برطانیہ میں منفرد ایپ لانچ، گرمی سے بچنے کے لیے ایئر کنڈیشنڈ مقامات کا نقشہ جاری

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ میں شدید گرمی کی لہر کے دوران شہریوں کو ٹھنڈی جگہوں تک آسان رسائی فراہم کرنے کے لیے ایک نیا انٹرایکٹو نقشہ متعارف کرا دیا گیا ہے جس کے ذریعے صارفین اپنے پوسٹ کوڈ کی مدد سے قریبی ایئر کنڈیشنڈ کیفے، ریسٹورنٹس، پب اور بارز کا پتہ لگا سکتے ہیں۔

“Where’s Cool” نامی اس مفت آن لائن نقشے کو سافٹ ویئر ڈویلپر تھامس چیورز نے تیار کیا ہے۔ ان کے مطابق برطانیہ میں بیشتر گھروں میں ایئر کنڈیشننگ کی سہولت موجود نہیں، اس لیے شدید گرمی کے دوران لوگوں کے لیے قریبی ٹھنڈی جگہوں کی معلومات تک رسائی انتہائی اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں شدید گرمی اور حبس برقرار، چند علاقوں میں بارش کا امکان

تھامس چیورز نے بتایا کہ گزشتہ ہیٹ ویو کے دوران انہیں ایسی جگہ تلاش کرنے میں دشواری پیش آئی جہاں وہ آرام سے بیٹھ کر کام کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر کیفے کے گوگل ریویوز میں ایئر کنڈیشننگ کی معلومات تلاش کرنا ممکن نہیں تھا جس کے بعد انہوں نے یہ پلیٹ فارم تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

یہ نقشہ انگلینڈ اور ویلز میں فوڈ اسٹینڈرڈز ایجنسی کے رجسٹرڈ فوڈ آؤٹ لیٹس کے ڈیٹا کو حکومت کے انرجی پرفارمنس سرٹیفکیٹ (EPC) ریکارڈ سے ملا کر تیار کیا گیا ہے جس کے ذریعے ان مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں کولنگ یا ایئر کنڈیشننگ کا نظام موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یورپ میں شدید گرمی کی لہر سے 1,300 سے زائد اموات، عالمی ادارۂ صحت کا انتباہ

اس پلیٹ فارم کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ صارفین بھی اس میں معلومات شامل کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی صارف کسی مقام پر ایئر کنڈیشننگ کی موجودگی یا عدم موجودگی کی تصدیق کرتا ہے اور متعدد افراد اس کی توثیق کر دیتے ہیں تو نقشہ خودکار طور پر اپ ڈیٹ ہو جاتا ہے جس سے اس کی درستگی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ حالیہ برسوں کی شدید ترین گرمی کا سامنا کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیمپشائر کے شہر گوسپورٹ میں درجہ حرارت 36.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جس کے باعث انگلینڈ اور ویلز میں سینکڑوں اسکول بند رہے جبکہ ٹرانسپورٹ کا نظام بھی متاثر ہوا اور ریلوے حکام نے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت جاری کی۔

یہ بھی پڑھیں: 40 ڈگری سے زائد گرمی نے یورپ کو جھلسا دیا، فرانس میں ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کرگئی

برطانوی محکمہ موسمیات نے ملک کے بعض علاقوں کے لیے شدید گرمی کی ریڈ وارننگ جاری کی ہے جو تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلسل تین دن تک نافذ رہی۔

میٹ آفس کے چیف موسمیات دان اینڈی پیج کے مطابق شدید گرمی کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے لہٰذا عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی روزمرہ سرگرمیوں میں احتیاط برتیں اور گرمی سے بچاؤ کے لیے ضروری اقدامات اختیار کریں۔

دوسری جانب برطانیہ کی ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی نے بھی ریڈ ہیٹ ہیلتھ الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی صحت مند افراد کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ ادارے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پانی کا زیادہ استعمال کریں، دن کے گرم ترین اوقات میں دھوپ سے گریز کریں اور گھروں کو زیادہ سے زیادہ ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp