پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

بدھ 14 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بدھ کے روز پشاور ہائیکورٹ میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو چیلنج کرتے ہوئے صوبے کی منتخب حکومت کی بحالی کے لیے درخواست دائر کر دی۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کردی، قرارداد کثرت رائے سے منظور

ایکس پر ایک پوسٹ میں پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ یہ درخواست فیڈریشن آف پاکستان اور دیگر کے خلاف دائر کی گئی ہے جس میں صوبے میں عوام کی نمائندہ حکومت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دریں اثنا پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ٹھکانے کا پتا لگانے اور یہ معلوم کرنے کے لیے عدالتوں سے رجوع کر رہی ہے کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی سیاسی رابطوں کے ساتھ ساتھ تمام آئینی اور قانونی آپشنز پر غور کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر اسمبلی کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا ہے اور ہمارے تمام ایم پی ایز کے گھروں پر حملے ہو رہے ہیں۔ بدھ کے قومی اسمبلی اجلاس کا حوالہ دیتے ہیوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت قومی اسمبلی کے اجلاس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے اجلاس کے مقصد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں مذاکرات کا مطالبہ کرنے والی قرارداد منظور ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اب عدالت جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کہاں ہیں اور انہیں کہاں رکھا گیا ہے یہ ہمارے لیے انتہائی اہم ہے۔

مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی، پی ٹی آئی قیادت نے کوئی احتجاج یا مزاحمت کیوں نہ کی؟

انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام چیزوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور ہم یقینی طور پر تمام آئینی اور قانونی اقدامات کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سیاسی سطح پر بھی اور قانونی سطح پر بھی رابطہ کریں گے اور پارٹی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔

ایک الگ پیشرفت میں، پی ٹی آئی کے کے پی میڈیا سیل نے الزام لگایا کہ پولیس نے آفریدی کے وکیل بشیر وزیر کو پشاور ہائیکورٹ کے باہر سے اغوا کر لیا ہے۔

یہ پیشرفت وفاقی حکومت کی جانب سے 11 اکتوبر کو کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے جس کے تحت پی ٹی آئی کی قیادت والی صوبائی انتظامیہ کو معطل کر دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگنے کے باوجود پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت نے احتجاج سے انکار کیوں کیا؟

حکومت نے امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور انسداد دہشتگردی آپریشنز پر وفاقی حکام کے ساتھ صوبائی حکومت کے تعاون میں مبینہ خامیوں کا حوالہ دیا۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے یہ مداخلت ضروری تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp