میٹا کے اے آئی چشموں پر خفیہ ریکارڈنگ کے الزامات، پرائیویسی کا بحران؟

بدھ 13 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں اسمارٹ یا اے آئی چشموں کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، تاہم ان کے ساتھ پرائیویسی سے متعلق خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

خاص طور پر میٹا کے رے بین اسمارٹ چشموں پر خفیہ ویڈیوز بنانے اور لوگوں کو بغیر اجازت ریکارڈ کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسمارٹ گلاسز کا خطرناک استعمال، خواتین سوشل میڈیا پر ہراسانی کا شکار

میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی خواتین نے شکایت کی کہ مرد ان چشموں کے ذریعے ان کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں، جبکہ متاثرہ افراد کو اس کا علم بعد میں ہوتا ہے۔

بعض خواتین نے ویڈیوز ہٹانے کی درخواست کی تو ان سے پیسے مانگے گئے۔

میٹا کے یہ چشمے بظاہر عام چشموں جیسے دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان میں خفیہ کیمرہ، اسپیکر اور اے آئی فیچرز موجود ہیں۔

صرف فریم کو چھونے سے ویڈیو یا تصویر بنائی جا سکتی ہے۔ ناقدین کے مطابق ریکارڈنگ کے دوران جلنے والی چھوٹی لائٹ اکثر لوگوں کو نظر ہی نہیں آتی۔

مزید پڑھیں: مترجم آپ کی ناک پر، اے آئی عینک کا نیا کمال

میٹا کا کہنا ہے کہ صارفین کو ٹیکنالوجی ذمہ داری سے استعمال کرنی چاہیے، تاہم کمپنی کے اسمارٹ چشموں کی فروخت مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب تک تقریباً 70 لاکھ جوڑے فروخت ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب ایپل، گوگل اور اسنیپ جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اپنے اسمارٹ چشمے متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: میٹا نے رے بین اسمارٹ چشمے لانچ کردیے، خصوصیات کیا ہیں؟

ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان بڑھا تو عوامی مقامات پر خفیہ ریکارڈنگ روکنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

پرائیویسی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی شامل ہونے کے بعد یہ چشمے نگرانی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp