سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ ن کے نائب صدر حمزہ شہباز شریف وزیراعظم سیکریٹریٹ میں عوامی امور کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر وہ وفاقی وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حمزہ شہباز کی زیر صدارت اجلاس، عوام کو بجلی کے نئے کنکشنز کی فراہمی کا عمل آسان بنانے کا فیصلہ
اگست میں وزیراعظم نے وفاقی وزارتوں سے فروری 2024 کے بعد کی کارکردگی، مقررہ اہداف اور اصلاحات سے متعلق رپورٹس طلب کی تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز اسی عمل کے تحت مختلف وزارتوں سے رابطہ کرکے ان کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں۔
جولائی کے آخر میں پارٹی قیادت کے مری اجلاس کے بعد حمزہ شہباز کو وفاق میں متحرک کردار دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے بعد حمزہ شہباز شریف نے سربراہِ عوامی امور کا عہدہ سنبھالا۔
وزیراعظم ہاؤس میں ان کی صدارت میں عوامی امور ونگ کا اجلاس بھی ہوا جس میں عوامی شکایات کے جلد ازالے پر بات کی گئی۔ اجلاس میں وزیر مملکت عبدالرحمن کنجو اور دیگر حکومتی نمائندے موجود تھے۔
حمزہ شہباز سنہ 2008 سے سنہ 2018 تک پنجاب میں عوامی امور ونگ کے چیئرمین رہ چکے ہیں جہاں ان کی ذمہ داری ارکان اسمبلی کی شکایات اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مسائل سننا تھی۔
مزید پڑھیے: حمزہ شہباز کا پمز کا دورہ، آتشزدگی میں جاں بحق بچوں کے ورثا سے اظہار تعزیت
ان کا موجودہ کردار بھی اسی طرز کا ہے جس کے تحت ارکان قومی اسمبلی کے حلقہ جاتی مسائل متعلقہ وزارتوں تک پہنچانا اور مختلف محکموں کے درمیان رابطہ قائم رکھنا شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز ہفتے کے تین دن اسلام آباد جبکہ باقی ایام لاہور میں یہ ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔
عہدہ سنبھالنے کے بعد حمزہ شہباز شریف اس وقت کافی متحرک ہیں اور مختلف وزارتوں کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔
28 اگست کو وزیراعظم چیمبر میں بجلی کے امور سے متعلق اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری اور واپڈا حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزارتِ توانائی کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیا گیا۔
اجلاس میں نئے کنکشنز کے لیے ٹائم فریم مقرر کرنے، شکایات کے فوری ازالے اور قومی اسمبلی کے حلقوں میں واپڈا کے فوکل پرسنز مقرر کرنے کی تجاویز سامنے آئیں۔ بعد ازاں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی اور لوڈشیڈنگ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔
حمزہ شہباز وزارتِ اطلاعات و نشریات کے ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ بھی پہنچے جہاں انہوں نے وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ اور وزارت کے افسران نے انہیں بریفنگ دی۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں ڈیجیٹل میڈیا، قومی بیانیے اور منفی پروپیگنڈے کے توڑ پر بات ہوئی۔ اس موقع پر دیگر حکومتی نمائندے بھی موجود تھے۔
مزید پڑھیں: سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کیوں خاموش ہیں؟
اس سے قبل وزیراعظم ہاؤس میں موجودہ اور سابق ارکان اسمبلی اور سینیٹرز سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں سائرہ افضل تارڑ، جمال شاہ کاکڑ، حفیظ الرحمن دریشک، سابق ارکان قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی اور خرم دستگیر جبکہ سابق سینیٹر بہرہ مند تنگی شامل تھے۔
ملاقاتوں میں علاقائی مسائل زیر بحث آئے اور انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
اسی دن حمزہ شہباز نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے اجلاس کی بھی صدارت کی جس میں چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے شرکت کی۔ اجلاس میں چھوٹے شہروں اور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کے لیے تکنیکی تربیت اور وظائف کا ذکر ہوا۔
10 ستمبر کو وزیراعظم ہاؤس میں ترکیہ کے سفیر عرفان نذیر اوغلو سے بھی حمزہ شہباز شریف کی ملاقات ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق ملاقات میں 2 طرفہ تجارت، بحری شعبے، انفراسٹرکچر اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مجوزہ نجکاری میں ترک سرمایہ کاری پر بات چیت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے: منفی پروپیگنڈے کا توڑ، ڈیجیٹل میڈیا کے کردار پر عطا تارڑ کی حمزہ شہباز کوبریفنگ
ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز شریف اس کے بعد وزارت پیٹرولیم اور وزارت فوڈ سیکیورٹی کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے جس کے بعد حتمی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔














