سونے میں تبدیل کرنے والا افسانوی پتھر (پارس) بنانے والے ایک پراسرار کیمیاگر کی کہانی صدیوں سے لوگوں کو مسحور کرتی رہی ہے لیکن نئی تاریخی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ اس داستان کے مرکزی کردار نکولس فلیمل کا حقیقت میں کیمیا گری سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ہیری پوٹر فلم کے اداکار مائیکل برن 82 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
قرون وسطیٰ کے پیرس میں رہنے والے اس شخص کی دولت، فلاحی کاموں اور جائیدادوں سے متعلق نئی دستاویزات سے یہ سمجھنے میں مدد ملی ہے کہ آخر انہیں ایک عظیم کیمیاگر کیوں سمجھا جانے لگا۔
نکولس فلیمل اور ان کی اہلیہ پرنیل فلیمل سے منسوب یہ داستان تقریباً 600 برس سے ادیبوں، فنکاروں اور سائنس دانوں کی دلچسپی کا مرکز رہی ہے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ انہوں نے ’فلسفیوں کا پتھر‘ تیار کیا تھا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ عام دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرسکتا ہے، بیماریوں کا علاج کرسکتا ہے اور انسان کو لافانی بنا سکتا ہے۔
تاہم تاریخی ریکارڈ کے مطابق نکولس فلیمل ایک حقیقی شخص تھے جو سنہ 1330 کی دہائی میں پیدا ہوئے اور سنہ 1418 میں انتقال کر گئے لیکن ان کا کیمیا گری سے کوئی ثابت شدہ تعلق نہیں تھا۔
اس کے باوجود ان کی افسانوی شہرت نے کئی نسلوں کے اہلِ علم اور ادیبوں کو متاثر کیا۔ ان میں مشہور سائنس دان آئزک نیوٹن، فرانسیسی مصنف وکٹر ہیوگو اور ’ہیری پوٹر‘ کی مصنفہ جے کے رولنگ بھی شامل ہیں۔ رولنگ نے اپنی کتاب ’ہیری پوٹر اینڈ دی فلاسفرز اسٹون‘ میں نکولس اور پرنیل فلیمل کا ذکر کیا ہے۔
پیرس کے میوزیم آف کلونی میں اس موسمِ خزاں میں نکولس فلیمل کی وصیت پہلی مرتبہ ایک نمائش میں عوام کے سامنے پیش کی گئی ہے۔
یہ دستاویزات صدیوں سے پیرس کے ایک اسپتال کے ریکارڈ میں محفوظ تھیں۔ نمائش کی منتظم مائیلی بیٹوزے کے مطابق ان دستاویزات کا سنہ 2024 میں جائزہ لینے کے بعد فلیمل کی شہرت کے پیچھے موجود تاریخی عوامل کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئیں۔
فلسفیوں کے پتھر کی تلاش
کیمیا گری کی ابتدائی تحریریں تقریباً 2 ہزار سال قبل قدیم مصر میں سامنے آئیں۔ بعد ازاں نقل اور ترجمے کے ذریعے یہ علم یورپ تک پہنچا جہاں بارہویں صدی میں اسلامی فتوحات اور علمی تبادلوں کے دوران اس کے پھیلاؤ کو فروغ ملا۔
مزید پڑھیے: فلم ہیری پوٹر کے اداکار سر مائیکل گیمبون المعروف پروفیسر ڈمبلڈور جہان فانی سے کوچ کرگئے
لفظ ’کیمیا‘ کی اصل کے بارے میں بھی مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ عربی اور یونانی زبانوں کے امتزاج سے وجود میں آیا، تاہم اس کے قطعی معنی واضح نہیں۔ اس کا تعلق دھاتوں کو پگھلانے یا مصر سے بھی جوڑا جاتا ہے۔
کیمیا گروں کا ایک بڑا مقصد ایسا مادہ تیار کرنا تھا جسے ’فلسفیوں کا پتھر‘ کہا جاتا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس کی مدد سے دوسری دھاتوں کو سونے یا چاندی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ قرون وسطیٰ کے یورپ میں اس تصور کے ساتھ یہ عقیدہ بھی وابستہ ہوگیا کہ یہ پتھر صحت بہتر بنانے اور انسان کو ہمیشہ زندہ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اٹلی کی یونیورسٹی آف بولوگنا میں تاریخ سائنس کے پروفیسر میٹیو مارٹیلی کے مطابق، ’فلسفیوں کے پتھر‘ کا قدیم ترین حوالہ ساتویں صدی کی ایک بازنطینی تحریر میں ملتا ہے۔ اس دور میں کیمیا گر خود کو فلسفی کہتے تھے۔
تاہم اس تصور کی جڑیں اس سے بھی پرانی ہیں۔ پہلی صدی قبل مسیح کی ایک تحریر میں ایسے پتھر کا ذکر ملتا ہے جسے مصنف نے ’ایسا پتھر جو پتھر نہیں‘ قرار دیا۔ بعد میں اس تصور کو فلسفیوں کے پتھر کے نام سے شہرت ملی۔
یہ مادہ لازماً کسی ٹھوس پتھر کی شکل میں نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ اسے سفوف یا مائع کی صورت میں بھی تصور کیا جاتا تھا۔
ایک حقیقی پیرس کے شہری کو کیمیاگر کیسے سمجھا جانے لگا؟
نکولس فلیمل کی زندگی کے آثار آج بھی پیرس میں موجود ہیں۔ ان کی قبر کا کتبہ میوزیم آف کلونی میں آنے والوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ میوزیم فرانس میں قرونِ وسطیٰ کی تاریخ اور تہذیب کے لیے اہم مقام رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں: جیمز اور للی پوٹر کی واپسی؟ نئے ٹریلر نے ’ہیری پوٹر‘ کے مداحوں کو حیران کردیا
نمائش کی منتظم مائیلی بیٹوزے کے مطابق بہت سے لوگ یہ جان کر حیران ہوتے ہیں کہ ہیری پوٹر کی کہانی میں جادوگر اور کیمیاگر کے طور پر پیش کیے جانے والے فلیمل دراصل ایک حقیقی تاریخی شخصیت تھے۔
ان کی وفات کے تقریباً 50 سے 75 سال بعد، پندرھویں صدی کے اواخر میں فرانس میں ’لی لیور فلیمل‘ یعنی ’فلیمل کی کتاب‘ کے نام سے ایک کیمیاوی تحریر شائع ہوئی۔ یہ پہلی معروف کتاب تھی جسے نکولس فلیمل کے نام سے منسوب کیا گیا حالانکہ اسے اصل میں ایک نامعلوم مصنف نے لکھا تھا۔
یہ کتاب بہت مقبول ہوئی اور اس کی متعدد نقول تیار کی گئیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں نے اس کے مصنف کو حقیقی نکولس فلیمل سمجھنا شروع کردیا۔ بعد میں بھی ان کے نام سے مختلف تحریریں شائع ہوتی رہیں جن میں ان کی اور ان کی اہلیہ کی زندگی سے متعلق پیرس کے بعض حقیقی واقعات اور مقامات کا ذکر بھی شامل تھا۔
اس کتاب میں کیمیا گری کا ایک مرحلہ وار طریقہ بیان کیا گیا تھا جس کے مطابق ایک مخصوص مائع میں سیسہ ڈالنے سے اسے سونے میں تبدیل کیا جاسکتا تھا۔
مائیلی بیٹوزے کے مطابق تحریر میں کیمیا گری کے نظریات کے ساتھ ساتھ فلسفیوں کا پتھر بنانے کا عملی نسخہ بھی اس انداز میں پیش کیا گیا جیسے فلیمل خود قارئین کو کامیابی کے طریقے بتا رہے ہوں۔
پروفیسر میٹیو مارٹیلی نے اس کتاب کے اصل نسخے کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس میں بیان کردہ بعض طریقے اور اجزا مشرقی علاقوں کی اس سے کہیں قدیم تحریروں سے ملتے جلتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ کتاب کو نکولس فلیمل سے منسوب کرنا درست نہیں تھا، لیکن اس میں موجود بعض طریقوں کا تعلق حقیقی تاریخی کیمیاوی روایت سے ضرور تھا۔
دولت مند جائیدادوں کے مالک تھے نکولس فلیمل
نکولس فلیمل کی وصیت اور اس سے متعلق دیگر دستاویزات پیرس کے اسپتال ’ہوپیتال دے کوئنز وینگ‘ کے ریکارڈ میں محفوظ تھیں۔ یہ ادارہ سنہ 1260 میں قائم ہوا تھا اور آنکھوں کی بیماریوں کے علاج میں مہارت رکھتا ہے۔ فلیمل اس اسپتال کے معاونین میں شامل تھے اور انہوں نے اپنی وصیت میں اس کے لیے بھی عطیات مختص کیے تھے۔
مائیلی بیٹوزے کے مطابق، تاریخی ریکارڈ پہلے ہی یہ ظاہر کرتا تھا کہ فلیمل ایک دولت مند جائیداد کے مالک تھے اور گرجا گھروں اور فلاحی اداروں کو عطیات دیتے تھے، لیکن نئی دستاویزات سے معلوم ہوا کہ ان کی جائیدادیں اور سرمایہ کاری پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ وسیع تھیں۔
ان کے مطابق فلیمل کے پاس پیرس اور اس کے گردونواح میں جائیدادوں کا ایک بڑا کاروبار تھا۔ وہ سیکڑوں جائیداد مالکان کے قرض خواہ تھے اور دستاویزات کے مطابق ان کی اپنی ملکیت میں تقریباً 10 مکانات بھی تھے۔
یہ بھی پڑھیے: فلمی کردار جو ناظرین کی زندگیوں میں رچ بس گئے
ان کی وصیت میں مختلف فلاحی عطیات کے علاوہ یہ تفصیلات بھی شامل تھیں کہ ان کی اور ان کی اہلیہ کی وفات کے بعد ان کے لیے مشترکہ مذہبی دعائیہ اجتماعات منعقد کیے جائیں۔ پرنیل فلیمل اپنے شوہر سے پہلے انتقال کر گئی تھیں۔ یہ اجتماعات سنہ 1789 میں فرانسیسی انقلاب کے آغاز سے کچھ عرصہ پہلے تک جاری رہے۔
نکولس فلیمل کی وفات کے بعد ان کی وراثت پر قانونی تنازع بھی پیدا ہوا جس نے ان کی دولت کو مزید نمایاں کردیا۔
مائیلی بیٹوزے کے مطابق، فلیمل کی غیر معمولی دولت، سماجی حیثیت اور فلاحی سرگرمیاں اس بات کی ممکنہ وضاحت فراہم کرتی ہیں کہ لوگ انہیں کیمیاگر کیوں سمجھنے لگے۔ وہ اشرافیہ سے تعلق نہیں رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود معاشرے میں بلند مقام رکھتے تھے۔ اس دور میں کیمیا گری کو قدرت کی تکمیل اور خدا کے کام میں معاونت کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا، اس لیے ان کی دولت اور سخاوت کو اس تصور سے جوڑنا لوگوں کے لیے آسان تھا۔
افسانوی کتاب کے پیچھے حقیقی تاریخ
18ویں صدی ہی میں بعض اہل علم نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا نکولس فلیمل واقعی ان کے نام سے شائع ہونے والی کیمیاوی تحریروں کے مصنف تھے؟ تاہم ان سوالات کے باوجود ان کی شہرت کم نہیں ہوئی۔
پیرس میں ان سے وابستہ تاریخی مقامات نے بھی اس داستان کو زندہ رکھنے میں کردار ادا کیا۔ مونتمورانسی گلی میں واقع وہ مکان آج بھی موجود ہے جسے فلیمل اور ان کی اہلیہ نے سنہ 1407 میں تعمیر کروایا تھا۔ یہ مکان غریب افراد کو پناہ دینے کے لیے استعمال ہوتا تھا اور آج پیرس کے قدیم ترین گھروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
تاریخ دانوں کے مطابق، کسی مشہور شخصیت کے نام سے تحریر شائع کرنے کا رواج کیمیا گری کی روایت میں عام تھا۔ اس طریقے کو علمی اصطلاح میں ’سیوڈو ایپی گرافی‘ کہا جاتا ہے، جس میں کسی تحریر کو زیادہ مستند اور معتبر دکھانے کے لیے اسے کسی معروف شخصیت سے منسوب کردیا جاتا ہے۔
پروفیسر میٹیو مارٹیلی کے مطابق، فلیمل کے معاملے میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا تاکہ کتاب کو زیادہ اہمیت اور اعتبار حاصل ہوسکے۔
کیا فلسفیوں کا پتھر واقعی بنایا جاسکتا ہے؟
اگرچہ عام دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرنے اور لافانی زندگی حاصل کرنے کے تصورات سائنسی طور پر ثابت نہیں ہوسکے، لیکن جدید سائنس دان قدیم کیمیاوی نسخوں کا مطالعہ کرکے یہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان میں کون سے حقیقی کیمیائی عمل موجود تھے۔
سنہ2024 میں پروفیسر میٹیو مارٹیلی اور ان کے ساتھیوں نے فلسفیوں کا پتھر بنانے سے متعلق ایک قدیم نسخے کو دوبارہ آزمایا۔ اس نسخے میں انڈوں کا استعمال کیا گیا تھا اور تجربے کے نتیجے میں ایک سفوف حاصل ہوا۔
منصوبے میں شریک یونیورسٹی آف بولوگنا کی کیمسٹری کی پروفیسر لوسیا مائنی وضاحت کرتی ہیں کہ انڈوں میں موجود گندھک چاندی کے ساتھ ردعمل کرکے اس پر سنہری چمک پیدا کرسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ اسی قسم کے تجربات نے قدیم کیمیا گروں کو یہ یقین دلایا ہو کہ وہ سونا بنانے کے طریقے تک پہنچ گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: مریخ پر 14 سالہ تحقیق کے بعد شہد کے چھتے جیسی حیران کن ساخت دریافت
انہوں نے کہا کہ کیمیا گر مشاہدے کے ذریعے قدرت کو سمجھنے کی کوشش کررہے تھے اسی لیے کیمیا گری کو جدید کیمسٹری کی ابتدائی شکلوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔
پرنیل فلیمل کا ذکر بھی ان تحریروں میں ملتا ہے جو ان کے شوہر کے نام سے منسوب کی گئیں۔ ان میں انہیں ایک نیک خاتون کے طور پر پیش کیا گیا جو نکولس کے ساتھ کام کرتی تھیں اور اگر چاہتیں تو فلسفیوں کا پتھر بنانے کی صلاحیت بھی رکھتی تھیں۔
کیمیا گری کی تلاش نے بعض حقیقی سائنسی دریافتوں کی راہ بھی ہموار کی۔ مثال کے طور پر 17ویں صدی میں ایک جرمن کیمیا گر نے فلسفیوں کا پتھر تلاش کرنے کی کوشش کے دوران فاسفورس کو پہلی مرتبہ الگ کیا۔
تاہم نکولس فلیمل کی داستان آج بھی اس لیے لوگوں کو متاثر کرتی ہے کہ وہ کتابوں اور فنون میں ایک ایسی شخصیت کے طور پر زندہ ہیں جس نے گویا موت کو شکست دے دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بڑھتی عمر کی رفتار سست کی جا سکتی ہے؟ نئی تحقیق سے اہم اشارے
نمائش کی منتظم مائیلی بیٹوزے کے مطابق فلیمل کی داستان اس قدر مضبوط ہوچکی ہے کہ لوگ یہ جاننے کے باوجود اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے کہ وہ حقیقت میں کیمیاگر نہیں تھے۔













