کیا پاکستان تحریک انصاف اور جے یو آئی (ف) کے درمیان دیر پا اتحاد ممکن ہے؟

ہفتہ 25 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان ممکنہ سیاسی قربت اور تعاون کی قیاس آرائیاں ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں زور پکڑ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی بانی چیئرمین عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہونے پر 5 اگست کو مجوزہ احتجاجی تحریک میں جے یو آئی (ف) کو بھی ساتھ ملانے کی خواہاں ہے جس کے لیے دونوں جماعتوں کے درمیان مختلف سطحوں پر رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

تاہم سیاسی مبصرین کے نزدیک اصل سوال یہ ہے کہ کیا ماضی کی شدید سیاسی کشیدگی اور ایک دوسرے پر لگائے گئے سخت الزامات کے باوجود دونوں جماعتیں کسی مشترکہ حکمت عملی یا اتحاد پر متفق ہو سکیں گی اور اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو کیا یہ تعاون مستقل سیاسی شراکت میں تبدیل ہوگا یا صرف موجودہ سیاسی حالات کی ضرورت تک محدود رہے گا؟

ماضی کی تلخیاں، کیا نئی سیاسی قربت میں رکاوٹ بنیں گی؟

پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کے تعلقات ماضی میں انتہائی کشیدہ رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کی قیادت ایک دوسرے پر سخت تنقید کرتی رہی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کی سیاست میں بھی دونوں کو ایک دوسرے کا بڑا سیاسی حریف سمجھا جاتا ہے۔

سنہ 2018 کے عام انتخابات، حکومت سازی، اپوزیشن کی سیاست، تحریکِ عدم اعتماد اور بعد ازاں مختلف سیاسی معاملات پر دونوں جماعتیں مسلسل ایک دوسرے کے مدِ مقابل رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کے درمیان ممکنہ سیاسی تعاون یا اتحاد کی خبریں سیاسی حلقوں اور مبصرین کی خصوصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

پی ٹی آئی نے رابطوں کی تصدیق کر دی

اس تمام صورتحال کے دوران پی ٹی آئی نے جے یو آئی (ف) سے رابطوں کی تصدیق بھی کی ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات اور پی ٹی آئی رہنما شفیع جان کا کہنا ہے کہ پارٹی مختلف سیاسی شخصیات سے مشاورت کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب کے پاس تو ابھی بھی ہم جائیں گے کیونکہ پانچ اگست آ رہا ہے۔ ہم نے جتنی بھی مشاورت کرنی ہے، کر بھی رہے ہیں، علامہ صاحب سے بھی بات ہو رہی ہے۔

مذاکرات کے دوران کیا ہوا؟

دوسری جانب جے یو آئی (ف) کے رہنما کامران مرتضیٰ نے دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کی اندرونی تفصیلات بھی بیان کیں۔

مزید پڑھیے: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

انہوں نے بتایا کہ انہیں اور ان کے چند ساتھیوں کو پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کا کردار سونپا گیا تھا، جبکہ دوسری جانب پارٹی کی اعلیٰ قیادت مذاکرات میں شریک تھی۔

کامران مرتضیٰ کے مطابق، پہلے مرحلے میں انہیں بتایا گیا کہ مذاکرات کے نوٹس گم ہو گئے ہیں، جس کے بعد رابطوں میں خاموشی آ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی دوران انہوں نے گلہ بھی کیا کہ جن معاملات پر تحریری اتفاق ہونا تھا وہ مکمل نہیں ہو سکا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعد میں مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوا لیکن ایک مرتبہ پھر رابطہ منقطع ہو گیا۔ تیسرے مرحلے میں بھی یہی صورتحال سامنے آئی تو انہوں نے مزاحاً کہا کہ آپ کے ہاں تو ہر بار لائن کٹ جاتی ہے۔ اس پر جواب ملا کہ ’اب چین آف کمانڈ مضبوط ہے، اب لائن نہیں کٹے گی‘۔

سیاسی مبصرین کیا کہتے ہیں؟

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں جماعتوں کے درمیان رابطے موجود ہیں تاہم مکمل سیاسی اتحاد کے امکانات اب بھی محدود دکھائی دیتے ہیں۔

سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی کے مطابق، پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کا اصل سیاسی مقابلہ خیبرپختونخوا میں ہے اس لیے دونوں جماعتوں کے لیے مستقل اتحاد آسان نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں جے یو آئی اور پی ٹی آئی کا اصل مقابلہ خیبرپختونخوا میں ہے۔ اگر ان کا اتحاد بنتا ہے تو یہ غیرمعمولی بات ہوگی۔ پاکستان کی سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے، خاص طور پر اگر سیاسی موسم تبدیل ہو جائے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ان کے مطابق اگر اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے تعلقات میں تبدیلی آتی ہے تو سیاسی منظرنامہ بھی بدل سکتا ہے لیکن موجودہ حالات میں مستقل اتحاد کے امکانات زیادہ روشن نظر نہیں آتے۔ البتہ کسی ایک مشترکہ ایشو پر دونوں جماعتیں ایک ساتھ آ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے اتحاد کی باتیں ہوتی رہی ہیں، کئی کوششیں بھی ہوئیں، مگر اب تک کوئی مستقل سیاسی اتحاد سامنے نہیں آ سکا۔

ماضی میں بھی مختلف نظریات رکھنے والی جماعتیں اکٹھی ہوتی رہی ہیں

سینیئر تجزیہ کار حامد حسن کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نظریاتی اختلافات رکھنے والی جماعتیں بھی حکومت یا اسٹیبلشمنٹ مخالف ایجنڈے پر ایک پلیٹ فارم پر آتی رہی ہیں، اس لیے پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کے درمیان تعاون کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی مختلف ادوار میں اتحاد کا حصہ رہیں، جبکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سمیت ماضی کے دیگر اتحادوں میں بھی مختلف نظریات رکھنے والی جماعتیں ایک ساتھ کام کرتی رہی ہیں۔ اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قائم قومی اتحاد اور بعد ازاں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان بھی سیاسی تعاون کی مثالیں موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کا اتحاد ممکن ہے لیکن دونوں جماعتوں کی سیاسی ساخت اور مزاج ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی میں شخصیت پرستی کا عنصر نمایاں ہے جبکہ جے یو آئی (ف) کے کارکن مولانا فضل الرحمان کی قیادت کے گرد منظم ہیں، اس لیے اگر اتحاد قائم بھی ہو جائے تو اسے برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا۔

حامد حسن نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اس وقت جیل میں ہیں اور جماعت سے ان کا براہِ راست سیاسی رابطہ محدود ہے، جس کے باعث فیصلوں اور حکمت عملی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ان کے بقول ماضی میں بھی پی ٹی آئی کے ساتھ کسی سیاسی جماعت کا طویل عرصے تک مؤثر انداز میں چلنا ممکن نہیں ہو سکا جس کی ایک بڑی وجہ جماعت کا سیاسی رویہ اور اندرونی ڈھانچہ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: محمود اچکزئی سے عمران خان کے وکلا اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملاقات، اہم امور پر مشاورت

انہوں نے کہا کہ اگر دونوں جماعتیں کسی مشترکہ مقصد کے تحت اتحاد بھی قائم کر لیں تو سیاسی حالات میں معمولی تبدیلی کے بعد اسے برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ اتحاد کی بنیادی وجہ بھی کمزور پڑ جائے گی۔

وقتی تعاون ممکن، مستقل اتحاد مشکل

سیاسی تجزیہ کار وسیم عباسی کے مطابق اگر دونوں جماعتیں کسی مشترکہ مقصد کے لیے اکٹھی بھی ہو جائیں تو یہ فطری یا نظریاتی اتحاد نہیں ہوگا بلکہ کسی مخصوص سیاسی مقصد یا ایک ایشو تک محدود تعاون ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں کہ ایک دوسرے کی مخالف جماعتیں کسی خاص معاملے پر اکٹھی ہو جاتی ہیں لیکن ایسے اتحاد زیادہ دیر برقرار نہیں رہتے۔

وسیم عباسی کے مطابق دونوں جماعتوں کے کارکنوں کا مزاج مختلف ہے، قیادت کے درمیان بھی ماضی میں خاصی تلخیاں رہی ہیں، جبکہ دونوں کا ووٹ بینک اور سیاسی میدان، خصوصاً خیبرپختونخوا میں، ایک ہی ہے۔ اگر وہ مستقل اتحاد کرتے ہیں تو آئندہ انتخابات میں انہیں ایک دوسرے کے خلاف ہی میدان میں اترنا ہوگا، اس لیے اگر کوئی تعاون بنتا بھی ہے تو وہ قلیل المدتی ہوگا، طویل المدتی اتحاد کے امکانات بہت کم ہیں۔

آئندہ چند روز اہم ہوں گے

سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ چند روز، خصوصاً 5 اگست کے احتجاج کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت، اس بات کا تعین کرے گی کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کے درمیان جاری رابطے محض سیاسی مشاورت تک محدود رہتے ہیں یا دونوں جماعتیں کسی مشترکہ حکمت عملی پر بھی متفق ہو جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: پی ٹی آئی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کیا، 27 جولائی کو اس کا فائدہ کس پارٹی کو ہوگا؟

ان کے مطابق موجودہ سیاسی حقائق، ماضی کی تلخیاں، خیبرپختونخوا میں براہ راست سیاسی مقابلہ اور دونوں جماعتوں کے نظریاتی و تنظیمی اختلافات کو دیکھتے ہوئے کسی مستقل اور دیرپا اتحاد کا امکان فی الحال محدود دکھائی دیتا ہے۔ تاہم مخصوص سیاسی مقاصد یا مشترکہ احتجاجی حکمت عملی کے لیے وقتی تعاون کے امکانات کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب حکومت کی پاسکو سے گندم خریداری پر اپوزیشن کا اعتراض، تحریکِ التوا جمع

آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے کے کامیاب انعقاد اور مسلم لیگ (ن) کی واضح برتری، وزیراعظم کی مبارکباد

پاکستان آئیڈل کی واپسی؟ زیب بنگش نے مداحوں کو خوشخبری سنا دی

مومنہ اقبال کیس میں پیشرفت، تفتیش مکمل، ثاقب چدھڑ کے خلاف رپورٹ عدالت میں پیش

آزاد کشمیر انتخابات: مسلم لیگ (ن) 9 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، رانا ثناء اللہ

ویڈیو

جب تک ن لیگ کی حکومت قائم ہے پیپلزپارٹی اتحاد کا حصہ رہے گی، حسن مرتضیٰ

آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ 13 میں سے 9 نشستیں جیت کر سب سے آگے، چیف الیکشن کمشنر نے پہلا مرحلہ شفاف قرار دے دیا

سائیکل ایمبولینس: ہنگامی ضرورت یا ترقی کی رفتار پر سوال؟

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی