چیلنجز کے ساتھ صحت کے شعبے میں بہتری، اوسط عمر 67.8 سال تک پہنچ گئی، اقتصادی سروے

جمعرات 11 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی جانب سے پیش کردہ ‘قومی اقتصادی سروے 26-2025’ کے مطابق پاکستان میں صحت کے شعبے کے کئی اہم اشاریوں میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔

تاہم جمعرات کو پیش کیے گئےاقتصادی سروے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ صحت کی سہولیات تک غیر مساوی رسائی، آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور بیماریوں کا بڑھتا ہوا بوجھ اب بھی بڑے مسائل ہیں۔

اوسط عمر اور ماں و بچے کی صحت

اقتصادی سروے کے اعداد و شمار کے مطابق، پیدائش کے وقت اوسط عمر جو 2018 میں 66.5 برس تھی، وہ 2024 میں بڑھ کر 67.8 برس ہو گئی ہے۔ اوسط عمر میں یہ اضافہ بہتر طبی سہولیات، ویکسینیشن پروگرامز اور علاج معالجے تک رسائی کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اقتصادی سروے کا اثرات، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس مثبت زون میں بند

اقتصادی سروے کے مطابق ماں اور بچے کی صحت کے شعبے میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے۔ زچگی کے دوران اموات کی شرح جو 2007 میں ایک لاکھ پیدائشوں پر 276 تھی، وہ 2019 میں کم ہو کر 186 پر آ گئی ہے۔

اسی طرح نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات ایک ہزار پیدائشوں پر 41 سے کم ہو کر 35 جبکہ شیر خوار بچوں کی شرحِ اموات 60 سے کم ہو کر 47 رہ گئی ہے۔

ویکسینیشن اور انسانی وسائل میں اضافہ

حفاظتی ٹیکوں (ویکسینیشن) کی کوریج میں بھی بہتری آئی ہے، جہاں 19-2018 میں یہ شرح 68 فیصد تھی جو 25-2024 میں بڑھ کر 73 فیصد تک پہنچ گئی۔

اقتصادی سروے کے مطابق انسدادِ پولیو اور دیگر حفاظتی پروگراموں نے اس پیش رفت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ علاوہ ازیں، صحت کے شعبے میں انسانی وسائل کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کے مطابق رجسٹرڈ ڈاکٹرز کی تعداد 3 لاکھ 36 ہزار 582 جبکہ نرسز کی تعداد 1 لاکھ 38 ہزار 391 رہی، اسی طرح دندان ساز ڈاکٹز کی تعداد 42 ہزار سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

سرکاری اخراجات اور مستقبل کے منصوبے

مالی سال 25-2024 میں صحت کے شعبے پر سرکاری اخراجات 942.2 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ حکومت نے نیشنل ڈیجیٹل ہیلتھ ہب، ذیابیطس کی روک تھام، ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے اور نرسنگ اصلاحات جیسے متعدد اہم منصوبوں کا آغاز کیا ہے۔

خطے کے مقابلے میں موجود چیلنجز

اقتصادی سروے کے مطابق اگرچہ بہتری آئی ہے لیکن جنوبی ایشیا کے مقابلے میں پاکستان کے کئی صحت اشاریے اب بھی کمزور ہیں۔ خطے میں اوسط عمر 72.6 برس ہے جبکہ پاکستان میں یہ 67.8 برس ہے۔اسی طرح شیر خوار بچوں کی شرحِ اموات بھی علاقائی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں:قومی اقتصادی سروے : چیلنجز کے باوجود معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، شرح نمو 3.7 فیصد رہی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

اقتصادی سروے کے مطابق پائیدار ترقی کے لیے صحت کے بجٹ میں مزید اضافہ، بنیادی مراکزِ صحت کی بہتری اور دیہی علاقوں تک معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو مستقبل کی اہم ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp