہران کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اطلاعات کے مطابق ہزاروں ملاحوں کے ساتھ سینکڑوں بحری جہاز خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس دوران بعض جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی تاہم انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ کو واپس لوٹنا پڑا۔
مارِسکس نے مزید کہا کہ ایک واقعے میں ایسے جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا جو ممکنہ طور پر اسی جعلی پیغام پر عمل کرتے ہوئے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ جعلسازی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب خطے میں سمندری راستوں کی سکیورٹی انتہائی حساس ہو چکی ہے اور عالمی تجارت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
امریکا ایران مذاکرات کو بچانے کے لیے پاکستان دن رات کوششیں کر رہا ہے، الجزیرہ
پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسلام آباد میں فضا تیار ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد مثبت پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔
اسلام آباد میں مقیم پبلک پالیسی کی ماہر نیلوفر آفریدی قاضی کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کو ممکن بنانے کے لیے دن رات کوششیں کر رہا ہے اور دونوں فریقین کو بات چیت کی میز پر لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ان کے مطابق، ’پاکستان مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ یہ عمل آگے بڑھے، اور امید ہے کہ آج رات یا کل تک ہم کسی قدر مثبت سمت میں پیش رفت دیکھ سکیں گے۔‘
نیلوفر آفریدی قاضی نے بتایا کہ اسلام آباد میں اس وقت مکمل تیاری کا ماحول ہے، شہر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے باعث جزوی لاک ڈاؤن کی کیفیت ہے، جبکہ تجزیہ کار صورتحال کو ’ہر لمحہ‘ مانیٹر کر رہے ہیں۔
انہوں نے ایران کے مبینہ متضاد بیانات کے حوالے سے کہا کہ صرف تہران کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں، کیونکہ ہر ملک میں فیصلے مختلف مراکزِ اختیار کے تحت ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے اندر بھی فیصلہ سازی کا عمل بعض اوقات اتنا ہی متضاد، بلکہ اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پوری صورتحال میں ایک اہم عنصر اسرائیل ہے، جس کا اثر و رسوخ سب پر واضح ہے اور پالیسی سازی میں اس کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق، موجودہ حالات میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی دراصل سفارتی عمل کو نقصان پہنچا رہی ہے، باقر قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور محاصرے کے ذریعے مذاکراتی عمل کو دباؤ میں لا کر ایران کو ہتھیار ڈالن پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا مذاکراتی میز کو اپنے مفاد کے مطابق تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے ایک ایسے پلیٹ فارم میں بدلنا چاہتا ہے جہاں ایران پر دباؤ ڈال کر اسے یکطرفہ شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے۔
ترامپ با اعمال محاصره و نقض آتشبس میخواهد تا به خیال خود این میز مذاکره را به میز تسلیم تبدیل کند یا جنگافروزی مجدد را موجّه سازد.
مذاکره زیر سایهٔ تهدید را نمیپذیریم و در دو هفتهٔ اخیر برای رو کردن کارتهای جدید در میدان نبرد آماده شدهایم.— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 20, 2026
انہوں نے کہا کہ تہران ایسے کسی بھی مذاکرات کو قبول نہیں کرتا جو دھمکیوں اور دباؤ کے سائے میں کیے جائیں۔ ان کے مطابق ایران پر عائد دباؤ اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی دراصل سفارتی عمل کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
قالیباف نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران ایران نے میدانِ جنگ میں اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کیا ہے اور نئے کارڈز سامنے لانے کے لیے مکمل تیاری کر رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسے مذاکرات کو قبول کیا جائے گا جو یکطرفہ دباؤ پر مبنی ہوں۔
ایران کے معاملے کو درست طریقے سے حل کیا جائے تو یہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جو معاہدہ کررہے ہیں وہ ماضی کے معاہدے سے کہیں بہتر ہوگا۔ ہم امریکا کو کسی ایسے معاہدے میں نہیں دھکیلیں گے جو کمزور ہو یا نامکمل ہو۔ اگر ایران کے معاملے کو درست طریقے سے حل کیا جائے تو یہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ باراک اوباما اور جوبائیڈن کی جانب سے تحریر کیا جانے والا معاہدہ ملکی سلامتی کے حوالے سے اب تک کے بدترین معاہدوں میں سے ایک تھا۔ یہ دراصل ایران کے لیے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا ایک یقینی راستہ تھا، جو ہمارے موجودہ معاہدے میں نہ ہوگا اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ اس معاہدے کے تحت مبینہ طور پر 1.7 ارب ڈالر بوئنگ 757 میں ایران بھیجے گئے، تاکہ ایرانی قیادت اسے اپنی مرضی سے خرچ کر سکے۔
ان کے مطابق واشنگٹن ڈی سی، ورجینیا اور میری لینڈ کے بینکوں سے یہ رقم نکالی گئی، اور بینکاروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا۔ اس کے علاوہ ایران کو سینکڑوں ارب ڈالر مزید بھی ادا کیے گئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اگر وہ اس معاہدے کو ختم نہ کرتے تو ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے، جو اسرائیل، مشرق وسطیٰ اور امریکی فوجی اڈوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔
انہوں نے بعض امریکی میڈیا اداروں اور صحافیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ وہ جان بوجھ کر ماضی کے معاہدے کو اچھا بنا کر پیش کرتے ہیں، حالانکہ یہ امریکا کے لیے خطرناک اور شرمناک معاہدہ تھا۔
امریکی صدر نے کہاکہ اگر ٹرمپ کے دور میں کوئی نیا معاہدہ ہوتا ہے تو وہ نہ صرف اسرائیل اور مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ، امریکا اور پوری دنیا کے لیے امن، سلامتی اور تحفظ کی ضمانت ہوگا۔
ان کے مطابق یہ ایک ایسا معاہدہ ہوگا جس پر دنیا فخر کرے گی، اس کے برعکس ماضی میں نااہل اور کمزور قیادت کی وجہ سے امریکا کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہاکہ وہ کسی قسم کے دباؤ میں نہیں ہیں، اور اصل مقصد یہ ہے کہ ایران کے ساتھ 47 سال سے جاری مسئلے کو درست طریقے سے حل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد بازی میں کوئی غلط معاہدہ نہیں کریں گے، اور جو بھی فیصلہ ہوگا وہ مکمل طور پر امریکا کے مفاد میں ہوگا۔
انہوں نے بعض امریکی میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اگر جھوٹی خبریں دیکھی جائیں تو ایسا تاثر ملتا ہے کہ امریکا جنگ ہار رہا ہے، تاہم ان کے مطابق زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مخالف فریق الجھن کا شکار ہے کیونکہ ان کی بحریہ متاثر ہوئی ہے، فضائی طاقت غیر فعال ہو چکی ہے، اور میزائل و فضائی دفاعی نظام کمزور ہو چکے ہیں۔ جبکہ سابق قیادت کا بڑا حصہ منظر سے ہٹ چکا ہے، جسے انہوں نے رجیم چینج قرار دیا۔
ان کے مطابق ایران پر عائد پابندی یا ناکہ بندی برقرار ہے اور جب تک کوئی معاہدہ نہیں ہوتا اسے ختم نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس صورتحال کے باعث ایران کو روزانہ کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جو ان کے مطابق تہران کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے مثبت اشارے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں وفد پاکستان کی طرف روانہ ہوچکا ہے۔ جبکہ تہران نے بھی شرکت پر غور شروع کر دیا ہے، تاہم جنگ بندی کے خاتمے کے قریب آتے ہی صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے اور کئی اہم رکاوٹیں موجود ہیں۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے معاہدے کے خواہاں ہیں جو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کو روکے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہیں ہونی چاہیے۔
دوسری جانب ایران آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکے، پابندیوں میں نرمی لائے، لیکن اس کے جوہری پروگرام میں رکاوٹ نہ ڈالے۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران مذاکرات میں شرکت کے امکان کا ’مثبت جائزہ‘ لے رہا ہے، اگرچہ اس سے قبل وہ بات چیت سے انکار کر چکا تھا، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
اسلام آباد میں موجود حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سخت بیانات کے باعث صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو واشنگٹن سے روانہ ہونے والے ہیں، جبکہ مذاکرات کا دوسرا دور بدھ کو متوقع ہے، اگرچہ وائٹ ہاؤس نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
ایک ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’پیش رفت جاری ہے اور مذاکرات کل متوقع ہیں۔‘
آبنائے ہرمز میں ٹریفک محدود، 12 گھنٹوں میں صرف 3 جہازوں کی آمد و رفت
آبنائے ہرمز میں سمندری سرگرمی انتہائی محدود ہو گئی ہے اور گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران صرف 3 جہازوں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے عالمی توانائی ترسیل کے اس اہم راستے پر غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں ایرانی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس عرصے میں صرف ایک ٹینکر ’نیرو‘ آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج عرب سے باہر نکلا ہے جبکہ 2 جہاز اندر داخل ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ ٹینکر برطانوی پابندیوں کی زد میں ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث سمندری ٹریفک میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے، جس سے تیل اور گیس کی عالمی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اسی دوران ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز ’شجاع 2‘ امریکی اعلان کردہ ناکہ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز سے گزر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ جہاز بندر عباس کے قریب شہید رجائی بندرگاہ سے روانہ ہوا اور بھارت کی بندرگاہ کاندلہ کی طرف جا رہا ہے۔
اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم میری ٹائم ٹریکنگ سروس ’میرین ٹریفک‘ کے ڈیٹا کے مطابق جہاز اس وقت آبنائے ہرمز میں موجود ہے اور بھارت کی سمت بڑھ رہا ہے۔
آبنائے ہرمز میں محدود سمندری ٹریفک اور کشیدہ صورتحال نے عالمی منڈیوں میں تشویش بڑھا دی ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
خلیج عمان واقعہ: ایران کا سخت ردعمل
ایران کی وزارت خارجہ نے خلیج عمان میں ایک ایرانی کارگو جہاز کی امریکی فورسز کے ہاتھوں ضبطی کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اتوار کو ایرانی تجارتی جہاز ’توسکا‘ پر حملہ غیر قانونی اور پرتشدد اقدام تھا، جسے ’سمندری قزاقی‘ اور ’دہشتگردی‘ قرار دیا گیا۔
ایران کے مطابق یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ 7 اپریل سے جاری 2 ہفتوں کی جنگ بندی کی بھی خلاف ورزی ہے۔ تہران نے جہاز، عملے اور ان کے اہلِ خانہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ کسی بھی مزید کشیدگی کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ مذکورہ جہاز نے ناکہ بندی کی ہدایات ماننے سے انکار کیا، جس کے بعد اسے خلیج عمان میں تحویل میں لیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک 27 تجارتی جہازوں کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا چکا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
مذاکرات کی امید پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بہتری آئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت معمولی کمی کے بعد 94.94 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 88.50 ڈالر تک آ گیا۔
تاہم کشیدگی برقرار ہے اور ایران نے امریکی کارروائیوں کو خطے میں خطرناک پیش رفت قرار دیتے ہوئے اپنے قومی مفادات کے دفاع کا عزم دہرایا ہے۔
چین، جو ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے، نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اپنانے پر زور دیا ہے۔
مذاکرات پر اختلافات برقرار
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں سفارتی عمل میں بڑی رکاوٹ ہیں، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر پر دباؤ بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران دھمکیوں کے تحت مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران بالآخر مذاکرات کرے گا، لیکن اسے ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
جنگ کے اثرات اور پاکستان کا کردار
28 فروری سے جاری جنگ کے باعث ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور عالمی توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھی ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی پابندیاں عائد اور واپس لینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ پاکستان، جو اس تنازع میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، واشنگٹن پر ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے زور دے رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جنگ بندی بدھ کو امریکی وقت کے مطابق شام 8 بجے ختم ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد میں تیاریاں مکمل
پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے اسلام آباد میں بھرپور تیاریاں کر لی ہیں۔ امکان ہے کہ یہ اہم مذاکرات جنگ بندی کے اختتام سے چند گھنٹے قبل ہوں گے۔
اگرچہ ایران نے تاحال اپنی شرکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم امریکی وفد کی آمد یقینی دکھائی دے رہی ہے۔ نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں وفد کے ہمراہ اعلیٰ حکام بھی اسلام آباد پہنچیں گے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے غیر یقینی کے اظہار کے باوجود اسلام آباد میں عملی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں، اور نور خان ایئربیس پر امریکی فوجی طیاروں کی آمد اس بات کا عندیہ دے رہی ہے کہ مذاکرات کے انعقاد کی سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔
موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ مذاکرات کے امکانات موجود ہیں، تاہم خطے میں کشیدگی اور باہمی عدم اعتماد اس عمل کو پیچیدہ بنائے ہوئے ہیں۔













