یورپ کے مختلف ممالک کو اپنی لپیٹ میں لینے والی ریکارڈ گرمی کی لہر کے دوران اسپین میں صرف 4 روز کے اندر 212 اموات گرمی سے منسلک ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 121 سال بعد اسپین میں مکمل سورج گرہن، فلکیات کے شائقین پُرجوش
اسپین کے سرکاری مانیٹرنگ سسٹم کے مطابق اتوار سے بدھ تک اموات کی تعداد معمول سے نمایاں طور پر زیادہ رہی جسے شدید گرمی کی حالیہ لہر سے جوڑا جا رہا ہے۔
مانیٹرنگ سسٹم نظام روزانہ کی بنیاد پر اموات کے اعداد و شمار جمع کرتا ہے اور انہیں ماضی کے ریکارڈ کی بنیاد پر متوقع شرح اموات سے موازنہ کرتا ہے۔ یہ نظام موسمیاتی ادارے اے ای میٹ کے فراہم کردہ درجہ حرارت سمیت دیگر عوامل کو بھی مدنظر رکھتا ہے تاکہ اموات میں اضافے کی ممکنہ وجوہات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2025 کے اسی 4 روزہ عرصے میں جو اسپین کی تاریخ کا گرم ترین موسم گرما قرار دیا گیا تھا اضافی اموات کی تعداد 98 ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ رواں سال یہ تعداد 212 تک پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، فرانس میں گرمی سے بچنے کی کوشش میں 40 افراد ڈوب گئے
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 16 مئی سے 30 ستمبر کے دوران اسپین میں گرمی سے متعلق 3,832 اموات ریکارڈ کی گئیں جو سنہ 2024 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 87.6 فیصد زیادہ تھیں۔
جون میں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ
اس ہفتے اسپین کے مرکزی علاقوں میں جون کے مہینے کے دوران 1950 کے بعد سب سے زیادہ اوسط یومیہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
پیر کے روز اوسط درجہ حرارت 28.08 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ منگل کو 28.17 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو جون کے مہینے کے لیے غیرمعمولی سطح ہے۔
اسی طرح رات کے کم سے کم درجہ حرارت نے بھی ریکارڈ قائم کیے۔ پیر کو کم سے کم اوسط درجہ حرارت 20.14 ڈگری سینٹی گریڈ اور منگل کو 19.81 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔
مزید پڑھیں: شدید گرمی میں ڈی ہائیڈریشن کا مسئلہ: درست رہنمائی کے لیے اسمارٹ گیجٹس متعارف
ماہرین کے مطابق ایسی راتیں جنہیں ’ٹروپیکل نائٹس‘ کہا جاتا ہے لوگوں کے لیے آرام دہ نیند کو مشکل بنا دیتی ہیں اور صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔
شمالی اسپین بھی شدید گرمی کی زد میں
گرمی کی شدت کے باعث اسپین کے شمالی علاقوں کینٹابریا اور باسک کنٹری سمیت کئی مقامات پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا حالانکہ یہ علاقے عموماً شدید گرمی سے محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔
بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا۔
تاہم جمعرات تک بیشتر موسمی انتباہات ختم کر دیے گئے اور صرف چند شمالی علاقوں میں کم درجے کا یلو الرٹ برقرار رہا۔
یہ بھی پڑھیے: مرجانی چٹانوں کی شدید گرمی میں زندہ رہنے کی صلاحیت: موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں امید کی نئی کرن
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یورپ میں شدید گرمی کی لہروں کی شدت اور دورانیہ دونوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کے انسانی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔














