پاکستان کے ٹیک سیکٹر میں چند ہی دنوں کے دوران سامنے آنے والی 2 اہم پیش رفتوں نے ایک دلچسپ سوال کو جنم دے دیا ہے، جس کے بعد یہ خوش آئند سوال سامنے آیا ہے کہ کیا کراچی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے پاکستان کا نیا گیٹ وے بن رہا ہے؟
واضح رہے کہ ایک طرف دنیا کی بڑی ٹیک کمپنی گوگل نے پاکستان میں اپنے پہلے مقامی دفتر کی بنیاد رکھ دی ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی ٹیکنالوجی کمپنی موبز نے بھی کراچی کے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک میں اپنا ریجنل آفس قائم کردیا ہے۔
گوگل کے پاکستان آفس کے سنگِ بنیاد کی تختی وزیراعظم شہباز شریف نے 18 اگست کو اسلام آباد میں نقاب کشائی کی تھی۔ جبکہ کمپنی نے کراچی کو اپنے پہلے مقامی دفتر کے لیے منتخب کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گوگل کے اعلیٰ سطحی وفد کی آفس آف اے آئی پنجاب آمد، ٹیکنالوجی ایکو سسٹم پر اہم گفتگو
یہ 2 کمپنیوں کے محض دفاتر کھلنے کی خبریں نہیں، بلکہ پاکستان کے تیزی سے بدلتے ہوئے ٹیکنالوجی منظرنامے کی طرف اشارہ بھی سمجھی جا سکتی ہیں۔
چند دن، 2 بڑی ٹیک کمپنیاں
گوگل کے پاکستان میں باقاعدہ مقامی دفتر کی بنیاد رکھنے کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اسے پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں اہم سنگ میل قرار دیا تھا۔
گوگل کے نائب صدر ولسن ایل وائٹ نے بھی کہا کہ کمپنی گزشتہ ایک دہائی سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور مختلف پروگرامز کے ذریعے کام کر رہی ہے، جبکہ پاکستان میں مقامی دفتر کا قیام اس شراکت داری کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔
گوگل کے مطابق گزشتہ 10 برسوں میں کمپنی کی سرگرمیوں نے پاکستانی کاروباروں اور گھرانوں کے لیے 3.9 ٹریلین روپے سے زیادہ کی معاشی سرگرمی میں حصہ ڈالا اور 960,000 سے زیادہ ملازمتوں کو سپورٹ کیا۔ کمپنی ایک ملین سے زیادہ پاکستانیوں کی ڈیجیٹل اسکلز بڑھانے کے پروگرامز میں بھی شامل رہی ہے۔
اور اب گوگل کے فوراً بعد موبز کی کراچی میں موجودگی نے اس تصویر میں ایک اور رنگ بھر دیا ہے۔
موبز کراچی ہی کیوں؟
موبز نے اپنا پاکستان ریجنل آفس کراچی کے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک میں قائم کیا ہے۔
کمپنی کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی سمیت ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں عالمی سطح پر خدمات فراہم کرتی ہے۔
موبز، مائیکروسافٹ کی اسپیشلسٹ پارٹنر بھی ہے اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور عمان سمیت خلیجی ممالک میں بھی خدمات فراہم کر رہی ہے۔
یعنی کراچی آنے والی کمپنی صرف پاکستانی مارکیٹ کو نہیں دیکھ رہی بلکہ ایک ایسے شہر میں اپنا علاقائی مرکز بنا رہی ہے جو پاکستان کی سب سے بڑی کاروباری اور تجارتی مارکیٹ ہے۔
حکومت بھی ٹیک ہب بنانے کی بات کر رہی ہے
موبز کے کراچی آفس کے افتتاح کے موقع پر چیئرمین ’ایس ای سی پی‘ ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان عالمی آئی ٹی مارکیٹ میں نمایاں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور گوگل کے درمیان ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت کے فروغ کے لیے اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط
ان کے مطابق پاکستان کے پاس علاقائی ٹیکنالوجی اور گلوبل سروسز ہب بننے کے وسیع مواقع موجود ہیں یہی وہ نکتہ ہے جہاں گوگل اور موبز کی موجودگی ایک بڑی تصویر کا حصہ بنتی دکھائی دیتی ہے۔
ایک طرف عالمی کمپنیاں پاکستان میں اپنے مقامی یا علاقائی آپریشنز بڑھا رہی ہیں، تو دوسری طرف حکومت کاروباری قوانین کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے، ریگولیٹری نظام کو آسان کرنے اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے ماحول بہتر بنانے کی بات کر رہی ہے۔
اصل فائدہ پاکستانی نوجوانوں کو ہوگا؟
ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پاکستان آمد کا سب سے بڑا امتحان یہی ہوگا کہ اس کا فائدہ عام پاکستانی نوجوان تک کس حد تک پہنچتا ہے۔ گوگل پہلے ہی پاکستان میں ڈیجیٹل اسکلز اور تعلیم سے متعلق پروگرامز چلا رہا ہے، جبکہ موبز بھی مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبوں میں کام کر رہی ہے۔
ایسے شعبے جہاں دنیا بھر میں روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، پاکستان کے نوجوانوں کے لیے بھی عالمی مارکیٹ تک رسائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
موبز نے خصوصی اور معذور افراد کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کے لیے سافٹ ویئر، اے آئی سپورٹ اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
کراچی کے لیے اس میں کیا خاص ہے؟
کراچی پہلے ہی پاکستان کا سب سے بڑا کاروباری مرکز ہے، لیکن عالمی ٹیک کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی شہر کے کردار کو صرف تجارت اور صنعت تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سروسز اور عالمی کاروباری روابط کے مرکز کے طور پر بھی آگے لے جا سکتی ہے۔
گوگل نے کراچی کو پاکستان میں اپنے پہلے مقامی دفتر کے لیے منتخب کیا، جبکہ موبز نے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کراچی میں اپنا ریجنل آفس قائم کیا۔
مزید پڑھیں:گوگل کا پاکستانی خاندانوں کو آن لائن محفوظ رکھنے کے لیے ڈیجیٹل پاسبان منصوبے کا اعلان
یہ اتفاق محض اتفاق بھی ہو سکتا ہے، لیکن مسلسل آنے والی یہ پیش رفت ایک واضح رجحان ضرور دکھا رہی ہے۔
سلیکون ویلی سے کراچی تک
گوگل جیسی عالمی ٹیک کمپنی کا پاکستان میں مقامی دفتر اور اس کے فوراً بعد موبز جیسی امریکی کمپنی کا کراچی میں ریجنل آفس، دونوں پیش رفتیں پاکستان کے لیے ایک بڑے موقع کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اب سوال صرف یہ نہیں کہ کتنی کمپنیاں پاکستان آتی ہیں؟
اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنے نوجوانوں، ٹیک ٹیلنٹ اور تیزی سے بڑھتی ڈیجیٹل معیشت کو استعمال کرتے ہوئے کتنی عالمی کمپنیوں کو یہاں مستقل بنیادوں پر لاتا اور کتنے پاکستانی نوجوانوں کو عالمی ٹیک مارکیٹ کا حصہ بناتا ہے۔
اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ممکن ہے آنے والے برسوں میں کراچی کی شناخت صرف پاکستان کے معاشی دارالحکومت کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کے ٹیک گیٹ وے کے طور پر بھی ہونے لگے۔














