ایران جنگ میں امریکا کے 39 طیارے تباہ ہوئے، امریکی رکنِ کانگریس کا دعویٰ

بدھ 13 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی کانگریس کے رکن ایڈ کیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکا کے 39 طیارے تباہ ہوئے، جبکہ متعدد دیگر کو نقصان پہنچا۔

پینٹاگون نے نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ نقصان کا تخمینہ ابھی لگایا جا رہا ہے۔

امریکی ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس ایڈ کیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز سے اب تک امریکا اپنے 39 طیارے کھو چکا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ ایک امریکی دفاعی جریدے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں کیا۔

ایڈ کیس نے یہ بات پینٹاگون کے چیف فنانشل آفیسر جے ہرسٹ سے سوالات کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی ویب سائٹ ’دی وار زون‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکا تقریباً 39 طیارے کھو چکا ہے، اگرچہ یہ رپورٹ تقریباً ایک ماہ پرانی ہے۔

یہ بھی پڑھیے مشرقی وسطیٰ کشیدگی: امریکی اڈوں کو بھاری نقصان، مرمت پر اربوں ڈالر خرچ ہونے کا امکان

کانگریس رکن نے پینٹاگون سے پوچھا کہ آیا ان طیاروں کے نقصانات اور مرمت پر آنے والی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے یا نہیں۔ اس پر جے ہرسٹ نے جواب دیا کہ پینٹاگون اب بھی جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا مکمل جائزہ لے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’نقصانات ضرور ہوئے ہیں، لیکن طیاروں کی مرمت اور بحالی کے اخراجات کا درست اندازہ لگانے سے پہلے مکمل تکنیکی جانچ ضروری ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ تنازع کے دوران امریکی فضائیہ نے تقریباً 13 ہزار پروازیں کیں۔ دعویٰ کیا گیا کہ ان کارروائیوں میں 39 طیارے تباہ جبکہ مزید 10 مختلف درجے کے نقصان کا شکار ہوئے۔

امریکی دفاعی جریدے کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک جدید F-35A Lightning II جنگی طیارہ ایرانی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایک Boeing E-3 Sentry ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول طیارہ بھی تباہ ہوا۔

تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ سینیٹ اجلاس کے دوران پینٹاگون حکام نے بھی ان نقصانات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیے عراق میں امریکی طیارہ گر کر تباہ، 6 اہلکار ہلاک ، سینٹکام کی تصدیق

واضح رہے کہ خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے کیے، جس کے بعد تہران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں کیں۔ اس دوران آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی اور رکاوٹیں دیکھی گئیں۔

بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی عمل میں آئی، تاہم اسلام آباد میں ہونے والے بعد کے مذاکرات مستقل معاہدے میں تبدیل نہ ہو سکے۔ بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا، جبکہ سفارتی کوششیں تاحال جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp