پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے آزاد جموں و کشمیر (آزاد کشمیر) سے متعلق شائع کی گئی ایک رپورٹ پر بی بی سی اردو کے سامنے باضابطہ اور سخت احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی جی آزاد کشمیر پولیس نے سڑکوں کی بندش سے متعلق رپورٹ مسترد کر دی
وزارت اطلاعات کے مطابق مذکورہ رپورٹ میں غیر مصدقہ اور یکطرفہ دعوؤں پر انحصار کیا گیا جبکہ سرکاری مؤقف، دستیاب حقائق اور متعلقہ حکام کے آن ریکارڈ بیانات کو نظر انداز کیا گیا۔
وزارت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ رپورٹ میں پیش کیے گئے الزامات کی نہ تو مناسب تصدیق کی گئی اور نہ ہی انہیں مستند ذرائع سے جانچا گیا جس کے باعث عوام کو گمراہ کرنے کا خدشہ پیدا ہوا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب اس نوعیت کی رپورٹنگ سامنے آئی ہو بلکہ غیر مصدقہ معلومات کی اشاعت ایک تشویشناک رجحان بنتی جا رہی ہے جس کی اصلاح کے لیے ضروری اقدامات کیے جانے چاہییں۔
Ministry of Information and Broadcasting has lodged a strong official protest and formal complaint with BBC Urdu over the publication of fake news regarding Azad Jammu & Kashmir.
The report relied on unverified and uncorroborated allegations while disregarding official facts and…
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) June 25, 2026
دوسری جانب پاکستان نے برطانیہ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد افراد کو آزاد کشمیر میں کالعدم تنظیموں کی حمایت سے باز رہنے کے لیے متنبہ کرے۔
مزید پڑھیے: بی بی سی کی آزاد کشمیر کے حوالے سے یکطرفہ اور گمراہ کن رپورٹنگ، حقائق کیا ہیں؟
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بعض برطانوی شخصیات اور پاکستانی نژاد افراد کے آزاد کشمیر سے متعلق بیانات اور تبصروں کو غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد اور حقائق سے لاعلمی پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق آزاد کشمیر کی صورتحال پر بعض حلقوں کی جانب سے کیے گئے تبصرے نہ صرف تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے بلکہ وہ خطے کی حساس صورتحال کو بھی نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد افراد اور دیگر متعلقہ عناصر پر زور دیا گیا کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات، بالخصوص آزاد جموں و کشمیر سے متعلق امور میں مداخلت سے گریز کریں۔
قبل ازیں انسپکٹر جنرل (آئی جی) آزاد جموں و کشمیر پولیس لیاقت علی ملک نے سڑکوں کی بندش سے متعلق بی بی سی کی رپورٹ کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں بیشتر شاہراہیں معمول کے مطابق کھلی ہیں اور رپورٹ میں زمینی حقائق کی درست عکاسی نہیں کی گئی۔
مظفرآباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی آزاد کشمیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ بی بی سی جیسے بین الاقوامی ادارے نے زمینی صورتحال کی تصدیق کیے بغیر خبر نشر کی۔
مزید پڑھیں: جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح، امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعظم آزاد کشمیر
انہوں نے کہا کہ اس وقت آزاد کشمیر میں تمام اہم شاہراہیں کھلی ہیں اور صرف راولاکوٹ کے چند مقامات پر محدود نوعیت کی رکاوٹیں موجود ہیں۔














