اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ چیف آف اسٹاف ایال ضمیر نے اسدی تیمان لیک اسکینڈل میں مبینہ ملوث ہونے پر سابق فوجی ایڈووکیٹ جنرل یفات تومر یروشالمی کو باضابطہ طور پر فوجی سروس سے برطرف کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی جیلوں میں جنسی تشدد بے نقاب، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پر تل ابیب سیخ پا
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج کے مطابق نومبر میں الزامات سامنے آنے کے فوراً بعد انہیں معطل کر دیا گیا تھا تاہم جاری فوجداری کارروائی اور الزامات کی سنگینی کے باعث اب ان کی مستقل برطرفی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
فوجی اعلامیے کے مطابق برطرفی کے نتیجے میں وہ ان مالی مراعات سے بھی محروم ہو جائیں گی جو عموماً اعلیٰ فوجی افسران کو ریٹائرمنٹ کے وقت دی جاتی ہیں۔ اسرائیلی فوجی قیادت نے عندیہ دیا ہے کہ اگر عدالتی کارروائی میں الزامات ثابت ہوئے تو ان کے فوجی عہدے میں تنزلی پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
یہ معاملہ اسدی تیمان حراستی مرکز سے مبینہ طور پر لیک ہونے والی اس ویڈیو سے متعلق ہے جس میں ایک فلسطینی قیدی کے ساتھ اسرائیلی اہلکاروں کی مبینہ بدسلوکی دکھائی گئی تھی۔ ویڈیو سنہ 2024 کے آخر میں اسرائیلی ٹی وی چینل پر نشر ہونے کے بعد شدید تنازع کا باعث بنی تھی۔
مزید پڑھیے: جنوری 2025 تا حال: ہر ہفتے ایک فلسطینی بچہ صیہونی فورسز کے ہاتھوں شہید، یونیسیف
اس واقعے کے بعد فوجی پولیس نے کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا تھا جبکہ اس معاملے نے اسرائیل میں سیاسی اور عوامی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔
تحقیقات کے دوران ایڈووکیٹ جنرل یفات تومر یروشالمی خود بھی مرکزی ملزم بن گئیں اور بعد ازاں انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دے کر ویڈیو لیک کرنے کا اعتراف کیا۔
مزید پڑھیں: فلسطینی قیدیوں پر تشدد، اقوام متحدہ نے اسرائیل کو کٹہرے میں کھڑا کردیا، سخت سوالات
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف فوجداری کارروائی کو تیز کیا جائے تاکہ انہیں مزید سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے۔
اس وقت سابق فوجی قانونی افسر پولیس تحقیقات مکمل ہونے تک گھر میں نظر بند ہیں جبکہ فوجی قانونی شعبے کے کئی دیگر اعلیٰ اہلکار بھی تحقیقات کے باعث معطل کیے جا چکے ہیں۔














