کے پی حکومت کے ساتھ چلنے کی ہرممکن کوشش کی لیکن یہ لوگ ابھی تک ڈی چوک سے باہر نہیں نکلے، وزیراعظم شہباز شریف

منگل 13 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر چلنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن یہ لوگ آج تک ڈی چوک سے باہر نہیں نکلے۔

مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں سوات میں دوبارہ دہشتگردوں کی آمد شروع ہوئی، حالانکہ 2018 تک ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہوچکا تھا۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 180 دن بہت اہم، پاکستان مخالف بات کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائےگا، فیصل واوڈا

وزیراعظم نے کہاکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور سے ملاقاتیں ہوئیں، جس میں ہم نے انہیں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

شہباز شریف نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ترقی کے سفر کو روکنے پر تلی ہوئی تھی، جبکہ گزشتہ چند ماہ سے صوبے میں صورتحال انتہائی خراب ہوچکی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے ذمہ داران دہشتگردوں کے خلاف ایک لفظ بھی بولنے کو تیار نہیں تھے۔

وزیراعظم نے تحریک انصاف کے ماضی کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2014 میں ان لوگوں نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں گندے کپڑے دھوئے اور قبریں کھودیں۔

انہوں نے کہاکہ مذاکرات کے دوران بار بار مسودے کو تبدیل کیا گیا، جس کے بعد وفاقی کابینہ نے باہمی مشاورت سے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت آئینی اقدام کرنے کا فیصلہ کیا۔

شہباز شریف نے مزید کہاکہ گورنر خیبرپختونخوا کی معاونت اور مشاورت کے لیے تکنیکی ماہرین پر مشتمل 11 رکنی کونسل قائم کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکار اور عام شہری دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ صوبے سے دہشتگردی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو، کیونکہ ملک کے کسی ایک صوبے کا ترقی کے سفر میں پیچھے رہ جانا افسوسناک ہے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے تک ایمرجنسی برقرار رہے گی، طلال چوہدری

وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں دہشتگردوں کو واپس لایا گیا اور انہیں کھلی چھوٹ دی گئی، جس کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp