انڈونیشیا میں ایک مسافر بردار فیری حادثے کا شکار ہونے کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک جبکہ کئی لاپتا ہوگئے۔ حکام کے مطابق حادثہ خراب موسم اور بلند سمندری لہروں کے دوران پیش آیا، جس کے بعد ریسکیو اداروں نے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
مزید پڑھیں:انڈونیشیا کے کاپی رائٹ قانون میں بڑی تبدیلی، مصنوعی ذہانت سے تیار مواد کو بھی تحفظ ملے گا
انڈونیشین سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی (باسارناس) کے مطابق فیری میں درجنوں مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے۔ حادثے کے فوراً بعد مقامی ماہی گیروں، بحریہ اور امدادی ٹیموں نے کئی افراد کو بحفاظت نکال لیا، جبکہ لاپتا مسافروں کی تلاش کے لیے ہیلی کاپٹروں، بحری جہازوں اور غوطہ خوروں کی مدد لی جا رہی ہے۔
Surabaya, Indonesia. Fire on Indonesian ferry leaves at least 5 dead and dozens missing.
The ferry was reported to be nearly engulfed by flames, with passengers gathered on the bridge and bow. A tugboat and another passing vessel moved in and began evacuating passengers shortly… pic.twitter.com/q2zvVjbAJg
— Professor Iratus Genium (@PGenium) August 2, 2026
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خراب موسمی حالات اور تیز لہریں حادثے کی ممکنہ وجوہات ہیں، تاہم فیری کی فنی حالت اور حفاظتی اقدامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکومت نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
مزید پڑھیں:انڈونیشیا: بار بار چوری سے تنگ شہری کا انوکھا انتقام، چوروں کو ڈکٹ ٹیپ سے باندھ دیا
واضح رہے کہ انڈونیشیا ہزاروں جزیروں پر مشتمل ملک ہے، جہاں فیری سروس عوامی آمدورفت کا اہم ذریعہ ہے۔ تاہم خراب موسم، حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد میں کوتاہی اور گنجائش سے زیادہ مسافروں کی موجودگی کے باعث سمندری حادثات وقفے وقفے سے پیش آتے رہتے ہیں۔













