چین نے ٹرمپ کے دورۂ بیجنگ سے قبل 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کر دیں

بدھ 13 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ دورۂ چین سے قبل امریکا کے ساتھ تعلقات میں اپنی 4 ’ریڈ لائنز‘ واضح کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تائیوان، انسانی حقوق اور اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں یہ بیان اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ دورۂ چین میں ’بڑی کامیابیوں‘ کے لیے پر امید

رشیا ٹو ڈے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات متوقع ہے، جس میں ٹرمپ نے شی جن پنگ کو ’دوست‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اچھے تعلقات ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق وہ ملاقات میں ایران سے متعلق جنگ پر بھی بات کریں گے، جس پر امریکا اور اسرائیل چین پر ایران کی حمایت کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

چینی سفارت خانے نے امریکا میں اپنے بیان میں دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے 4 ’ریڈ لائنز‘ کا ذکر کیا ہے، جن میں تائیوان، جمہوریت اور انسانی حقوق، سیاسی نظام اور ترقی کے راستے، اور چین کے ترقیاتی حقوق شامل ہیں۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ امریکا کو تائیوان میں علیحدگی پسند حکومت کی حمایت سے گریز کرنا چاہیے اور چین کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ چین، مشرق وسطیٰ بحران پر سفارتی کوششیں تیز

دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کے ایران کے خلاف اقدامات کے بعد چین اور امریکا کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے ہیں۔ امریکا کی جانب سے ایک چینی آئل ریفائنری پر ایرانی تیل کی خریداری کے الزام میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کے جواب میں چین نے اپنی نجی ریفائنریوں کو امریکی پابندیوں کی پابندی سے روک دیا ہے اور انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ چین اپنی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کا بھرپور تحفظ کرے گا اور امریکا کے ساتھ برابری، باہمی احترام اور مفادِ مشترکہ کی بنیاد پر تعلقات آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp