کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ نئے سال، سالگرہ، کسی نئے مہینے یا حتیٰ کہ پیر کے دن (یا ہفتے کے پہلے ورکنگ ڈے) سے ہی انسان کو اپنی زندگی بدلنے کا نیا حوصلہ کیوں ملتا ہے؟ ماہرین نفسیات کے مطابق ایسے مواقع دماغ کو ایک نئی شروعات کا احساس دیتے ہیں جس سے انسان پرانی ناکامیوں کو پیچھے چھوڑ کر نئے اہداف کے حصول کے لیے زیادہ پرعزم ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اب بھی وقت ہے غذا اچھی طرح چبا کر کھائیں، جانیے بہتر ہاضمے کے علاوہ اس عمل کے ’بونس‘ فوائد
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کسی بھی خاص موقع کو نئی شروعات کے طور پر دیکھنا انسان کی حوصلہ افزائی بڑھا سکتا ہے اور اسے اپنی عادتیں بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم صرف نئے اہداف مقرر کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں مستقل عادتوں میں تبدیل کرنا بھی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر نئے سال کے وعدے چند ہفتوں بعد کمزور پڑ گئے ہیں تو یہ غیر معمولی بات نہیں کیونکہ کسی بھی بڑے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے صرف جذبہ نہیں بلکہ درست حکمت عملی، چھوٹے اقدامات اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔
نئی شروعات کا نفسیاتی اثر کیسے کام کرتا ہے؟
امریکا کی یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے وارتن اسکول کی پروفیسر اور رویوں میں تبدیلی پر تحقیق کرنے والی ماہر کیٹی ملک مین کے مطابق انسان مخصوص تاریخوں یا مواقع کو اپنی زندگی کے نئے باب کے آغاز کے طور پر دیکھتا ہے۔
مزید پڑھیے: لیبلنگ کے اثرات: ہماری غذا ہمارے ہی خلاف کیسے کام کر رہی ہے؟
ان کے مطابق نئے سال کے علاوہ بھی سالگرہ، ہفتے کا آغاز، نئے تعلیمی سال یا کسی بھی اہم دن کو نئی شروعات کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق میں سامنے آیا کہ جب لوگ کسی دن کو محض ایک عام دن کے بجائے ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر دیکھتے ہیں تو وہ اپنے اہداف کے حصول کے لیے زیادہ پرجوش اور متحرک ہو جاتے ہیں۔
کیٹی ملک مین اور ان کے ساتھیوں نے دیکھا کہ ہفتے، مہینے یا نئے تعلیمی دور کے آغاز پر لوگ ورزش، غذا بہتر بنانے اور دیگر مثبت تبدیلیوں سے متعلق زیادہ معلومات تلاش کرتے ہیں۔
ان کے مطابق ایسی تاریخیں انسان کو ماضی کی ناکامیوں سے ذہنی طور پر فاصلے کا احساس دیتی ہیں اور اسے لگتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا ایک نیا باب شروع کر رہا ہے۔
اچھی عادتیں کیسے بنتی ہیں؟
ماہرین کے مطابق کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے صرف ارادہ کافی نہیں ہوتا بلکہ اسے روزمرہ کی عادت بنانا ضروری ہے۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف سرے کے ماہر نفسیات بینجمن گارڈنر کے مطابق اہداف کے لیے مسلسل سوچ اور کوشش درکار ہوتی ہے، جبکہ عادتیں وقت کے ساتھ خودکار انداز اختیار کر لیتی ہیں۔
مزید پڑھیں: خوشی، محبت و دیگر جذبات کے ہارمونز کونسے، یہ ہمارے دماغ پر کیسے حکومت کرتے ہیں؟
مثلاً روزانہ ایک ہی وقت پر ورزش کرنا، سفر کے دوران ایک ہی مشروب لینا یا ناشتے سے پہلے چند منٹ جسمانی سرگرمی کرنا وقت کے ساتھ معمول بن سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق کسی نئی عادت کو مضبوط ہونے میں اوسطاً تقریباً 66 دن لگ سکتے ہیں تاہم یہ مدت عادت کی نوعیت کے مطابق 18 سے 265 دن تک مختلف ہو سکتی ہے۔
مثلاً ورزش کو مستقل معمول بنانے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
بری عادتوں کو اچھی عادتوں سے بدلیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ بری عادت کو صرف چھوڑنے کی کوشش کرنے کے بجائے اسے کسی بہتر عادت سے تبدیل کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
بینجمن گارڈنر کے مطابق اگر کوئی شخص کسی نقصان دہ عادت کو ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کے متبادل کے طور پر ایک مثبت عمل اختیار کرنا چاہیے۔
مثلاً میٹھا کھانے کی عادت چھوڑنے کے لیے صحت مند اسنیک کا انتخاب کیا جا سکتا ہے تاکہ دماغ کو ایک نیا معمول مل جائے۔
یہ بھی پڑھیے: غروب آفتاب دیکھنا صحت کے لیے کیوں مفید ہے؟ نئی تحقیق میں دلچسپ فوائد سامنے آگئے
ان کے مطابق وقت کے ساتھ دماغ پرانی عادت کے بجائے نئی عادت سے جڑنے لگتا ہے۔
نئی عادت بنانے کے 5 آسان اصول
ماہرین کے مطابق کسی بھی نئی عادت کو مضبوط بنانے کے لیے ایسا مقصد منتخب کریں جو آپ کی صحت یا زندگی کے لیے فائدہ مند ہو، مقصد حاصل کرنے کے لیے ایک آسان اور قابل عمل قدم طے کریں، فیصلہ کریں کہ یہ کام کب اور کہاں کرنا ہے اور ہر بار اس وقت اور جگہ پر وہی عمل دہرائیں۔ کچھ عرصے بعد یہ عمل خود بخود معمول بننے لگے گا۔
صرف نتیجے پر نہیں سفر سے بھی لطف اٹھائیں
امریکا کی یونیورسٹی آف شکاگو کی پروفیسر ایلیٹ فش باخ کے مطابق اکثر لوگ صرف آخری نتیجے پر توجہ دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ راستے میں دلچسپی کھو دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ انسان ایسے اہداف منتخب کرے جن کے روزمرہ عمل سے بھی اسے خوشی ملے۔
ایک سال تک 2 ہزار سے زائد افراد پر کی گئی تحقیق میں معلوم ہوا کہ وہ لوگ زیادہ کامیاب رہے جو اپنے مقصد کے حصول کے روزمرہ اقدامات سے لطف اندوز ہوتے تھے۔
ماحول بھی عادتیں بدلنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے
یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا کے ماہر نفسیات فیلکس ناؤٹن کے مطابق صرف ارادہ کافی نہیں ہوتا کیونکہ انسان کے اردگرد کا ماحول بھی اس کے رویوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
مثلاً سگریٹ چھوڑنے والے شخص کے لیے یہ مشکل ہو سکتا ہے اگر اس کے قریبی دوست مسلسل سگریٹ نوشی کرتے ہوں۔
مزید پڑھیں: کیا نفسیاتی تھراپی عمر کے کسی بھی مرحلے میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے؟
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ انسان کو اپنی کمزور جگہوں کو پہچاننا چاہیے اور پہلے سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے کہ وہ ایسے حالات میں خود کو کیسے قابو میں رکھے گا۔
لطف کے ساتھ مقصد حاصل کریں
کیٹی ملک مین کے مطابق اگر کوئی کام انسان کے لیے بوجھ بن جائے تو اسے جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
انہوں نے اسے ’ٹیمپٹیشن بنڈلنگ‘ یعنی کسی ناپسندیدہ کام کو پسندیدہ سرگرمی کے ساتھ جوڑنے کا طریقہ قرار دیا ہے۔
مثلاً ورزش کرتے ہوئے پسندیدہ پروگرام دیکھنا، موسیقی سننا یا کسی دوست کے ساتھ ورزش کرنا۔
ایک تحقیق میں سامنے آیا کہ لوگ اکیلے ورزش کرنے کے مقابلے میں دوست کے ساتھ ورزش کرتے ہوئے 35 فیصد زیادہ مستقل رہتے ہیں۔
حوصلہ کم ہونا عام بات ہے
ماہرین کے مطابق کسی بھی طویل مدتی مقصد کے دوران درمیان میں حوصلہ کم ہونا ایک عام مسئلہ ہے جسے ماہرین ’مڈل پرابلم‘ کہتے ہیں۔
اس سے بچنے کے لیے بڑے اہداف کو چھوٹے ہفتہ وار یا روزانہ کے اہداف میں تقسیم کرنا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی دن ہدف پورا نہ ہو سکے تو اسے ناکامی سمجھنے کے بجائے سیکھنے کا موقع سمجھنا چاہیے۔
مزید پڑھیے: بارش میں باہر نکلنے کے 4 حیرت انگیز فوائد، تحقیق کیا کہتی ہے؟
وقت کے ساتھ جب کوئی عمل بار بار دہرایا جاتا ہے تو وہ عادت بن جاتا ہے اور یہی عادت انسان کو بڑے مقاصد حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔














