سانحہ چرنوبل ایک سنجیدہ یاددہانی، پاکستان جوہری تحفظ کا اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھے گا، صدر آصف علی زرداری

اتوار 26 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابقہ سویت یونین میں رونما ہونے والے سانحہ چرنوبل کے 40 سال گزرنے پر اپنے پیغام میں صدر آصف علی زرداری نے لاکھوں افراد کو تابکاری کے اثرات سے دوچار کرنے والے اس حادثے پر دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان جوہری تحفظ اور سلامتی کے اعلیٰ ترین معیارات برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حادثے کے 40 سال بعد یوکرین کا چرنوبل ایٹمی پاور پلانٹ پھر خطرے کی زد میں

26 اپریل 1986 کو چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں تابکار بادل سوویت یونین کے وسیع علاقوں تک پھیل گیا تھا جو آج بیلاروس، یوکرین اور روس کے حصے ہیں۔ اس حادثے سے تقریباً 84 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔

اس حادثے کے بعد ہزاروں افراد کینسر سمیت تابکاری سے متعلق بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں تاہم ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اور طویل مدتی اثرات اب بھی بحث کا موضوع ہیں۔

ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ میں بطور صدر اس عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ پاکستان جوہری تحفظ اور سلامتی کے اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھے گا۔

ہم عالمی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جو ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو فروغ دیں، حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنائیں اور ایسے سانحات کے خطرات کو کم کریں۔

انہوں نے کہا کہ چرنوبل سانحہ دنیا کو یہ احساس دلاتا ہے کہ تابکاری کے اثرات کی پہنچ بہت دور تک ہوتی ہے اور یہ کسی ایک مقام یا ایک نسل تک محدود نہیں رہتے۔

مزید پڑھیے: اقوام متحدہ کی وارننگ، چرنوبل کے قریب فوجی کارروائیاں تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں

صدر زرداری نے مزید کہا کہ تابکاری خطوں میں پھیلتی ہے اور وقت کے ساتھ برقرار رہتی ہے جو عوامی صحت، ماحول اور معیشت پر ایسے اثرات مرتب کرتی ہے جو اکثر ناقابلِ واپسی ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار اداروں نے متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کے لیے تحقیق، طبی اقدامات اور بحالی پروگرامز کے ذریعے اہم کردار ادا کیا جو اس چیلنج کی سنگینی اور مسلسل نگرانی کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔

صدر نے کہا کہ یہ سانحہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جوہری تحفظ کو صرف ایک تکنیکی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ اس کے لیے مستقل نظم و ضبط، مؤثر نگرانی اور خطرات کی واضح سمجھ بوجھ ضروری ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جوہری تنصیبات میں کسی بھی قسم کی غفلت یا دشمنانہ کارروائی کے نتائج فوری ہدف سے کہیں آگے تک پھیل سکتے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان ذمہ دارانہ طرزِ عمل، مضبوط حفاظتی اقدامات اور ایسے سانحات کے خطرات میں کمی کے لیے عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: چرنوبل کی تباہی کا قصہ: ہمارے لیے کیا سبق پوشیدہ ہے؟

انہوں نے زور دیان چرنوبل کا تجربہ ایک سنجیدہ یاد دہانی ہے کہ اس شعبے میں غلطی کی گنجائش نہایت کم ہے اور اس کی قیمت نسلیں ادا کرتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آپریشن سندور کے بعد بھارتی روپیہ پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد گر گیا

عالمی توانائی نظام میں تبدیلی، پاکستان کو مؤثر حکمت عملی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک

اہم پیش رفت، پودینے کے تیل سے دل کے امراض کے خطرات میں کمی ممکن

’کاکروچ جنتا پارٹی‘، بھارتی چیف جسٹس کے ریمارکس پر سیاسی تحریک چل پڑی

بنگلہ دیشی کلین سوئپ، پاکستان کی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ رینکنگ بری طرح متاثر

ویڈیو

مجھے ستارہ امتیاز کسی مخصوص شوٹ پر نہیں مجموعی کام کے اعتراف میں ملا، عرفان احسن کا ’حاسدین‘ کو جواب

خیبر پختونخوا: پی ٹی آئی کے 13 سالہ اقتدار کے بارے میں لوگوں کی رائے کیا ہے؟

انمول پنکی نے کن شخصیات کے خلاف بیانات دیے؟ وکیل نے ملاقات کی تفصیلات بتا دیں

کالم / تجزیہ

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟

وزیر آغا‘ ایک عہد جو مکالمہ بن گیا