امت، ریاست اور انڈین مسلمان

جمعرات 24 ستمبر 2026
author image

رعایت اللہ فاروقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہمارا تعلیمی پس منظر 100 فیصد مدرسے کا ہے۔ درسگاہی عصری تعلیم ہم کسی بھی سطح کی نہیں رکھتے۔ والد عالم دین تھے، سو یہ ان کا فیصلہ تھا کہ ہمیں بھی خاندانی روایت کے مطابق دین کا عالم بننا ہوگا۔ مگر ہوا یہ کہ لگ بھگ 6 برس کی عمر میں ہمارے ہاتھ اخبار کا ایک ٹکڑا لگا جس پر اسکیچز کی مدد سے منظر کی گئی ٹارزن کی کہانی  کی ایک قسط درج تھی۔ توجہ ہماری اسکیچز نے کھینچی تھی، لیکن ہر اسکیچ کے نیچے اردو میں کچھ لکھا بھی تھا۔ ہم نے نورانی قاعدے والے ہجے کا فارمولا استعمال کرکے اس عبارت کو پڑھنے کی کوشش کی تو کچھ لفظ تو بن گئے، مگر کچھ صوتی مرحلے تک نہ پہنچ سکے۔ کسی راہ گیر کی مدد لے کر ان الفاظ کو بھی صوتی مرحلہ سر کروا دیا۔ اور یہیں سے ہمارے غیر نصابی مطالعے کا سفر شروع ہو گیا۔

بلوغ کے بعد والی عمر میں ہمیں ایک بڑے بحران سے یوں دوچار ہونا پڑا کہ غیر نصابی مطالعے میں ہم جو جدید دنیا دیکھ رہے تھے وہ ان کتب کے باہر بھی موجود تھی۔ کتاب، موٹرسائیکل، کار اور طیارے کا ذکر کرتی تو کتاب سے باہر یہ سواریاں ہماری نظروں کے سامنے موجود بھی تھیں۔ کتاب پستول، بندوق اور توپ کی بات کرتی تو وہ بھی کتاب کے باہر موجود تھی۔ لیکن نصابی تعلیم یعنی درس نظامی میں ہم جو دنیا پڑھ رہے تھے وہ کتاب کے باہر موجود نہ تھی۔ درس نظامی والی کتاب میں سوار گھوڑے اور اونٹ پر تھا، جبکہ غیر نصابی کتاب کا سوار کار اور جہاز میں تھا۔ یعنی غیر نصابی مطالعہ جس حال کی بات کر رہا تھا وہ تو موجود تھا۔ لیکن درس نظامی والی کتاب کے حال کو گزرے صدیاں بیت چکی تھی۔  ایک مستقل نفسیاتی بحران یہ بھی کھڑا ہوگیا کہ درسگاہ میں ہمیں یہ پڑھایا جا رہا تھا کہ مولوی معاشرے کا نہایت محترم فرد ہوتا ہے۔ مگر جب ہم درسگاہ سے باہر دیکھتے تو مولوی کے لیے احترام نظر نہ آتا۔ یوں ہمارا ذہن ایک بڑے خلفشار کا شکار ہوگیا۔ اور ہم دینی تعلیم اور ماحول دونوں سے بیزار ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: غلطی، معافی، اور نفسیاتی قید

خلاصہ یہ کہ قریب تھا کہ ہم دینی نصاب اور لٹریچر کو الف لیلوی داستانیں کہہ کر بغاوت کر جاتے کہ عین ان نازک لمحوں میں مولانا ابوالکلام آزاد نے ہمیں تھام لیا۔ ان کے لٹریچر نے ہمارے 2 مسئلے حل کئے۔ پہلا یہ کہ ہمیں سمجھایا کہ ایک زمانے میں مغرب اس بحران کا شکار تھا کہ کوئی جدید پیشرفت کرنے کی بجائے عبادات اور دعاؤں سے سارے مسئلے حل کرنے کی کوشش کرتا۔ اب وہی فرسودگی مسلمانوں پر مسلط ہوگئی ہے۔ یہ کوئی جدید پیش کرنے کی بجائے ہر مسئلے کا حل ’انشاءاللہ‘ میں ڈھونڈتے ہیں۔ اور یہ فرسودگی اس حد تک طاری ہوگئی ہے کہ دینی علوم کا نصاب تک اب قدیم دور کا پڑھایا جا رہا ہے۔

دوسرا مسئلہ مولانا آزاد نے ہمارا یہ حل کیا  کہ ہمیں خدا، کائنات اور انسان کا ربط ماڈرن خطوط پر سمجھا دیا۔ یعنی اللہ کے دین کو آج کے عہد کے مطابق قابل فہم ہی نہیں ریلیونٹ بنا کر بھی دکھا دیا۔ اس کے نتیجے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ اور قرآن مجید  سے تعلق ہمارے لیے محض اعتقادی نہ رہا بلکہ یہ تعلق ہماری ایسی فطری ضرورت بن گیا جس کے بغیر ہمارے لیے اپنے ہونے کا تصور ہی محال ہے۔ یوں مولانا آزاد ہمارے لیے فقط ادیب، خطیب، اور سیاسی رہنما نہیں بلکہ ذاتی سطح پر بھی سب سے بڑے فکری محسن ہیں۔

مولانا ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ اور ان جہات میں سے سب سے کمزور ان کی سیاسی جہت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں نشانہ بنانے والے ہمیشہ اسی جہت سے حملہ کرتے ہیں۔ اسے مولانا کی کرامت ہی سمجھنا چاہیے کہ ان کی سب سے کمزور جہت پر حملہ کرنے والوں کی کوشش تو یہ ہوتی ہے کہ وہ مولانا کی شخصیت کو کوئی سنجیدہ قسم کا نقصان پہنچا دیں لیکن تخلیق ہر بار ان ناقدین سے کامیڈی ہوجاتی ہے۔ مولانا کے ناقدین کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ مولانا پر فرد جرم ہی غلط عائد کرتے ہیں۔ یہ قیام پاکستان کی مخالفت کو مولانا کا جرم باور کراتے ہیں۔ اس فرد جرم کا سب سے بڑا فائدہ تو یہی ہے کہ اسے غلط ثابت کرنے کے لیے آپ کوئی لمبی چوڑی محنت نہیں کرنی پڑتی۔ اس کیس میں حب الوطنی والا چورن ہی سارا کام کردیتا ہے۔ اب آپ کو کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں رہتی، بس تبرا کرتے جایئے اور داد سمیٹتے جایئے۔ مگر اس سوال سے جان کیسے چھڑایئے گا کہ قیام پاکستان کی مخالفت شریعت، اخلاق اور قانون کے کس پیمانے پر جرم تھا ؟ اگر آپ پاکستانی کے بجائے افغانی یا ترکمانی  ہوتے تو اسے جرم مانتے؟

لہٰذا سیاسی جہت سے مولانا کی سوچ کا تنقیدی جائزہ لینے کا درست معیار یہ ہے کہ آپ پاکستان کو بیچ سے ہٹا کر سوال یہ کھڑا کیجیے کہ کیا ہندو سیاسی بالادستی والے ہندوستان میں مسلمان مطمئن و خوشحال رہ سکتے تھے؟ اور چونکہ تنقیدی جائزہ مولانا کی سوچ کا لینا مقصود ہے تو سمجھنا پڑے گا کہ مولانا کی سوچ کس بنیادی نکتے پر کھڑی تھی؟ مولانا کا نکتہ یہ تھا کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان صدیوں سے ساتھ جیتے آئے ہیں، لہٰذا برٹش راج کے بعد بھی ساتھ رہ سکتے ہیں۔ مولانا کی نظر میں یہ ان کا سب سے طاقتور استدلال تھا۔ لیکن فی الحقیقت یہی مولانا کے تصور کی سب سے کمزور اینٹ ہے۔ ہندو اور مسلمان جس ہندوستان میں صدیوں سے ساتھ جیتے آئے تھے وہ مسلم بالادستی والا ہندوستان تھا۔ مسلم سیاسی بالادستی تو تاریخ میں ان گنت مقامات پر یہ کرشمہ دکھا چکی کہ جزیرۃ العرب سے نکلنے فاتحین نے سینٹرل ایشیا تک جتنے بھی علاقے فتح کیے وہ آج بھی مسلم اکثریتی ممالک کی حیثیت سے دنیا میں موجود ہیں۔

اس کے بالکل برخلاف جب مغربی اقوام فاتح بن کر دنیا میں پھیلنے لگیں تو  صرف امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہی مستقل جم سکیں۔ اور اس کے لیے بھی انہیں مقامی آبادی کا قتل عام کرکے انہیں ختم کرنا پڑا۔ باقی یہ جہاں جہاں گئے، وہاں سے ٹھڈے مار کر بھگا دیے گئے۔ کوئی ایک ملک یہ ایسا نہیں دکھا سکتے جو ان کے اخلاق سے متاثر ہوکر عیسائی مذہب یا یورپین کلچر قبول کر گیا ہو۔ یہ تو فوجیوں اور پادریوں دونوں کے دستے ساتھ ساتھ رکھ کر علاقہ فتح کرتے۔ اور آگے چل کر پادریوں والے تکلف سے بھی جان چھرا لی گئی۔

جب اہل کتاب یورپینز کا ہی یہ حال تھا تو ان ہندوؤں کے متعلق کوئی خوش فہمی کیسے پالی جاسکتی تھی جو خود ہی ذات کی بنیاد پر منقسم ہیں؟۔ جو ہندو ہونے کے باوجود نیچ ذات سے آج بھی بس اپنے پاخانے اٹھوانے رہے ہیں وہ برہمن اپنی بالادستی والے دور میں مسلمانوں کو پلکوں پر رکھتے؟ اور انہیں برابری کا درجہ دیتے؟ جن کے ہاں ہندو آپس میں بھی مساویانہ قدر نہیں رکھتے وہ کسی صورت مسلمانوں کو مساویانہ حق نہ دیتے۔ اور یہ بات سمجھنے میں مولانا چوک گئے۔

مزید پڑھیے: جدید ملٹری میوزیم اور قومی یادداشت میں ان کا کردار

آج کے انڈیا کا ہی منظر دیکھ لیجیے۔ چل سکا سیکولرزم وہاں؟ آج کا انڈیا عملا ایک ہندو ریاست ہے۔ اور مسلمانوں کا وہاں یہ حال ہے کہ وہ 20 کروڑ ہوکر بھی سرے سے ملک کی سیاسی اکائی ہی نہیں ہیں۔ بابری مسجد کو مسمار ہونے سے روک سکے اور نہ ہی بحال کروا سکے۔ اور اب اس خوف میں مبتلا ہیں کہ اورنگزیب عالمگیر کی قبر بچے گی یا جائے گی؟ کسی عرب ملک کا مسئلہ ہو تو یہ امت مسلمہ بن جاتے ہیں لیکن پاکستان کا سوال آئے تو مسلمان اور ہندو کا فرق ہی مٹا دیتے ہیں۔ اور اگر سوال یہ کھڑا ہوجائے کہ افغانستان کے معاملے میں امت مسلمہ بننا ہے یا  کچھ اور؟ تو یہ فیصلہ کرنے کے لیے انہیں ہندو موقف کو بطور قطب نما استعمال کرنا پڑتا ہے۔ آپریشن سندور پر آدھے ہندو کہہ رہے ہیں، پاکستان کی یہ جرات کہ ہمیں ہی آنکھیں دکھا رہا ہے؟ اور آدھے نرندر مودی کو سرینڈر مودی کا خطاب دے رہے ہیں، مگر انڈین مسلمان یہی طے نہیں کرپا رہا کہ کہ مودی کا ساتھ دیں یا راہول کا؟۔ اویسی اور سلمان ندوی جیسوں کو تو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے پاکستان کے خلاف زہر بھی اگلنا پڑتا ہے۔ اور اس کے باوجود حاصل کیا ہوتا ہے؟ ہالی ووڈ کی وہ فلمیں جن میں دکھایا جاتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان اتنے غدار ہیں کہ یہ ٹنڈولکر کو نہیں وسیم اکرم کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں۔ بادی النظر میں تو یہی لگتا ہے کہ انڈین مسلمان کو اس مقام تک مولانا آزاد نے ہی پہنچایا ہے۔ کیا لگتا ہے آپ کو، پھنس گئے مولانا آزاد؟

ایک سوال پیش کرتے ہیں، وہ طے کرے گا کہ پھنسے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر مولانا آزاد پاکستان کی حمایت کردیتے تو کیا موجودہ انڈیا میں ایک بھی مسلمان نہ ہوتا؟ سارے ہی مسلمان بوریا بستر لپیٹ کر پاکستان آجاتے؟ ہمارے خیال میں نہیں۔ کیونکہ جائیدادیں اور آبائی علاقے لوگ سیاسی لیڈروں کے کہنے پر نہیں ذاتی مفادات اور احوال کے تحت چھوڑتے ہیں۔ ذرا  مہاجرین کو تارکین سے بدل کر دیکھیے۔ اور اعداد و شمار نوٹ کر لیجیے ان ہندوؤں اور مسلمانوں کے جو تقسیم ہند کے بعد کے ادوار میں پاکستان اور انڈیا سے مغربی ممالک کی جانب کوچ کر گئے اور وہیں بس گئے۔ ان کی اگلی اولادیں تک وہیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ان میں سے کتنے مولانا آزاد یا قائد اعظم کے کہنے پر گئے؟ سب نے یہ فیصلے ذاتی مفادات کے تحت کیے۔

اب آجاتا ہے آخری سوال۔ اور وہ یہ کہ پھر امت کے مشترکہ مؤقف کا کیا بنے گا؟ جواب بہت ہی آسان ہے۔ جب ہلاکو خان نے بغداد کو تاراج کیا تو تخت دہلی کا موقف کیا تھا؟ کیا وہ فوج لے کر ہلاکو خان سے لڑنے نکل پڑے تھے؟ نہیں، بلکہ یہ ہوا تھا کہ تخت دہلی نے ہلاکو خان کے ساتھ عدم جارحیت کا معاہدہ کر لیا تھا۔ کیوں؟ کیونکہ تخت دہلی بغداد نہیں سلطنت دہلی کے مسلمانوں کے تحفظ کا ذمہ دار تھا۔ مگر دہلی کے حکمرانوں نے وہ معاہدہ محض خود کو امت سے لاتعلق رکھنے کے لیے نہ کیا تھا۔ سلطان ناصرالدین محمود نے ہلاکو سے معاہدہ سائن کرتے ہی اپنے نائب غیاث الدین بلبن کو حکم دیا کہ بڑی فوج کھڑی کرو، منگول ایک نہ ایک دن آئیں گے ضرور، لہٰذا ہماری تیاری پوری ہونی چاہیے۔ اور بلبن نے ایسی فوج کھڑی کردی کہ جب منگول مشرق وسطی میں پٹ پاٹ کر واپس لوٹے تو سیدھا سلطنت دہلی کا ہی رخ کرلیا۔ بلبن کی تیار کردہ فوج اب علاء الدین خلجی کے پاس تھی اور اس فوج نے منگولوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ امت کی سطح کی چیز فقط عقیدہ ہوتا ہے، سیاسی موقف نہیں۔ سیاسی موقف ہر ریاست کے اپنے سیاسی مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: مشرق کے لیے بوجھ بنتا انڈیا

آج کے انڈین مسلمان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ اپنا مؤقف اپنے احوال اور تقاضوں کے مطابق اختیار کرنے کا شعور ہی نہی رکھتا۔ یہ شہری انڈیا کا ہے مگر مزے اس مملکت کے شہری والے لینا چاہتا ہے جو مسلم اکثریتی ہو۔ روس میں ایک کروڑ 30 لاکھ کے لگ بھگ مسلمان ہیں۔ وہاں کی 7 ریاستیں مسلم اکثریتی ہیں۔ کیا انہیں غزہ کی کوئی ٹینشن نہیں؟ یقینا ہوگی مگر وہ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ان کا کوئی پولیٹکل رول بنتا نہیں۔ سو دعاؤں اور نیک خواہشات تک ہی رہتے ہیں۔ انڈین مسلمانوں کو بھی تذبذب والی ذہنیت سے جان چھرا کر بطور انڈین شہری یکسو ہونا پڑے گا۔ جب یہ یکسوئی ہوگی تو پھر کسی اویسی کو اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے پاکستان کوگالی نہیں دینی پڑے گی !

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp