بھارت میں اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے دوران پولیس نے کانگریس رہنما راہول گاندھی سمیت متعدد اپوزیشن ارکان کو 2 روز میں تیسری مرتبہ حراست میں لے لیا۔
اپوزیشن جماعتیں، ان کی طلبہ تنظیمیں اور نوجوانوں کی تحریک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اپوزیشن نے ووٹر فہرستوں میں متنازع تبدیلیوں پر الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری پر سوالات اٹھائے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا، احتجاج میں خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے واقعات
بدھ کو احتجاج کا آغاز کانگریس کی جانب سے وسطی دہلی کے ایک ریسٹورنٹ میں ارکان پارلیمنٹ کے لیے ظہرانے کے بعد ہوا۔ ارکان بعد ازاں جنتر منتر کی جانب روانہ ہوئے، جہاں حکام نے احتجاج کی اجازت دے رکھی ہے۔

راہول گاندھی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنتر منتر جاکر احتجاج کریں گے اور ملک کو بتائیں گے کہ ان کے لیے گیانیش کمار ‘جائز چیف الیکشن کمشنر نہیں’ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹ چوری کرنے والے غدار ہیں اور گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا ہوگا۔
بس میں موجود اپوزیشن ارکان نے کھڑکیوں پر ایسے پوسٹرز لگا رکھے تھے جن پر ‘ووٹ چوری نہیں، جمہوریت چوری نہیں’ اور ‘الیکشن کمیشن، بی جے پی کمیشن نہیں’ جیسے نعرے درج تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی پنجاب کی یونیورسٹی میں طالبہ سے زیادتی اور خودکشی کا مبینہ واقعہ، پرتشدد احتجاج شروع
سینکڑوں کانگریس کارکنان بھی بس کے ہمراہ پیدل چل رہے تھے جبکہ پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات تھی۔ پولیس نے جنتر منتر جانے والی سڑک بھی بند کردی جس کے باعث بس کو متبادل راستہ اختیار کرنا پڑا۔
بعد ازاں راہول گاندھی بس سے باہر نکل آئے۔ احتجاج کے دوران راہول گاندھی اور ان کی بہن پریانکا وادرا سمیت متعدد رہنماؤں کو سیکیورٹی اہلکاروں نے حراست میں لے کر الگ الگ گاڑیوں میں منتقل کردیا۔

اپوزیشن جماعتیں گزشتہ ماہ بھارتی اخبار کی ایک رپورٹ کے بعد سے الیکشن کمشنر کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہی ہیں، جس میں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے معاملے پر الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات کی نشاندہی کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کے لیے احتجاج، پولیس کا مظاہرین پر آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال
بھارتی الیکشن کمیشن اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپوزیشن کے الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ووٹر فہرستوں کے معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اپوزیشن کے احتجاج کو وزیراعظم نریندر مودی کی تیسری مدت حکومت کے دوران ایک نیا سیاسی چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔














