وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشتگرد آسان اہداف کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں، تاہم ریاست پوری قوت سے ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنا رہی ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے مقامی اسپتال کا دورہ کیا اور ہنہ اڑک دہشتگردی کے واقعے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی۔
مزید پڑھیں: بلوچستان دیکھنے کی چاہ میں آئے سیاح کے قتل کا مقدمہ درج، دہشتگردی سمیت متعدد دفعات شامل
وزیراعلیٰ نے زخمیوں کی خیریت دریافت کی، ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے پر انہیں شاباش دی۔
دہشتگردی کے خلاف جنگ منطقی انجام تک پہنچائیں گے، سرفراز بگٹی
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ کو ہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ شہدا کے خاندانوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ متاثرہ خاندانوں کی کفالت حکومت بلوچستان کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، جسے ہر صورت پورا کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیاکہ شہدا کے بچوں کو 16 سال تک مفت تعلیم، اسکالرشپس اور مکمل سرپرستی فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں، تاہم مالی امداد کے ساتھ شہدا کے اہل خانہ کی ہر ممکن دیکھ بھال بھی یقینی بنائی جائے گی۔
میر سرفراز بگٹی نے کہاکہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ایک پولیس جوان چوتھی مرتبہ دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے زخمی ہوا ہے، جو بلوچستان پولیس کی قربانیوں اور فرض شناسی کا واضح ثبوت ہے، بلوچستان پولیس کی قربانیاں پوری قوم کا فخر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان پولیس نے قلیل عرصے میں دہشتگردی کے خلاف اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بھرپور ثبوت دیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کررہے ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہاکہ بلوچستان کے حوالے سے کیا جانے والا منفی پروپیگنڈا حقائق کے منافی ہے اور ریاست کی رٹ ہر قیمت پر برقرار رکھی جائے گی۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردوں، ان کے سہولت کاروں اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
امن و امان کی بحالی کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس، اہم فیصلوں کی منظوری
دریں اثنا وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت امن و امان اور ہنہ اڑک کی صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں علاقے میں امن کی بحالی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں ہنہ اڑک اور اس کے گردونواح میں دہشتگردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن شروع کرنے کی منظوری دے دی گئی، تاکہ علاقے کو دہشتگرد عناصر سے پاک کرتے ہوئے امن و امان کی صورتحال کو معمول پر لایا جا سکے۔
مظاہرین سے مذاکرات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم
اجلاس میں مظاہرین سے بات چیت کے لیے وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو اور صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ مذاکراتی کمیٹی فوری طور پر مظاہرین، قبائلی عمائدین، منتخب نمائندوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ کرے گی تاکہ معاملات کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جا سکے۔
جوائنٹ چیک پوسٹ قائم کرنے کا فیصلہ
اجلاس میں شورش زدہ علاقے میں امن و امان کے قیام کے لیے فوری طور پر جوائنٹ چیک پوسٹ قائم کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کی سازش ناکام، سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشتگرد ہلاک
فیصلے کے مطابق جوائنٹ چیک پوسٹ آج سے فعال ہوگی، جہاں تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ طور پر اپنی سیکیورٹی ذمہ داریاں انجام دیں گے تاکہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔














