امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کا ’بہت بڑا حصہ طے پا چکا ہے‘ اور مجوزہ فریم ورک کے تحت اہم عالمی تجارتی راستہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گی۔ ٹرمپ کے مطابق معاہدے کی حتمی تفصیلات پر بات چیت جاری ہے اور جلد اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، تاہم ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ایسے معاہدے کی توثیق موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی امن کوششیں قابلِ تحسین، خطے میں پائیدار استحکام کے لیے پاکستان متحرک، وزیراعظم شہباز شریف
بی بی سی اور العربیہ انگلش کی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ایران کے ساتھ ایک تقریباً مکمل شدہ مفاہمتی یادداشت پر کام جاری ہے جس میں امن فریم ورک اور آبنائے ہرمز کی بحالی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکی، مصر، اردن اور پاکستان سمیت کئی رہنماؤں سے بات کی ہے جنہوں نے اس عمل کی حمایت کی ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز یا کسی بڑے امن معاہدے سے متعلق کوئی حتمی اتفاق موجود نہیں ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات کا عمل ابتدائی مرحلے میں ہے اور اہم امور پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک ایران امریکا سفارت کاری رنگ لے آئی، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اہم پیش رفت کی تصدیق کر دی
بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ بات چیت میں کچھ پیشرفت ضرور ہوئی ہے، تاہم فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ العربیہ انگلش کے مطابق مذاکرات میں ممکنہ طور پر جنگ بندی میں توسیع، تیل کی ترسیل میں نرمی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امور زیر غور ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان بھی اس عمل میں سفارتی رابطوں کے ذریعے کردار ادا کر رہا ہے اور مختلف فریقین کے درمیان بات چیت میں سہولت کاری کی کوششیں جاری ہیں۔
صدر ٹرمپ کی امن کوششیں قابلِ تحسین، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خطے میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف ممالک کی قیادت کے ساتھ ہونے والی حالیہ مشاورت انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان جلد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کرے گا، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’امن کے فروغ کے لیے غیرمعمولی کوششوں‘ کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف ممالک کے رہنماؤں اور نمائندوں کے ساتھ ہونے والا حالیہ ٹیلیفونک رابطہ انتہائی مفید اور مثبت رہا۔
اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس رابطے میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ انہوں نے امن عمل کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ’انتھک کوششوں‘ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
I congratulate President Donald Trump on his extraordinary efforts to pursue peace and for holding a very useful and productive telephone call earlier today, with the leaders of Saudi Arabia, Qatar, Turkiye, Egypt, the UAE, Jordan and Pakistan. Field Marshal Syed Asim Munir…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) May 24, 2026
وزیراعظم کے مطابق اس گفتگو کے دوران خطے کی موجودہ صورتحال اور جاری امن کوششوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ خطے میں دیرپا استحکام یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مکمل خلوص کے ساتھ اپنی امن کوششیں جاری رکھے گا اور امید ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور جلد منعقد ہوگا۔
وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اہم پیش رفت کی تصدیق کر دی
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک اہم ترین بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی قیادت میں پاکستان سمیت سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے سربراہان کے درمیان ایک تاریخی ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
اسحاق ڈار نے اسے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور جلد ممکنہ سفارتی حل کی جانب ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے اس حساس عمل میں وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مرکزی سفارتی کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
Today’s important telephone call led by President Donald J. Trump @realDonaldTrump with the leaders of Pakistan, Saudi Arabia, Türkiye, Qatar, Egypt, the UAE, and Jordan marks a significant step closer toward the shared objective of regional peace, stability, and an early…
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) May 24, 2026
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنی ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے رہنماؤں کے ساتھ کیا جانے والا آج کا اہم ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن، استحکام اور جلد ممکنہ سفارتی حل کے ہمارے مشترکہ ہدف کی جانب ایک بڑا اور اہم قدم ہے، ان شاء اللہ۔
سینیٹر اسحاق ڈار نے صدارتی سفارت کاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور مذاکرات و سفارت کاری کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کو دل سے تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور پوری امریکی ٹیم (بشمول اسٹو وٹکوف اور جیرڈ کشنر) کی کوششوں کی بھی تعریف کی، جن کے مسلسل رابطوں نے جاری مذاکرات میں بامعنی پیش رفت حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کی امن کوششیں قابلِ تحسین، خطے میں پائیدار استحکام کے لیے پاکستان متحرک، وزیراعظم شہباز شریف
نائب وزیر اعظم نے ان امن کوششوں کو آگے بڑھانے میں ایرانی قیادت کے تعمیری کردار کا اعتراف کیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مثبت رویے کو دل سے سراہتے ہیں۔
سینیٹر اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ وہ خود 28 فروری سے اس پورے سفارتی عمل کے دوران عالمی قیادت کے ساتھ مسلسل قریبی رابطے میں رہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور برادر علاقائی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا، جن میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی اور قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی شامل ہیں، جن کے تعمیری تعاون اور حمایت نے اس حتمی نتیجے کے حصول میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا، ’میں خاص طور پر پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دور اندیش وژن اور امن کے لیے ان کے پختہ عزم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کو سراہتا ہوں جنہوں نے اس انتہائی حساس اور دور رس عمل کے دوران ایک مرکزی کردار ادا کیا اور آج کی اس اہم ترین عالمی بات چیت میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔‘ انہوں نے اس طویل کاوش میں مسلسل اور مستقل سفارتی تعاون فراہم کرنے پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ (دفتر خارجہ) کا بھی شکریہ ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیے امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق، 24 گھنٹوں میں اعلان متوقع، امریکی اخبار کا دعویٰ
اپنے بیان کے اختتام پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پائیدار امن، باہمی احترام اور علاقائی استحکام کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ان مذاکرات کے کامیاب نتائج اس امید کو تقویت دیتے ہیں کہ ایک مثبت اور پائیدار حل اب ہماری پہنچ میں ہے، ان شاء اللہ۔ ہمارے خطے اور اس سے آگے کے ممالک کی مشترکہ خوشحالی اور سلامتی کے لیے جنگ و تصادم کے مقابلے میں ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کو ہی فتح ملنی چاہیے۔














