پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 3.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، مگر عالمی مارکیٹ میں حصہ اب بھی کم ہے، چیئرمین پاشا

ہفتہ 12 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) صنعت گزشتہ چند برسوں کے دوران تقریباً 20 فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی کر رہی ہے اور ملکی آئی ٹی برآمدات 3.34 سے بڑھ کر تقریباً 3.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، تاہم عالمی مارکیٹ کے حجم کے مقابلے میں پاکستان کا حصہ اب بھی انتہائی محدود ہے۔

پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سجاد مصطفیٰ سید نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن اگر اس کا موازنہ چاول سمیت دیگر روایتی برآمدات سے کیا جائے تو آئی ٹی برآمدات کا موجودہ حجم ابھی بھی کم ہے اور عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا شیئر بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا 62واں اجلاس، یکساں ای فائلنگ نظام کی اصولی منظوری

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری گزشتہ 4 سے 5 برسوں سے تقریباً 20 فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی کر رہی ہے، تاہم اس رفتار کو مزید بڑھانے کے لیے مارکیٹ تک رسائی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ہنرمند افرادی قوت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار پالیسیوں پر توجہ دینا ہوگی۔

70 ہزار آئی ٹی گریجویٹس اور بے روزگاری کی اصل وجہ

چیئرمین پاشا سجاد مصطفیٰ سید کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 70 ہزار طلبا آئی ٹی کی ڈگریاں لے کر عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں، جبکہ ایک بچے کی تعلیم پر والدین تقریباً 10 سے 15 لاکھ روپے خرچ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود بڑی تعداد میں نوجوانوں کو روزگار کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ جامعات کے نصاب اور آئی ٹی انڈسٹری کی ضروریات کے درمیان موجود خلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور اگر نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجیز میں فوری طور پر ری اسکل نہ کیا گیا تو نہ صرف ان کی تعلیم پر خرچ ہونے والی رقم ضائع ہونے کا خدشہ ہے بلکہ ان کے مستقبل پر بھی اثر پڑ سکتا ہے

پاکستان میں پے پال کیوں نہیں آ رہا؟

‎پاکستان میں پے پال کی عدم موجودگی کے حوالے سے سجاد مصطفیٰ سید کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ کسی ایک حکومتی پالیسی کے بجائے پاکستان سے متعلق مجموعی فنانشل اور جیو پولیٹیکل رسک ریٹنگ ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان کو چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط اداروں اور قابل عمل پالیسیوں کی ضرورت ہے، ماہرین

ان کے مطابق پے پال ایک نجی کمپنی ہے اور کسی بھی ملک میں اپنی خدمات شروع کرنے سے پہلے وہاں موجود مالیاتی اور کاروباری خطرات کو دیکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان کا مجموعی مالیاتی رسک ایک قابل قبول سطح تک نہیں آتا، پے پال سمیت دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے لیے پاکستان میں براہ راست آپریشن شروع کرنا آسان نہیں ہوگا۔

سجاد مصطفیٰ سید نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی عالمی ساکھ اور رسک ریٹنگ میں بہتری کے ساتھ پے پال اور دیگر عالمی مالیاتی کمپنیاں بھی پاکستانی مارکیٹ میں آنے میں دلچسپی لے سکتی ہیں۔

90 فیصد ایکسپورٹ سروسز اور تھرڈ پارٹی ادائیگیاں

چیئرمین پاشا کے مطابق پے پال کی عدم موجودگی کے باوجود پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کو عالمی مارکیٹ سے ادائیگیاں موصول ہو رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی مجموعی آئی ٹی ایکسپورٹس میں تقریباً 80 سے 90 فیصد حصہ سروسز کا ہے اور عالمی ادائیگیوں کے لیے مختلف قانونی تھرڈ پارٹی پیمنٹ سسٹمز استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ان کے مطابق یہ نظام پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کوعالمی مارکیٹ سے منسلک رکھنے اور بیرون ملک سے رقوم پاکستان لانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

آئی ٹی انڈسٹری کو آگے لے جانے کے 4 بنیادی ستون

‎سجاد مصطفیٰ سید کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کو مزید وسعت دینے کے لیے 4 بنیادی شعبوں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ ‎پہلا ستون مارکیٹ رسائی  اور ویزا آسانیاں ہیں، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر عالمی مارکیٹوں تک پاکستانی کمپنیوں اور آئی ٹی پروفیشنلز کی رسائی آسان بنانا ضروری ہے تاکہ وہ اپنی مصنوعات اور خدمات عالمی سطح پر فروخت کر سکیں۔

ان کے مطابق دوسرا ستون انٹرنیٹ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ہے۔ پاکستان کو انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار بہتر بنانے کے ساتھ جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور 5 جی کی سہولت فراہم کرنا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:ترین فاؤنڈیشن کی جانب سے گورنمنٹ اسلامیہ گریجویٹ کالج لاہور میں کمپیوٹر لیب کا افتتاح

تیسرا ستون نوجوانوں کی مہارتیں حاصل کرنا ہے۔ اس کے لیے جامعات میں کمپیوٹر سائنس اور دیگر ٹیکنالوجی سے متعلق تعلیم کو عالمی اور مقامی صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔

چوتھا ستون سازگار ٹیکس پالیسیاں ہیں جن کے مطابق ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے واضح، آسان اور طویل المدتی ٹیکس فریم ورک ضروری ہے۔

پالیسی کامیابیاں اور بیرونی اکاؤنٹس

‎چیئرمین پاشا نے بتایا کہ  اسپیشل انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی )، وزارت تجارت اور وزارت آئی ٹی کے تعاون سے آئی ٹی انڈسٹری کے لیے بعض اہم پالیسی اقدامات کیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق  ’ایف ڈی آر‘ ٹیکس رجیم میں توسیع اور پاکستانی کمپنیوں کو بیرون ملک ڈیجیٹل اور مالیاتی اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت ایسے اقدامات ہیں جنہیں صنعت کے لیے اہم پالیسی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔

‎انہوں نے کہا کہ بیرون ملک اکاؤنٹس کی سہولت سے پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے عالمی سطح پر کاروبار کرنا اور سرمایہ کو اندر اور باہر منتقل کرنا نسبتاً آسان ہوا ہے۔

سجاد مصطفیٰ سید کے مطابق سندھ حکومت کے ساتھ سنگل ونڈو سسٹم پر بھی کام کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد کاروباری عمل کو آسان بنانا اور کاروبار کو آسان اور بہتر کرنا ہے۔

پاکستان کو مصنوعی ذہانت  کا خطرہ

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بات کرتے ہوئے سجاد مصطفیٰ سید نے کہا کہ  ’اے آئی‘ اب ایک حقیقت ہے اور اس سے لڑنا ممکن نہیں، بلکہ اسے اپنانا ہوگا۔

ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں کم مہارت والے کئی روایتی کام اور ملازمتیں ختم ہونے کا بھی امکان ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان کی سروسز ایکسپورٹس میں 19 فیصد اضافہ، آئی ٹی شعبہ نمایاں، تجارتی خسارے میں بھی بڑی کمی

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی نوعیت کی ویب سائٹس بنانے جیسے بعض کام ’اے آئی‘ آسانی سے انجام دے سکتا ہے، اس لیے نوجوانوں کو ان مہارتوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے آسانی سے تبدیل ہو سکتی ہیں

ان کا کہنا تھا کہ  ’اے آئی‘ کا استعمال صرف آئی ٹی سیکٹر تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ٹیکسٹائل، اسٹیل، زراعت اور سروسز سمیت معیشت کے دیگر شعبوں میں بھی اسے پیداوار اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔

نئی نسل اور نوجوان قیادت کو آگے لانے کی ضرورت

گفتگو کے اختتام پر چیئرمین پاشا سجاد مصطفیٰ سید نے آئی ٹی صنعت میں نئی نسل اور نوجوان قیادت کو آگے لانے کی ضرورت پر زور دیا

ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی ایک نسبتاً جوان صنعت ہے اور مصنوعی ذہانت و جدید ٹیکنالوجی کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں نوجوانوں کو قیادت اور فیصلہ سازی کے عمل میں زیادہ نمایاں کردار دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نئی نسل جدید ٹیکنالوجی کے چیلنجز کو زیادہ بہترانداز میں سمجھتی ہے، اس لیے نوجوان قیادت کو آگے لانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان ’اے آئی‘ اور ٹیکنالوجی کے عالمی میدان میں مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp