خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر پشاور کے تاجروں اور دیگر شہریوں نے مجموعی طور پر ملے جلے ردعمل کے بجائے دوٹوک ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں آئینی اقدامات کیوں ناگزیر ہوئے؟ وزیراعظم نے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے لیا
تاجروں و دیگر شہریوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس اقدام کے بعد صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی، قانون کی بالادستی قائم ہوگی اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں مسلسل سیاسی سرگرمیوں، جلسے جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں کے باعث کاروباری طبقے کو مالی مشکلات اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سڑکوں کی بندش اور غیر یقینی صورتحال سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں جس سے تاجروں کے لیے معمول کے مطابق کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوگیا تھا۔
پشاور کے تاجروں نے امید ظاہر کی کہ گورنر راج کے بعد حکومت کاروباری طبقے کے مسائل پر توجہ دے گی، معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے اقدامات کرے گی اور عام شہریوں کو درپیش مشکلات کے حل کو ترجیح دے گی۔
مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے تک ایمرجنسی برقرار رہے گی، طلال چوہدری
دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ آئے روز ہونے والے جلسے جلوسوں اور احتجاجی سرگرمیوں سے معمولات زندگی متاثر ہو رہے تھے۔ ان کے مطابق سیاسی سرگرمیوں کے باعث بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوئی جبکہ مسلسل غیر یقینی صورتحال نے والدین اور طلبہ پر ذہنی دباؤ بڑھا دیا تھا۔
شہریوں نے توقع ظاہر کی کہ موجودہ انتظامی تبدیلی کے بعد سیاسی کشیدگی میں کمی آئے گی، تعلیمی سرگرمیاں معمول پر آئیں گی اور عوام کو بار بار سڑکوں کی بندش اور احتجاجی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی مشکلات سے نجات ملے گی۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 180 دن بہت اہم، پاکستان مخالف بات کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائےگا، فیصل واوڈا
پشاور کے شہریوں اور تاجروں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ امن و امان کی بحالی، قانون کی بالادستی، کاروباری طبقے کے تحفظ اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ صوبے میں پائیدار امن قائم ہو اور عوام کو درپیش مسائل میں کمی آسکے۔













