سپریم کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کے خلاف غیر قانونی بھرتیوں کے مقدمے میں ضمانت منسوخ کرنے کے لیے دائر حکومتی اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کی ضمانت برقرار رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
اس موقع پر چوہدری پرویز الہی نے میڈیا سے مختصر گفتگو میں کہا کہ ان کے خلاف 29 مقدمات درج کیے گئے، تاہم آج انصاف کے تقاضے پورے ہوئے۔
چوہدری پرویز الہی کے وکیل سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف غیر قانونی بھرتیوں کا بے بنیاد مقدمہ قائم کیا گیا، جو سیاسی انتقام کی ایک واضح مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پرویز الہی اور محمد خان بھٹی کی ضمانتیں برقرار، پنجاب حکومت کی اپیل خارج
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی ظفر نے بتایا کہ چوہدری پرویز الہی کو اسی مقدمے میں ایک سال تک جیل میں رہنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے پرویز الہی کی ضمانت منظور کی تھی، جس کے خلاف حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
تاہم آج عدالت عظمیٰ نے شواہد ناکافی قرار دیتے ہوئے حکومت کی اپیل مسترد کر دی اور ضمانت برقرار رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
مزید پڑھیں: سابق وزیر اعلٰی پنجاب پرویز الہی اور بیٹے مونس الہی کیخلاف نیب ریفرنس دائر
انہوں نے کہا کہ آج یہاں سے انہیں انصاف ملا ہے، تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو تہس نہس کر دیا گیا ہے۔
بانی پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ ان کے لیے قانونی اور عوامی سطح پر جدوجہد جاری ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ بانی پی ٹی آئی کو بھی انہی عدالتوں سے انصاف ملے گا۔














