پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تیاری کے حوالے سے اہم مذاکرات کا باقاعدہ آغاز آج بروز بدھ سے اسلام آباد میں ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کا وفد گزشتہ روز پاکستان پہنچا تھا، جو آج وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور وزارتِ خزانہ کی معاشی ٹیم سے ملاقات کرے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئندہ بجٹ کی تیاری آئی ایم ایف کی قریبی مشاورت سے کی جائے گی تاکہ معاشی اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس سلسلے میں آئی ایم ایف کا مشن 20 مئی تک پاکستان میں قیام کرے گا اور مختلف مراحل میں معاشی اہداف پر تبادلہ خیال کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر کی قسط موصول، اسٹیٹ بینک کی تصدیق
مذاکرات کے اس ابتدائی مرحلے میں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور ریونیو کے حصول کے حوالے سے بڑے اہداف زیرِ بحث آئیں گے، آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف رواں سال کے مقابلے میں 2 ہزار ارب روپے اضافے کے ساتھ 15.3 ٹریلین روپے سے زائد مقرر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ حکومت نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد ساڑھے سات ملین تک پہنچانے کا ہدف بھی سامنے رکھا ہے، جبکہ سیلز ٹیکس میں دی گئی رعایتوں کو ختم کرنے اور حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی لانے کی تجاویز پر بھی مشاورت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بجلی سبسڈی کی اجازت دے دی
رپورٹس کے مطابق بجٹ مذاکرات میں قرضوں کے بوجھ کو معیشت کے 70 فیصد تک محدود کرنے اور ٹیکس سے جی ڈی پی کے تناسب کو بڑھانے کی کوششوں پر توجہ دی جائے گی۔ وفاقی بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) نے تنخواہ دار طبقے اور کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ممکنہ ٹیکس ریلیف کو ٹیکس نیٹ میں اضافے کی پیشرفت سے مشروط کر دیا ہے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد ایک ایسا بجٹ تیار کرنا ہے جو عالمی مالیاتی پروگرام کی شرائط کے مطابق ہو اور ملک کو طویل مدتی معاشی استحکام کی جانب لے جاسکے۔
آئندہ بجٹ میں 230 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجاویز زیرِ بحث ہیں، جبکہ نئے ٹیکس اقدامات کے ذریعے مجموعی طور پر تقریباً 700 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کرنے کا ہدف طے کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت کو یہ بھی توقع ہے کہ معاشی ترقی اور مہنگائی کے باعث ٹیکس وصولی میں ہونے والے اضافے سے مزید 1.3 ٹریلین روپے کا ریونیو حاصل ہوسکے گا۔














