اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں بہتر مستقبل کی امید لے کر پہنچنے والے متعدد مراکشی تارکین وطن مایوسی کے عالم میں واپس اپنے گھروں کو لوٹنے لگے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بھوک، تھکن، مقامی افراد کی مخالفت اور یورپ تک پہنچنے کے راستے بند ہونے نے ان کے تمام خواب توڑ دیے۔
واپس آنے والے افراد نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور دوستوں کے پیغامات سے متاثر ہوئے تھے، جن میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود سیوٹا کی سرحد عبور کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسپین کے علاقے سیوٹا میں مہاجرین کا سیلاب، مراکش سے ہزاروں افراد سرحد عبور کر گئے
تاہم وہاں پہنچنے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ اسپین کے مرکزی حصے تک پہنچنے کا کوئی راستہ موجود نہیں۔
مراکش کے شہر فاس سے تعلق رکھنے والے بیکری ورکر ابراہیم نے بتایا کہ وہ اپنی ملازمت چھوڑ کر سیوٹا پہنچا تھا تاکہ بہتر مستقبل بنا سکے، لیکن وہاں پہنچ کر اسے شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
‘ہم ترقی کرنے آئے تھے، دھوکا کھانے نہیں۔ میں نے سوچا تھا کہ وہاں بہتر زندگی ملے گی، لیکن سیوٹا پہنچ کر سب کچھ مختلف نکلا۔’
More than 37,500 migrants have returned to Morocco after an estimated 60,000 crossed into Spain's Ceuta enclave this week. The rush turned deadly, with some migrants drowning as they tried to swim to the territory. CBS News' @aidan_stretch spoke with one migrant about why he… pic.twitter.com/KqBBXhhiOH
— CBS News (@CBSNews) July 31, 2026
ابراہیم کے مطابق وہ 3 دن تک صرف پانی پی کر زندہ رہا کیونکہ اسپین کی جانب خوراک انتہائی مہنگی تھی۔ اس نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ٹونا سینڈوچ 100 مراکشی درہم میں فروخت ہو رہا تھا۔
سیوٹا کے مقابل واقع مراکش کے سرحدی شہر فنیدق میں سرحد کی جانب جانے والی سڑکیں تقریباً سنسان نظر آئیں، حالانکہ جمعرات کو یہاں ہزاروں افراد جمع تھے۔
واپس آنے والے تارکین وطن نے بتایا کہ سیوٹا میں بیشتر دکانیں اور سپر مارکیٹیں بند تھیں، جس کی وجہ سے انہیں خوراک اور پانی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ وہ بھیگے ہوئے کپڑوں کے ساتھ سڑکوں پر وقت گزارتے رہے۔
مزید پڑھیں: سیوٹا مہاجر بحران: اٹلی نے اسپین سے سرحد بند کر دی، فرانس نے بھی نگرانی سخت کردی
مراکش کی طنجہ میڈ بندرگاہ پر ملازم ایک شخص کے مطابق سیوٹا کسی جیل کی طرح تھا، وہاں کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا، ہر چیز بند تھی۔
بعض تارکین وطن نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ سیوٹا کے مراکشی اکثریتی علاقے ‘ال پرنسیپے’ کے بعض رہائشیوں نے انہیں دھمکایا یا وہاں سے نکالنے کی کوشش کی، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
مراکش سے تعلق رکھنے والے ویٹر یاسین اچو نے دعویٰ کیا کہ ال پرنسیپے میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور وہاں سے بھگا دیا گیا۔

دوسری جانب اسپین کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ چاقو سے حملے کے 2 الگ الگ واقعات میں 2 افراد معمولی زخمی ہوئے جبکہ ایک حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق جمعرات سے اب تک چاقو کے حملوں میں کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
فنیدق کے ایک ہوٹل کے ملازم راشد نے بتایا کہ تارکین وطن کی بڑی آمد کے دوران ہوٹل کے کچن کا تمام عملہ سیوٹا چلا گیا تھا اور اب تک واپس نہیں آیا، جس کے باعث انتظامیہ کو نئے ملازمین کی تلاش کرنا پڑ رہی ہے۔
مزید پڑھیں: غیر قانونی ہجرت کے خلاف بڑا اقدام، 22 یورپین ممالک کا سخت بارڈر پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ
ادھر سیوٹا میں حالات معمول پر آنے لگے ہیں۔ کئی کیفے دوبارہ کھل گئے ہیں اور شہری معمول کی سرگرمیوں کی جانب لوٹ رہے ہیں، تاہم بیشتر دکانیں اب بھی بند ہیں جبکہ سڑکوں پر پولیس کے گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
شہر کے وسط میں 2 کیفوں کی شریک مالک 24 سالہ مرینا کستانیو نے کہا کہ انہوں نے کاروبار دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ زندگی کو معمول پر آنا چاہیے، لیکن عملے اور اپنی حفاظت ان کی پہلی ترجیح ہے۔
A Moroccan woman among those who tried to enter the city of Ceuta exposes the Moroccan regime, saying: “If they weren’t going to let us enter the city, then why did they bring us here with our children and leave us stranded here?” pic.twitter.com/fuFUYgoXuQ
— I.MU (@AShab56267) August 1, 2026
ایک امدادی کارکن نے بتایا کہ تارکین وطن کے استقبالیہ مرکز میں گنجائش مکمل ہو چکی ہے اور مزید افراد کو رکھنے کی جگہ نہیں، جبکہ ان کے اندازے کے مطابق اب بھی ہزاروں تارکین وطن سیوٹا میں موجود ہیں۔
شہر میں ہارڈویئر کی دکان چلانے والے ٹیٹو نے کہا کہ اچانک اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد سے مقامی آبادی خوفزدہ ضرور ہوئی، لیکن انہیں ان نوجوانوں پر ترس بھی آتا ہے۔

‘ان نوجوانوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، انہیں سیاسی سودے بازی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔’
دریں اثنا سوڈان سے تعلق رکھنے والے 43 سالہ محمد احمد نے بتایا کہ ایک ٹرک انہیں اور دیگر تارکین وطن کو سرحد کے قریب چھوڑ گیا، جس کے بعد وہ 4 گھنٹے تک تیر کر سیوٹا پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس انہیں تارکین وطن کے مرکز تک جانے والے راستے پر روک رہی ہے، تاہم وہ اسپین چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔
‘میں واپس نہیں جاؤں گا، یہاں کوشش کرتے ہوئے مر جانا بھی قبول ہے۔’













