سابقہ سویت یونین میں رونما ہونے والے سانحہ چرنوبل کے 40 سال گزرنے پر اپنے پیغام میں صدر آصف علی زرداری نے لاکھوں افراد کو تابکاری کے اثرات سے دوچار کرنے والے اس حادثے پر دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان جوہری تحفظ اور سلامتی کے اعلیٰ ترین معیارات برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حادثے کے 40 سال بعد یوکرین کا چرنوبل ایٹمی پاور پلانٹ پھر خطرے کی زد میں
26 اپریل 1986 کو چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں تابکار بادل سوویت یونین کے وسیع علاقوں تک پھیل گیا تھا جو آج بیلاروس، یوکرین اور روس کے حصے ہیں۔ اس حادثے سے تقریباً 84 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔
اس حادثے کے بعد ہزاروں افراد کینسر سمیت تابکاری سے متعلق بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں تاہم ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اور طویل مدتی اثرات اب بھی بحث کا موضوع ہیں۔
ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ میں بطور صدر اس عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ پاکستان جوہری تحفظ اور سلامتی کے اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھے گا۔
ہم عالمی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جو ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو فروغ دیں، حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنائیں اور ایسے سانحات کے خطرات کو کم کریں۔
انہوں نے کہا کہ چرنوبل سانحہ دنیا کو یہ احساس دلاتا ہے کہ تابکاری کے اثرات کی پہنچ بہت دور تک ہوتی ہے اور یہ کسی ایک مقام یا ایک نسل تک محدود نہیں رہتے۔
مزید پڑھیے: اقوام متحدہ کی وارننگ، چرنوبل کے قریب فوجی کارروائیاں تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں
صدر زرداری نے مزید کہا کہ تابکاری خطوں میں پھیلتی ہے اور وقت کے ساتھ برقرار رہتی ہے جو عوامی صحت، ماحول اور معیشت پر ایسے اثرات مرتب کرتی ہے جو اکثر ناقابلِ واپسی ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار اداروں نے متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کے لیے تحقیق، طبی اقدامات اور بحالی پروگرامز کے ذریعے اہم کردار ادا کیا جو اس چیلنج کی سنگینی اور مسلسل نگرانی کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔
On the 40th anniversary of Chernobyl Disaster, President Asif Ali Zardari reaffirms Pakistan’s commitment to the highest nuclear safety standards. The cost of failure is borne by generations, making global cooperation & discipline in nuclear security non-negotiable. pic.twitter.com/v2VKBl4TEq
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) April 26, 2026
صدر نے کہا کہ یہ سانحہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جوہری تحفظ کو صرف ایک تکنیکی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ اس کے لیے مستقل نظم و ضبط، مؤثر نگرانی اور خطرات کی واضح سمجھ بوجھ ضروری ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جوہری تنصیبات میں کسی بھی قسم کی غفلت یا دشمنانہ کارروائی کے نتائج فوری ہدف سے کہیں آگے تک پھیل سکتے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان ذمہ دارانہ طرزِ عمل، مضبوط حفاظتی اقدامات اور ایسے سانحات کے خطرات میں کمی کے لیے عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: چرنوبل کی تباہی کا قصہ: ہمارے لیے کیا سبق پوشیدہ ہے؟
انہوں نے زور دیان چرنوبل کا تجربہ ایک سنجیدہ یاد دہانی ہے کہ اس شعبے میں غلطی کی گنجائش نہایت کم ہے اور اس کی قیمت نسلیں ادا کرتی ہیں۔














