رحیم یار خان میں رواں سال 6 لاکھ 73 ہزار ایکڑ رقبے پر گنے کی فصل کاشت کی گئی ہے جبکہ ضلع میں شوگر ملز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث گنے کی کاشت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کسان رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گنے کی فی من قیمت فوری مقرر کی جائے اور شوگر سیس کی مد میں وصول ہونے والے اربوں روپے کا حساب کسانوں اور عوام کو دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: 2 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی منظوری، قیمتوں کی نگرانی کے لیے کمیٹی قائم
رحیم یار خان کا مجموعی زیر کاشت رقبہ 13 لاکھ 55 ہزار ایکڑ ہے جس میں سے رواں سال 6 لاکھ 73 ہزار ایکڑ پر گنے، 3 لاکھ 77 ہزار ایکڑ پر کپاس اور ایک لاکھ 22 ہزار ایکڑ پر چاول کی فصل کاشت کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ضلع میں 55 ہزار ایکڑ رقبے پر آموں کے باغات جبکہ 4 ہزار 500 ایکڑ پر کینو اور دیگر چھوٹے باغات موجود ہیں۔
رحیم یار خان میں مجموعی طور پر 8 شوگر ملز ہیں۔ ان میں سے ایک چنی گوٹھ میں واقع ہے جس کا کچھ حصہ ضلع بہاولپور جبکہ باقی ضلع رحیم یار خان میں آتا ہے۔ دوسری شوگر مل پنجاب اور سندھ کی سرحد پر واقع ہے جس کا نصف حصہ سندھ اور نصف پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں شامل ہے جبکہ دیگر شوگر ملز ضلع رحیم یار خان کی چاروں تحصیلوں میں واقع ہیں۔
شوگر ملز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث ضلع میں گنے کی کاشت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
محکمہ زراعت رحیم یار خان کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر مسعود سلیم کے مطابق رواں سال ضلع میں 6 لاکھ 73 ہزار ایکڑ رقبے پر گنے کی فصل کاشت کی گئی ہے۔
گنے کی قیمت مقرر نہ ہونے پر کسانوں کا احتجاج
کسان اتحاد کے مرکزی صدر مظہر الحق بخاری کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال بھی حکومت نے گنے کی فی من قیمت مقرر نہیں کی تھی اور رواں سال گنے کی کرشنگ کا سیزن شروع ہونے والا ہے تاہم اب تک گنے کی فی من قیمت مقرر نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیے: شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کو شوگر ملز مالکان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ملز مالکان اپنی مرضی سے کسانوں کو ریٹ دیتے ہیں اور اس طرح کاشتکاروں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔
مظہر الحق بخاری نے کہا کہ حکومت کسانوں سے فی من ڈھائی روپے شوگر سیس فنڈ کے نام پر وصول کرتی ہے جبکہ شوگر ملز سے بھی فی من ڈھائی روپے شوگر سیس کی مد میں لیے جاتے ہیں۔
ان کے مطابق رحیم یار خان میں رواں سال گنے کی کاشت کا رقبہ 6 لاکھ 73 ہزار ایکڑ ہے اور فی ایکڑ گنے کی پیداوار تقریباً 800 من ہے۔ اس حساب سے فی من ڈھائی روپے کے حساب سے فی ایکڑ 2 ہزار روپے شوگر سیس فنڈ کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 6 لاکھ 73 ہزار ایکڑ سے صرف کسانوں سے سالانہ ایک ارب 34 کروڑ 60 لاکھ روپے شوگر سیس فنڈ کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’اپنا کھیت اپنا روزگار اسکیم‘ کی قرعہ اندازی، مریم نواز کا کامیاب افراد کو زرعی زمین دینے کا اعلان
کسان رہنما کے مطابق اگر شوگر سیس فنڈ کی مد میں شوگر ملز کی جانب سے ادا کیے جانے والے ڈھائی روپے فی من کو بھی شامل کرلیا جائے تو کسانوں اور شوگر ملز سے مجموعی طور پر 5 روپے فی من وصول ہوتے ہیں اور اس طرح سالانہ شوگر سیس کی مجموعی رقم 2 ارب 69 کروڑ 92 لاکھ روپے بنتی ہے۔
اربوں روپے وصول، رابطہ سڑکیں آج بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار
کسان رہنما عبدالصمد چوہدری کا کہنا ہے کہ شوگر سیس کی مد میں اربوں روپے وصول ہونے کے باوجود آج تک کسانوں کے علاقوں کی سڑکیں پختہ نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ ضلع کی بیشتر رابطہ سڑکیں 20، 20 سال سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، لیکن آج تک ان کی مناسب مرمت نہیں کی گئی۔
کاشتکار زاہد شریف مہر کا کہنا تھا کہ ان کے علاقوں کی سڑکیں اب بھی پختہ نہیں ہیں اور گنے کی فصل کی نقل و حمل کے باعث جو سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی ہیں، ان کی مرمت بھی نہیں کی جا رہی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ شوگر سیس کی مد میں وصول ہونے والا فنڈ کہاں خرچ کیا جا رہا ہے اس بارے میں عوام کو بتایا جائے۔
شوگر سیس کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟
کسان اتحاد کے صدر مظہر بخاری کا کہنا تھا کہ جب شوگر سیس فنڈ یا گنے کی قیمت مقرر کرنے کا معاملہ آتا ہے تو کسانوں کو نہ تو مشاورت میں شامل کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے نمائندوں کو ساتھ بٹھایا جاتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ شوگر سیس کی مد میں جمع ہونے والی تمام رقم جنوبی پنجاب کی بجائے کہیں اور خرچ کی جا رہی ہے۔
مظہر بخاری نے کہا کہ اگر ان کا الگ صوبہ ہوتا تو جو پیسہ ان کے علاقوں سے اکٹھا کیا جاتا وہ اپنے ہی علاقے اور صوبے میں خرچ ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ کسان اپنے حکمرانوں سے سوال بھی نہیں کرسکتے لیکن جب ان کا اپنا وزیراعلیٰ اور اپنے افسران ہوں گے تو کسانوں کی بھی سنی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: خالص گڑ کیسے بنتا ہے اور اسکی افادیت کیا ہے؟ طالب علم نے فیکٹری لگا لی
مظہر بخاری کا کہنا تھا کہ کسان خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہوگا۔












