بحیرہ عرب میں تجارتی جہاز پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل پھرمہنگا

جمعہ 26 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرقِ وسطیٰ کے اہم تجارتی آبی راستے پر ایک بار پھر حملوں کے بادل منڈلانے لگے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی کی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ عمان کے ساحلی علاقے کے قریب ایک بین الاقوامی کارگو بحری جہاز پر اچانک داغے گئے پروجیکٹائل (میزائل یا خودکش ڈرون) کے حملے نے عالمی سرمایہ کاروں اور تیل کے تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جس کا فوری اثر خام تیل کی قیمتوں پر دیکھا جا رہا ہے۔

شپنگ ذرائع کے مطابق اس حملے سے جہاز کے ایک حصے کو نقصان پہنچا ہے تاہم عملہ محفوظ بتایا جاتا ہے، لیکن اس واقعے نے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل بحری راستوں کی سیکیورٹی پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔

جیسے ہی بین الاقوامی بحری سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اس حملے کی تصدیق کی گئی، عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اچانک تیزی دیکھی گئی۔ بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ کروڈ اور امریکی خام تیل دونوں کی قیمتوں میں فوری طور پر 2 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا کیونکہ تاجروں کو خدشہ ہے کہ اگر خلیجی پانیوں میں کمرشل جہازوں کو نشانہ بنانے کا یہ سلسلہ نہ رکا تو آبنائے ہارموز سے ہونے والی تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

انرجی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے جغرافیائی و سیاسی واقعات سپلائی چین میں تاخیر کا سبب بنتے ہیں کیونکہ انشورنس کمپنیاں اس روٹ سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ‘وار رسک پریمیم’ کی فیس فوری طور پر بڑھا دیتی ہیں، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر پڑتا ہے۔

اس تشویشناک واقعے کے بعد بین الاقوامی بحری سیکیورٹی فورسز اور خطے میں موجود اتحادی ممالک کے بحری بیڑوں نے گشت بڑھا دیا ہے اور کمرشل جہازوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ابھی تک کسی عالمی طاقت یا عسکری گروپ نے اس حملے کی باقاعدہ ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، جس کی وجہ سے خطے میں ابہام اور خوف کی فضا برقرار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp