امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے افغان طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر ایک دستاویزی فلم نشر کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے افغانستان کی سابق حکومت کو فراہم کیا گیا اسلحہ اب پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے حملوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ تاہم سی این این کی جانب سے ٹی ٹی پی کے سفاک دہشتگردوں کے لیے ’ملیٹنٹس’ جیسے نرم الفاظ کا استعمال انتہائی تشویشناک اور صحافتی ذمہ داریوں کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اگر افغانستان سے اسلحہ واپس لے جائے تو پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ آسانی سے جیت جائے گا، وزیر دفاع خواجہ آصف
ٹی ٹی پی کوئی باغی گروہ یا مسلح جتھہ نہیں، بلکہ اقوام متحدہ اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں نامزد ایک دہشتگرد تنظیم ہے جو معصوم شہریوں، بچوں، خواتین اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف بدترین دہشت گردی میں ملوث ہے۔
دہشتگردوں کے لیے نرم اور مبہم اصطلاحات کا استعمال ان کے سنگین جرائم کو معمول پر لانے اور ان کی دہشتگردانہ سوچ کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔
یہ دہشتگرد صرف پاکستان کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے خطے اور پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ اس لیے ذمہ دارانہ صحافت کا تقاضا ہے کہ حقائق کو بغیر کسی لگی لپٹی کے بیان کیا جائے اور دہشت گرد کو دہشت گرد ہی کہا جائے، نہ کہ اسے “ملیٹنٹ” جیسے خوش نما لفظ کے پیچھے چھپایا جائے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ الفاظ کا درست استعمال نہ صرف متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے ضروری ہے بلکہ عالمی برادری کو دہشتگردی کے اصل چہرے سے آگاہ کرنے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیے: افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جائز قرار، امریکا نے پاکستان کے حقِ دفاع کی کھل کر حمایت کردی
اس تناظر میں سی این این کی اپنی ہی دستاویزی فلم میں سامنے آنے والے حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ عناصر کس قدر خطرناک ہیں اور ان کے ہاتھوں میں جدید اسلحہ آنا عالمی سلامتی کے لیے کتنا بڑا چیلنج ہے۔
دستاویزی فلم میں کیا انکشاف ہوا؟
رپورٹ کے مطابق تحقیقات میں انفرادی طور پر امریکی حکومت کے نشان زدہ رائفلوں کا سراغ لگایا گیا جو افغان حکومت کے خاتمے اس کے بعد دہشتگردوں تک اسلحہ کی ترسیل اور پاکستان میں دہشتگرد حملوں کے نتائج کو اجاگر کرتا ہے۔
امریکی اسلحہ کیسے دہشتگردوں تک پہنچا؟
سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے انخلا کے وقت افغانستان میں تقریباً 3 لاکھ امریکی ہتھیار چھوڑے گئے تھے جنہیں نہ تو محفوظ کیا گیا اور نہ ہی مؤثر طریقے سے ٹریک کیا گیا۔
CNN has broadcast a documentary on Afghan Taliban and TTP. The report reveals that weapons supplied by US to Afghanistan’s former government during the two-decade war on terror are now being used by TTP militants in attacks inside Pakistan. Investigations traced individual… pic.twitter.com/xGdhZG0QX3
— South Asia Times (@_southasiatimes) October 25, 2026
امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن کے سربراہ جان سوپکو کے مطابق یہ جدید اسلحہ افغانستان میں چھوڑ دیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی سال 2024 کی رپورٹ میں بھی دستاویزی ثبوت دیا گیا ہے کہ طالبان کمانڈرز نے ٹی ٹی پی کو جدید ہتھیار فراہم کیے جن میں ایم 24 اسنائپر رائفلیں، اے سی او جی اسکوپس والی ایم 4 کاربائنز اور تھرمل اسکوپس والی ایم 16 اے 4 رائفلیں شامل ہیں۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے انسداد دہشتگردی کارروائیوں کے دوران سینکڑوں ایسے ہتھیار برآمد کیے ہیں جن پر امریکی حکومت کی ملکیت کے نشانات ہیں۔ وانا کے قریب ایک ملٹری کیڈٹ کالج پر ٹی ٹی پی کے خودکش حملے کے بعد برآمد ہونے والی ایم16 رائفلیں سی این این کے رپورٹرز کو دکھائی گئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تنظیمیں ٹی ٹی پی اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) یہ جدید امریکی ساختہ ہتھیار استعمال کر رہی ہیں، جن میں ایم 4 اور ایم 16 رائفلیں، ایم249 مشین گنیں، ریمنگٹن اسنائپر رائفلیں اور نائٹ ویژن آلات شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: سابق افغان ڈپٹی اسپیکر عبدالظاہر قدیر منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ کے الزام میں امریکا منتقل
امریکا نے اگست 2025 میں بی ایل اے کو باضابطہ طور پر دہشتگرد تنظیم قرار دیا تھا۔ ماہرین کے مطابق ان ہتھیاروں کی دستیابی نے حملوں کو زیادہ مہلک اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔
A new CNN documentary reveals that US-supplied weapons from Afghanistan's former govt are now being used by TTP militants in attacks inside Pakistan. Investigators traced US government-marked rifles,a direct consequence of Kabul's collapse and weapons proliferation to terrorists. pic.twitter.com/cfjrBNyPAd
— Sabahatnoor (@sabahatnoor169) October 25, 2026
سی این این کی رپورٹ کے دیگر حقائق اپنی جگہ لیکن اس کی جانب سے ٹی ٹی پی دہشتگردوں کو بیان کرنے کے لیے ’ملیٹنٹس‘ کی اصطلاح کا استعمال انتہائی تشویشناک ہے۔ ٹی ٹی پی ایک نامزد دہشتگرد تنظیم ہے جو پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف مہلک حملوں کی ذمہ دار ہے۔ اس کے ارکان کو ملیٹنٹس کہنا ان کی دہشتگرد سرگرمیوں کو معمول پر لانے اور ان کے جرائم کی سنگینی کو کم کرنے کا خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر یورپ کی تشویش میں اضافہ، طالبان پر شدید عالمی دباؤ
ذمہ دارانہ صحافت درست اور غیر مبہم اصطلاحات کا تقاضا کرتی ہے کہ دہشتگردوں کی شناخت دہشتگرد کے طور پر کی جانی چاہیے نہ کہ نرمی سے ملیٹنٹس کے طور پر لیبل لگانا چاہیے۔











