برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پودینے کا تیل ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کے لیے ایک سستا، قدرتی اور مؤثر علاج ثابت ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق 20 روز تک روزانہ معمولی مقدار میں پودینے کے تیل کا استعمال کرنے والے افراد کے سسٹولک بلڈ پریشر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جسے ماہرین نے دل کی بیماریوں کے خطرات کم کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
سائنس دانوں نے ہائی بلڈ پریشر کے علاج کے لیے ایک قدرتی اور کم خرچ طریقہ دریافت کر لیا ہے، جس میں پودینے کے تیل کو مؤثر قرار دیا گیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق روزانہ پودینے کے تیل کے سپلیمنٹس کا استعمال ہلکے درجے کے بلند فشارِ خون کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ہائی بلڈ پریشر سے بچاؤ کے لیے ہفتے میں کتنے گھنٹے ورزش کرنا ضروری ہے؟
یونیورسٹی آف لنکاشائر کے محققین نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ 20 دن تک روزانہ دو مرتبہ 100 مائیکرو لیٹر پودینے کے تیل کا استعمال کرنے والے افراد کے سسٹولک بلڈ پریشر، یعنی بلڈ پریشر کی اوپری سطح، میں اوسطاً 8.5 ملی میٹر مرکری کمی دیکھی گئی۔
یہ تحقیق طبی جریدے PLOS One میں شائع ہوئی، جس میں پودینے کے تیل کو ہائی بلڈ پریشر کے ابتدائی مرحلے سے نمٹنے کے لیے ایک سادہ، کم لاگت اور قابلِ برداشت طریقہ قرار دیا گیا ہے۔
تحقیق کے سربراہ اور اسپورٹ اینڈ ہیلتھ سائنسز کے ماہر ڈاکٹر جونی سنکلیئر کے مطابق ہائی بلڈ پریشر دنیا بھر میں دل کی بیماریوں اور اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، جبکہ اس کے علاج پر بھاری اخراجات بھی آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس کے علاج کے لیے ادویات عام طور پر استعمال کی جاتی ہیں، تاہم طویل مدت میں ان کا مؤثر ہونا ہمیشہ واضح نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ان کے مضر اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پودینے میں مینٹھول اور فلیونوئیڈز جیسے قدرتی مرکبات پائے جاتے ہیں، جو صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔ تحقیق میں 18 سے 65 سال عمر کے 40 افراد کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایسے شرکا جو پری ہائپرٹینشن یا ابتدائی درجے کے ہائی بلڈ پریشر کا شکار تھے اور جنہیں روزانہ معمولی مقدار میں پودینے کا تیل دیا گیا، ان کی صحت میں بہتری دیکھی گئی۔ دوسری جانب وہ افراد جنہیں صرف پودینے کے ذائقے والا مگر بغیر فعال اجزا کے پلیسبو دیا گیا، ان میں نمایاں تبدیلی سامنے نہیں آئی۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے صرف بلڈ پریشر ہی نہیں بلکہ جسمانی پیمائشوں، خون کے ٹیسٹ، ڈائسٹولک بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن، ذہنی صحت اور نیند کے معیار کا بھی جائزہ لیا۔
یہ بھی پڑھیے ہائی بلڈ پریشر خاموشی سے گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، نئی تحقیق
ڈاکٹر سنکلیئر کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا ہیں اور ان کے طبی میدان میں اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ شریانوں کا بلند فشارِ خون دل اور میٹابولک امراض کی سب سے عام قابلِ تدارک وجہ ہے اور عالمی سطح پر اموات کے بڑے خطرات میں شمار ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پودینے کا تیل کم قیمت اور کم کیلوریز پر مشتمل ہے، اس لیے یہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے لیے ایک نہایت آسان اور مؤثر علاجی متبادل بن سکتا ہے۔














