جنرل اینستھیزیا دماغ کو بے ہوش کیسے کرتا ہے؟ شعور کا ایک بڑا راز اب بھی حل طلب

منگل 22 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنرل اینستھیزیا یعنی مکمل بے ہوشی کی دوا نے جدید طب میں سرجری کو انتہائی آسان بنا دیا ہے لیکن سائنس دان آج بھی پوری طرح نہیں جان سکے کہ یہ ادویات آخر دماغ کو اس طرح کیسے خاموش کردیتی ہیں کہ انسان کو اپنے اردگرد ہونے والی کسی چیز کا شعور نہیں رہتا۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین پر گھر کے ذہنی بوجھ کی ذمہ داری زیادہ کیوں، اسے کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی پراسرار کیفیت اب سائنس دانوں کو انسانی دماغ اور شعور کی بنیادی نوعیت سمجھنے میں مدد دے رہی ہے۔

بعض ماہرین کے مطابق بے ہوشی کی دوا سے پیدا ہونے والی حالت شاید ہمیں اس سوال کے جواب کے قریب لے جاسکتی ہے کہ انسانی شعور آخر پیدا کہاں سے ہوتا ہے؟

جب بے ہوشی کی دوا موجود نہیں تھی

سنہ1797  میں برطانوی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل ہوراٹیو نیلسن کا دایاں بازو کاٹنا پڑا۔ یہ آپریشن ان کی جان بچانے کے لیے کیا گیا تھا۔ تاہم روایت کے مطابق اس وقت انہیں بے ہوش کرنے کے لیے کسی باقاعدہ دوا کے بجائے صرف رم کا ایک گھونٹ دیا گیا تھا۔

انسانی تاریخ کے بیشتر حصے میں جسم کے کسی عضو کو کاٹنے جیسے انتہائی تکلیف دہ آپریشن بھی مریض کو مکمل ہوش میں ہی کیے جاتے تھے۔

پھر سنہ 1846 میں جنرل اینستھیزیا کا استعمال شروع ہوا اور طب کی دنیا بدل گئی۔ اب انسان کے شعور کو عارضی طور پر کسی بھی وقت اور کسی بھی شخص میں ختم کیا جاسکتا تھا۔ نیلسن کی طرح کسی مریض کو عضو کٹوانے کے باوجود اگلے روز ناشتے کی میز پر بیٹھنے کے لیے درد برداشت کرنے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔

مزید پڑھیے: لاہور: جنرل اسپتال کے ایمرجنسی لیبر روم میں خواتین کے چیک ایپ کرنے والا جعلی ڈاکٹر گرفتار

آج دنیا بھر میں ہر سال 35 کروڑ سے زیادہ سرجریاں جنرل اینستھیزیا کے تحت کی جاتی ہیں۔ تاہم اتنے بڑے پیمانے پر استعمال کے باوجود سائنس دان اب بھی پوری طرح نہیں جانتے کہ یہ ادویات ہمیں بے شعور کیسے کرتی ہیں۔

بے ہوشی کی دوا دماغ کے ساتھ کیا کرتی ہے؟

اینستھیزیا کی کئی اقسام ہیں۔ کچھ ادویات براہ راست درد کو روکنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں کچھ انسان کو غنودگی اور سکون کی کیفیت میں لے جاتی ہیں جبکہ جنرل اینستھیزیا اس سے ایک قدم آگے جاکر انسان کو مکمل طور پر بے شعور کردیتا ہے۔

ایسی متعدد ادویات موجود ہیں جو بے ہوشی کی کیفیت پیدا کرسکتی ہیں۔ ان میں زینون جیسی نسبتاً غیر فعال گیس بھی شامل ہے اگرچہ اس کا طبی استعمال بہت محدود ہے جبکہ پروپوفول دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی جنرل اینستھیزیا کی ادویات میں شامل ہے۔

ان ادویات کی کیمیائی ساخت ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوسکتی ہے لیکن ان میں ایک بات مشترک دکھائی دیتی ہے کہ یہ دماغ کے اعصابی خلیوں کے درمیان رابطے میں مداخلت کرتی ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے مؤثر انداز میں رابطہ کرنے سے روکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا آپ زیادہ خواب دیکھتے ہیں، تو جانیے ایسی گہری نیند کتنی بیماریوں سے بچاسکتی ہے؟

مقناطیسی گونج کیمرا یعنی ایم آر آئی سے کیے گئے مشاہدات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنرل اینستھیزیا کے دوران دماغ کی مجموعی سرگرمی میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔

لیکن اصل سوال اب بھی باقی ہے کہ دماغ کی سرگرمی میں یہ کمی انسان کو بے شعور کیسے کردیتی ہے؟

کیا پورا دماغ بند ہوجاتا ہے؟

سائنس دان ابھی تک اس بات پر متفق نہیں کہ اینستھیزیا سے پیدا ہونے والی بے ہوشی کے لیے پورے دماغ کا بند ہونا ضروری ہے یا دماغ کے کچھ مخصوص حصے اس عمل میں زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

برطانیہ کی امپیریل کالج لندن سے وابستہ حیاتیاتی طبیعیات اور اینستھیزیا کے ماہر پروفیسر نک فرینکس کے مطابق اگر پورا دماغ بھی بند ہوجائے تو دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان انتہائی پیچیدہ رابطوں کی وجہ سے یہ جاننا مشکل ہے کہ اس پورے عمل کا آغاز کہاں سے ہوا۔

ان کے مطابق دماغ کے بعض حصے دوسروں کے مقابلے میں پہلے اینستھیزیا سے متاثر ہوتے دکھائی دیتے ہیں جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں یہی حصے دماغ کی مجموعی سرگرمی میں کمی کا عمل تو شروع نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیے: نیند کی کمی پوری کرنے کا درست طریقہ کیا ہے؟

ان میں ایک اہم حصہ تھیلمس ہے۔ یہ دماغ کے اندر موجود انڈے کی شکل کا ایک اہم مرکز ہے جو دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ جنرل اینستھیزیا دینے کے بعد تھیلمس ان حصوں میں شامل ہوتا ہے جو نسبتاً پہلے خاموش پڑتے ہیں۔ یہ حصہ نیند شروع کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے عمل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تو کیا اینستھیزیا دراصل دماغ کے قدرتی نیند کے نظام کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے؟

فرینکس کے مطابق جانوروں پر کیے گئے تجربات میں اگر تھیلمس کے ایک مخصوص حصے کو متحرک کیا جائے تو بے ہوش جانور کو جگایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح بعض مطالعات میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کوما میں موجود کچھ افراد کو تھیلمس کو متحرک کرکے جگایا جاسکتا ہے۔

تاہم سائنس دان کہتے ہیں کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

کیا شعور دماغ کی بیرونی سطح میں موجود ہے؟

کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ شعور کا بنیادی مرکز دماغ کی بیرونی تہہ، یعنی سیریبرل کارٹیکس ہے، اس لیے اینستھیزیا کا بنیادی اثر بھی اسی حصے پر ہونا چاہیے۔

تاہم دماغ کے دیگر حصے بھی اس عمل میں شامل نظر آتے ہیں، جن میں فرنٹل اور پیریٹل لوبز اہم ہیں۔

فرنٹل لوب پیشانی کے عین پیچھے واقع ہوتا ہے اور تنقیدی سوچ سمیت کئی اعلیٰ ذہنی سرگرمیوں میں کردار ادا کرتا ہے جبکہ پیریٹل لوب دماغ کے نسبتاً پچھلے حصے میں موجود ہے اور لمس سمیت مختلف حسی معلومات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

کیا شعور کی تیسری حالت بھی ہوتی ہے؟

سائنس دانوں کو اب ایسے شواہد بھی مل رہے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دماغ شعور کی ایک درمیانی کیفیت میں بھی جاسکتا ہے جو نہ مکمل بیداری ہے اور نہ مکمل بے ہوشی۔

مزید پڑھیں: نیند کو ’پرفیکٹ‘ بنانے کی کوشش کہیں اسے مزید خراب نہ کردے؟

عام طور پر جب کسی شخص کو آپریشن کے لیے بے ہوش کیا جاتا ہے تو توقع یہی ہوتی ہے کہ وہ مکمل طور پر بے شعور ہوگا اور بعد میں اسے آپریشن کے دوران ہونے والے واقعات یاد نہیں رہیں گے۔ لیکن ایسا ہر مریض کے ساتھ نہیں ہوتا۔

اندازے کے مطابق آپریشن کے دوران ہر 15 ہزار میں سے تقریباً ایک مریض کو بیداری کی کچھ کیفیت یا آپریشن کے بعض واقعات یاد رہ سکتے ہیں۔ اسے اتفاقی بیداری کہا جاتا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی اسپتالوں کے ماہرِ بے ہوشی ڈاکٹر جے دیپ پنڈت کا خیال ہے کہ ایسے افراد شاید شعور کی ایک ایسی تیسری حالت میں ہوتے ہیں جو نیند اور بیداری یا شعور اور بے شعوری کے درمیان کہیں موجود ہے۔

ایک تجربے میں پنڈت نے مریضوں کو بے ہوشی کی دوا کے ساتھ پٹھوں کو مفلوج کرنے والی دوا بھی دی تاہم بازو کے گرد ایک مخصوص پٹی باندھ کر اس دوا کو بازو کے پٹھوں تک پہنچنے سے روک دیا گیا۔

اس طرح اگرچہ مریض بظاہر بے ہوش تھے لیکن اگر وہ چاہیں تو اپنا ہاتھ حرکت دے سکتے تھے۔

تجربے میں تقریباً ایک تہائی مریضوں نے تجربہ کرنے والے شخص کی انگلیاں ہدایت ملنے پر دبائیں، حالانکہ آپریشن کے دوران ان میں بیداری یا درد کی کوئی ظاہری علامت موجود نہیں تھی۔

مزید پڑھیے: کیا الارم کے بغیر جاگنا ممکن ہے؟ نیند کی اندرونی گھڑی درست کرنے کا طریقہ

پنڈت کے مطابق یہ نتائج اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شعور صرف دو حالتوں، یعنی بیداری اور بے ہوشی، تک محدود نہیں بلکہ اس کی ایک درمیانی کیفیت بھی ہوسکتی ہے۔

بے ہوشی کی دوا شعور کے راز سے پردہ کیسے اٹھا رہی ہے؟

شعور کا نام نہاد مشکل مسئلہ سائنس کے ان بڑے معموں میں شامل ہے جنہیں اب تک مکمل طور پر حل نہیں کیا جاسکا۔

اگرچہ عام نیند میں بھی شعور ختم ہوجاتا ہے، لیکن جنرل اینستھیزیا سائنس دانوں کو شعور کو تقریباً کسی بھی وقت عارضی طور پر ختم کرکے اس دوران دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

انسانی شعور کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ہر شخص کا تجربہ اپنے لیے منفرد محسوس ہوتا ہے۔ ہر انسان دنیا کو اپنے انداز میں محسوس اور سمجھتا ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی کے ماہر اعصاب اینڈریا لوپی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ جنرل اینستھیزیا اس انفرادیت کے بارے میں ہمیں کیا بتا سکتا ہے۔

انہوں نے جنرل اینستھیزیا کے زیر اثر افراد کے دماغوں کا فعال ایم آر آئی کے ذریعے جائزہ لیا۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے دماغ میں خون کے بہاؤ کو دیکھ کر یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ دوا دماغ کی سرگرمی پر کیا اثر ڈال رہی ہے۔

لوپی خاص طور پر فعالی رابطے میں دلچسپی رکھتے تھے یعنی دماغ کے مختلف حصے ایک دوسرے کے ساتھ کس حد تک رابطہ کرتے اور اپنی سرگرمی کو مربوط کرتے ہیں۔

عام حالت میں دماغی سرگرمی کا یہ نمونہ ہر شخص کے لیے اس قدر منفرد ہوتا ہے کہ اسے ایک طرح کے دماغی ’فنگر پرنٹ‘ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اپنی عمر سے زیادہ بوڑھا محسوس کرتے ہیں؟ وجہ ناقص نیند بھی ہو سکتی ہے، تحقیق

لیکن لوپی اور ان کے ساتھیوں نے دریافت کیا کہ اینستھیزیا کے دوران مختلف افراد کے دماغ ایک دوسرے سے زیادہ مشابہ ہوجاتے ہیں۔

حیرت انگیز طور پر بے ہوشی کی حالت میں انسانی دماغ دوسرے بندروں کے دماغوں سے بھی کم مختلف دکھائی دیا۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اینستھیزیا سے دماغ کے وہ حصے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جو ارتقائی اعتبار سے نسبتاً نئے ہیں۔

شعور شاید کسی ایک حصے میں نہیں

لوپی کے مطابق اینستھیزیا کی ایک اہم علامت یہ ہے کہ دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطہ محدود ہوجاتا ہے۔

بیداری کی حالت میں دماغ کے ایسے حصے بھی ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کرسکتے ہیں جو براہ راست ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نہیں ہوتے۔ لیکن اینستھیزیا کے دوران ایسا بہت کم ہوتا ہے اور بظاہر صرف وہی حصے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں جو براہ راست منسلک ہوں۔

لوپی نے سنہ 2024 میں ایک تبصرے میں لکھا کہ بیداری کے دوران شعور کا بہاؤ دماغی سرگرمی کے مختلف نمونوں کے درمیان ہماری حرکت کی رہنمائی کرتا ہے جبکہ اینستھیزیا کے دوران دماغی سرگرمی جیسے اپنی سمت کھو دیتی ہے۔

مزید پڑھیے: والدین آج کل پہلے سے زیادہ تھکن اور نیند کی کمی کیوں محسوس کرتے ہیں؟

یہ نتائج اس خیال سے مطابقت رکھتے ہیں کہ شعور شاید دماغ کے کسی ایک مخصوص حصے کا نتیجہ نہیں بلکہ مختلف حصوں اور مراکز کے درمیان رابطے اور باہمی ہم آہنگی سے وجود میں آتا ہے۔

اسے یوں سمجھا جاسکتا ہے جیسے کسی ملک میں حکومت کے مختلف ادارے ایک دوسرے سے رابطے کے ذریعے کام کرتے ہوں لیکن اگر ملک کا مواصلاتی نظام ہی منقطع ہوجائے تو پورا نظام متاثر ہوجاتا ہے۔

اینستھیزیا اور ایل ایس ڈی میں کیا تعلق ہے؟

لوپی کا خیال ہے کہ جنرل اینستھیزیا ہمیں یہ سمجھنے میں بھی مدد دے سکتا ہے کہ ایل ایس ڈی اور سائلو سائِبن جیسی شعور تبدیل کرنے والی ادویات دماغ پر کیسے اثر انداز ہوتی ہیں۔

اینستھیزیا دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطے کو کم کردیتا ہے، جبکہ ان ادویات کے بارے میں تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کے برعکس دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطے کی نئی راہیں پیدا کرسکتی ہیں۔

یوں دونوں طرح کی کیفیات کا مطالعہ سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ شعور دماغ میں کیسے تشکیل پاتا ہے۔

تاہم اس سوال کا حتمی جواب ابھی بھی سائنس کے پاس نہیں کہ انسانی شعور آخر دماغ کے کس حصے میں موجود ہے یا یہ مکمل طور پر کس طرح پیدا ہوتا ہے۔

امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ بے ہوشی، آپریشن کے دوران نگہداشت اور درد کے علاج کے ماہر ایسوسی ایٹ پروفیسر بورس ہائیفیٹس کے مطابق شعور کے بارے میں ہماری سمجھ ا

بھی بہت ابتدائی سطح پر ہے۔

مزید پڑھیں: کیمپنگ بہتر نیند اور دیرپا مثبت اثرات کے لیے سودمند، چلیں آزماتے ہیں

ان کے بقول اگر کوئی شخص یہ بتا سکے کہ شعوری تجربہ آخر کس طرح کام کرتا ہے تو وہ اس شخص سے بات کرنا چاہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp