عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ’ایپل‘ نے پاکستان میں اپنے حکومتی اور ضابطہ جاتی امور کی نگرانی کے لیے سلمان ڈار کو ہیڈ آف گورنمنٹ افیئرز (حکومتی امور کا سربراہ) مقرر کر دیا ہے۔
سلمان ڈار نے اپنی نئی ذمہ داری کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں ایپل کے حکومتی امور کی قیادت کریں گے۔
ان کی ذمہ داریوں میں سرکاری اداروں، ریگولیٹرز، پالیسی سازوں اور دیگر اہم متعلقہ فریقین کے ساتھ کمپنی کے روابط کو فروغ دینا شامل ہے۔
ایپل کی جانب سے یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستانی حکومت عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایپل 2026 کے آغاز میں نئی اپ ڈیٹس اور ڈیوائسز متعارف کرانے کو تیار
حکومت کی اولین ترجیح ان کمپنیوں کو مقامی پیداوار اور موبائل فون کی اسمبلنگ کی جانب لانا ہے۔
حکومت کا خیرمقدم
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے سلمان ڈار کی تقرری کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے اسے پاکستان میں ایپل کی پہلی باضابطہ موجودگی قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور ایپل کے درمیان گزشتہ دو برس سے رابطے جاری ہیں، جن میں اب مزید پیش رفت کی توقع ہے۔
وفاقی وزیر نے ایپل کے مشرقِ وسطیٰ اور پاکستان کے لیے حکومتی امور کے ڈائریکٹر عمر الرفاعی کے تعاون پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
سلمان ڈار کی ذمہ داریاں کیا ہوں گی؟
حکومتی امور کے سربراہ کی بنیادی ذمہ داری عالمی کمپنی، حکومت اور سرکاری اداروں کے درمیان رابطے کو منظم کرنا ہوتی ہے۔ سلمان ڈار پاکستان میں ایپل کی جانب سے متعلقہ سرکاری اداروں اور پالیسی سازوں کے ساتھ رابطہ کاری کریں گے۔
وہ ضابطہ جاتی معاملات پر بات چیت اور حکومتی پالیسی امور میں کمپنی کی نمائندگی بھی کریں گے۔
ان معاملات میں عام طور پر محصولات (ٹیکسز)، درآمدات، منڈی تک رسائی، ڈیجیٹل پالیسی، ٹیلی کام ریگولیشنز اور دیگر حکومتی قواعد و ضوابط شامل ہوتے ہیں۔
سلمان ڈار کا ٹیکنالوجی کے شعبے میں تجربہ
سلمان ڈار پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کاروباری شعبے سے طویل عرصے سے وابستہ ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق، وہ ’آئی ٹی روز‘ کے شریک بانی اور سابق سربراہِ انتظامیہ (سی ای او) رہ چکے ہیں۔
اس کے علاوہ وہ پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کی مرکزی انتظامی کمیٹی سمیت مختلف پالیسی کمیٹیوں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
انہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی، کاروباری سرگرمیوں اور بزنس ڈیولپمنٹ کے شعبوں میں 3 دہائیوں سے زیادہ کا تجربہ حاصل ہے۔
ان کا یہ وسیع تجربہ پاکستان میں ایپل کے حکومتی، صنعتی اور پالیسی معاملات کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
پاکستان میں موبائل فون کی مقامی صنعت
ایپل کی اس نئی پیش رفت کو سمجھنے کے لیے پاکستان میں موبائل فون کی مقامی صنعت کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
حال ہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کو انجینیئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے حکام نے بریفنگ دی۔
اس بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں اس وقت 37 کمپنیاں موبائل فون تیار کر رہی ہیں۔ ملک میں اب تک 3 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ موبائل فون مقامی طور پر تیار کیے جا چکے ہیں۔
حکام کے مطابق بڑے اسمارٹ فون برانڈز میں صرف ایپل ہی وہ نمایاں کمپنی ہے جو تاحال پاکستان میں اپنے فون مقامی طور پر تیار نہیں کر رہی۔ تاہم حکومت ایپل کو پاکستان میں مقامی تیاری یا اسمبلنگ کی جانب لانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
کیا پاکستان ’آئی فون‘ کی مقامی اسمبلنگ کے لیے تیار ہے؟
آل پاکستان موبائل فون ایسوسی ایشن کے چیئرمین ذیشان میاں نور کا کہنا ہے کہ ملک میں موبائل فون کی تیاری اور اسمبلنگ کا بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی قائم ہو چکا ہے۔
ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران مقامی صنعت نے فنی صلاحیت، ہنرمند افرادی قوت اور پیداواری معیار کے حوالے سے نمایاں ترقی کی ہے۔
ذیشان میاں نور سمجھتے ہیں کہ پاکستان تکنیکی اعتبار سے ’آئی فون‘ جیسے عالمی برانڈ کی مقامی اسمبلنگ شروع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم ایپل جیسے عالمی ادارے کے لیے صرف اسمبلنگ پلانٹ کا قیام کافی نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:ایپل نے آئی او ایس 26.6 جاری کر دیا، سیکیورٹی اور کارکردگی مزید بہتر بنادی گئی
اس مقصد کے لیے عالمی معیار کی سپلائی چین (فراہمی کا نظام)، کوالٹی کنٹرول (معیار کی سخت جانچ) اور تربیت یافتہ فنی افرادی قوت درکار ہوگی۔ سب سے بڑھ کر ایک مستحکم اور طویل المدتی حکومتی پالیسی ناگزیر ہے۔
ان کے مطابق اگر پاکستان نے اپنی موبائل فون صنعت کے مجموعی نظام کو مسلسل بہتر بنایا، تو اعلیٰ معیار کے اسمارٹ فونز کی عالمی سپلائی چین کا حصہ بننا ملک کے لیے اگلا ممکنہ مرحلہ ہو سکتا ہے۔
مقامی موبائل صنعت کی شرح نمو
واضح رہے کہ فروری 2026 میں ذیشان میاں نور نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان میں 30 سے زیادہ مقامی موبائل فون پلانٹس کام کر رہے ہیں، جس سے پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں موبائل فون کی مقامی اسمبلنگ کے لیے بنیادی صنعتی ڈھانچہ موجود ہے۔
تاہم، کسی عالمی پریمیئم برانڈ کے لیے مقامی پیداوار شروع کرنا عام اسمبلنگ پلانٹس سے قدرے مختلف عمل ہے۔ اس کے لیے مضبوط سپلائی چین، کڑی نگرانی اور عالمی معیار کے پیداواری انتظامات درکار ہوتے ہیں۔
حکومت ’ایپل‘ کو پاکستان کیوں لانا چاہتی ہے؟
پاکستانی حکومت کی ان کوششوں کا مقصد صرف موبائل فونز کی درآمدات کم کرنا نہیں ہے۔ حکومت کی نظریں مقامی پیداوار بڑھانے، غیر ملکی سرمایہ کاری لانے اور صنعتی سپلائی چین کو وسعت دینے پر بھی مرکوز ہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں انجینیئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ نے واضح کیا کہ حکومت ایپل کو پاکستان میں مینوفیکچرنگ کے لیے راغب کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں:بھارت میں سائبر سیکیورٹی کی بڑی ناکامی، آئی فون 18 کی لانچ سے قبل ایپل کا حساس ڈیٹا چوری
اسی بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے آئندہ دورہ امریکا کے دوران ایپل کے اعلیٰ عہدیدار ’جان ٹرنَس‘ سے ان کی ملاقات زیرِ غور ہے۔
اگر یہ ملاقات طے پاتی ہے تو اس میں ایپل کی ممکنہ سرمایہ کاری اور پاکستان میں فون کی اسمبلنگ سمیت دیگر اہم معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔ تاہم اس حوالے سے تاحال کسی حتمی معاہدے یا سرمایہ کاری کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
کیا ’ایپل‘ پاکستان میں ’آئی فون‘ بنانا شروع کر رہا ہے؟
فی الحال ایپل کی جانب سے پاکستان میں ’آئی فون‘ کی مقامی اسمبلنگ شروع کرنے کا کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔
اسی طرح سلمان ڈار کی بطور ہیڈ آف گورنمنٹ افیئرز تقرری کو بھی براہِ راست مقامی پیداوار شروع کرنے کے فیصلے سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ یہ تقرری بنیادی طور پر ایپل کے حکومتی اور پالیسی روابط کو بہتر اور منظم کرنے کا حصہ ہے۔
البتہ، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت ایپل کو ملکی موبائل فون انڈسٹری کا حصہ بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں پیش رفتوں کو ایک ہی وسیع تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
’ایپل‘ کے آفیشل اسٹور اور مقامی مارکیٹ کا معاملہ
پاکستان میں ایپل کی موجودگی کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا کمپنی مستقبل میں باقاعدہ آفیشل اسٹور یا براہِ راست تجارتی سرگرمیاں شروع کرے گی؟
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں انجینیئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے سربراہ نے پاکستان میں ایپل اسٹور قائم ہونے کا دعویٰ تو کیا، لیکن اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
تجارتی اعتبار سے موجودہ پیش رفت کو کسی نئے ایپل اسٹور کے قیام، براہِ راست فروخت کے نظام یا آئی فون کی مقامی تیاری کے حتمی اعلان سے الگ رکھنا ضروری ہے۔
صارفین کے لیے کیا تبدیلیاں آ سکتی ہیں؟
اگر مستقبل میں ایپل پاکستان میں اپنی تجارتی یا صنعتی موجودگی بڑھاتا ہے، تو مقامی مارکیٹ پر اس کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔
ان ممکنہ تبدیلیوں میں آفیشل ڈسٹری بیوشن، باضابطہ وارنٹی، آفٹر سیلز سروس (فروخت کے بعد کی خدمات) اور مصنوعات کی بہتر دستیابی شامل ہے۔اس کے علاوہ قیمتوں کے تعین اور درآمدی نظام میں زیادہ شفافیت آئے گی۔
اگر ایپل مقامی اسمبلنگ کی جانب بڑھتا ہے، تو اس سے پاکستان کی موبائل فون صنعت کو عالمی معیار کی سپلائی چین اور جدید پیداواری طریقوں سے منسلک ہونے کا موقع ملے گا۔
مزید پڑھیں:ایپل کا اوپن اے آئی پر بڑا مقدمہ، چیٹ جی پی ٹی اور آئی فون استعمال کرنے والوں پر کیا اثر پڑے گا؟
تاہم، یہ تمام امکانات ایپل کے آئندہ فیصلوں اور پاکستان کے ضابطہ جاتی و صنعتی ماحول میں ہونے والی بہتری سے مشروط ہیں۔
اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
سلمان ڈار کی تقرری سے پاکستان میں ایپل کے حکومتی اور پالیسی روابط کو ایک باقاعدہ ڈھانچہ مل گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں موبائل فون کی تیاری اور اسمبلنگ کا ایک وسیع مقامی نیٹ ورک پہلے سے موجود ہے اور حکومت ایپل کو بھی اس کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔
اب اہم مرحلہ یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت اور ایپل کے درمیان جاری یہ رابطے کسی عملی تجارتی، صنعتی یا سرمایہ کاری کے فیصلے میں تبدیل ہوتے ہیں یا نہیں۔
فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ ایپل نے پاکستان کے لیے حکومتی امور کا باضابطہ سربراہ مقرر کر دیا ہے۔
پاکستان میں ’آئی فون‘ کی مقامی اسمبلنگ ابھی تک محض ایک زیرِ بحث امکان ہے اور اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔












