یونائیٹڈ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (UPA)، ایکٹرز کلیکٹو پاکستان (ACT) اور ڈائریکٹرز گلڈ پاکستان (DGP) نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا کہ غیر ملکی ٹی وی شوز اور اشتہارات پر عائد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کے منصوبے کو فوری طور پر معطل کیا جائے کیونکہ ان کے مطابق اس پالیسی سے مقامی صنعت کو معاشی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
پروڈیوسرز، اداکاروں اور ہدایت کاروں کی نمائندہ ان تین تنظیموں نے اپنے مشترکہ بیان میں یاد دلایا کہ یہ ایڈوانس ٹیکس 2013-14 میں اس وقت کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے مقامی میڈیا کو مضبوط بنانے کے لیے ایک پالیسی کے طور پر متعارف کرایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی رسید نہیں، اصل ٹیکس: پنجاب حکومت کا ٹیکس چوروں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن
تنظیموں نے ٹیکس اصلاحات کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تخلیقی معیشت (Creative Economy) کو متاثر کرنے والی کسی بھی پالیسی پر عمل درآمد سے پہلے تمام متعلقہ فریقین سے بامعنی مشاورت ضروری ہے۔ انہوں نے تخلیقی صنعت سے متعلق مسائل کے حل کے لیے قومی تخلیقی معیشت پالیسی (National Creative Economy Policy) تشکیل دینے کا بھی مطالبہ کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایک ایسی پالیسی جس پر ایک دہائی سے زائد عرصے سے عمل ہو رہا ہے اسے ختم کرنے کا فیصلہ صرف جامع معاشی جائزے اور متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد ہی ہونا چاہیے‘۔
یہ بھی پڑھیں: کنگ چارلس کا پہلی بار ٹیکس ریکارڈ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ
تنظیموں کے مطابق میڈیا انڈسٹری ٹیلی ویژن، فلم، ڈیجیٹل میڈیا، اشتہارات، موسیقی، اینی میشن، پوسٹ پروڈکشن اور دیگر متعلقہ شعبوں سے وابستہ ہزاروں پیشہ ور افراد اور ان کے خاندانوں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہے۔
تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ درآمدی مواد سے متعلق مجوزہ فیصلے پر عمل درآمد مؤخر کیا جائے، تمام متعلقہ فریقین کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے، معاشی اثرات پر مبنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے اور تخلیقی شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے قومی تخلیقی معیشت پالیسی تشکیل دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اب بھی موبائل فونز پر عائد ٹیکسز میں کمی ہو سکتی ہے؟
معروف اداکار فیصل قریشی نے بھی حالیہ دنوں میں اس مجوزہ پالیسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیر ملکی مواد کی درآمد میں اضافے سے مقامی فنکاروں، تکنیکی عملے اور دیگر وابستہ افراد کے روزگار کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح اداکار و ہدایت کار شمون عباسی نے خبردار کیا کہ پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری نے طویل جدوجہد کے بعد اپنی موجودہ حیثیت حاصل کی ہے اور غیر ملکی مواد کی غیر محدود واپسی مقامی تخلیقی صنعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کا ٹیکس فری اور سرپلس بجٹ پیش، ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 7 فیصد اضافہ، 5 ہزار نئی آسامیوں کا اعلان
تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل صنعت کے نمائندوں سے مشاورت نہ صرف ضروری ہے بلکہ اس سے مقامی میڈیا سیکٹر کے معاشی مفادات کا بہتر تحفظ بھی ممکن ہو سکے گا۔














