بحیرۂ عرب میں تعینات امریکی بحریہ کا ایک ہیلی کاپٹر ہنگامی طور پر پانی میں لینڈنگ کرنے پر مجبور ہو گیا، جس کے نتیجے میں ایک امریکی فوجی اہلکار لاپتا جبکہ 3 دیگر زخمی ہو گئے۔
امریکی بحریہ کے مطابق یہ واقعہ یکم جولائی کو پیش آیا۔ زخمی ہونے والے 3 اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر اور مستحکم بتائی گئی ہے، جبکہ لاپتا اہلکار کی تلاش کے لیے بحیرۂ عرب میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
On July 1 at 3:30 a.m. ET, the aircrew of an MH-60S Sea Hawk helicopter assigned to USS George H.W. Bush (CVN 77) conducted an emergency water landing in the Arabian Sea. There is no indication the emergency was caused by hostile action. Three of the helicopter’s four crew…
— U.S. Naval Forces Central Command/U.S. 5th Fleet (@US5thFleet) July 1, 2026
مزید پڑھیں:بحیرۂ عرب میں ڈرون کا ملبہ کشتی پر گرنے سے پاکستانی ماہی گیر جاں بحق
امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے (Fifth Fleet) نے اپنے بیان میں کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے کہ ہیلی کاپٹر کو کسی دشمنانہ کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ تاہم واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
بیان کے مطابق ہیلی کاپٹر امریکی طیارہ بردار بحری جہاز پر تعینات تھا، جو اپریل کے آخر سے خطے میں امریکی بحریہ کی اہم موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ماہرین کے مطابق ہیلی کاپٹر کی پانی پر ہنگامی لینڈنگ انتہائی خطرناک سمجھی جاتی ہے، کیونکہ ہیلی کاپٹر پانی میں اترنے کے بعد الٹ بھی سکتا ہے، جس سے عملے کی جان کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
🚨 JUST IN: An SEARCH AND RESCUE mission is underway for a US Navy Aircrewman who just went MISSING in Arabian Sea
Pray for his successful rescue 🙏🏻
4 out of 5 crew members have been recovered and are OKAY after their MH-60 Seahawk made an emergency landing.
NO indication that… pic.twitter.com/7NDigrsrCg
— Nick Sortor (@nicksortor) July 1, 2026
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج ہائی الرٹ پر ہیں۔ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی نافذ ہے، تاہم خطے میں وقفے وقفے سے کشیدگی اور تشدد کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جس کے باعث امریکی فوجی تنصیبات اور اہلکاروں کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔














